بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میاں بیوی کے مابین جھگڑا ہوا اور عورت جدا ہو کر میکے چلی گئی۔ اس بات کو چھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران یہ عورت کبھی شوہر کے گھر نہیں آئی، اب دونوں خاندان صلح کرنا چاہتے ہیں، لیکن خاندان کے کچھ بڑے لوگوں کا کہنا ہے کہ اتنا عرصہ الگ رہنے کی وجہ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا اب بغیر نکاح کے صلح نہیں ہو سکتی۔ آپ اس حوالے سے حکمِ شرعی بیان فرما دیں۔
نوٹ: شوہر کا بیان ہے کہ اس نے آج تک کبھی کوئی تحریری یا زبانی طلاق نہیں دی۔
نکاح ایک شرعی عقد ہے، جس کی وجہ سےعقد كرنے والی عورت اپنے شوہر کی زوجیت میں آ جاتی ہے، پھر اس عقد کو ختم کرنے اور اس شخص کی زوجیت سے جدا ہونے کے لئے بھی شریعتِ مطہرہ نے ایک طریقہ وضع کیا ہے، جس کو طلاق کہتے ہیں (خواہ وہ کسی بھی صورت میں ہو)، لہذا جب تک شوہر زندہ ہو اور مسلمان رہے، عمومی صورت میں طلاق کے بغیر یہ عورت اس شخص کی زوجیت سے جدا نہیں ہو سکتی۔ لہذا جب تک شوہر طلاق نہ دے سوال میں مذکور میاں بیوی کا نکاح بدستور قائم و باقی ہے، ایسی صورت میں بغیر نکاح کے صلح کرنا شرعاً جائز ہے۔
چنانچہ عقدِ نكاح سے زوجیت کا تعلق قائم ہونے کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے:
”فهو عقد يرد على ملك المتعة قصدا“
ترجمہ: نکاح ایسا عقد ہے، جو قصداً ملکِ متعہ (زوجیت) کے لئے واقع ہوتا ہے۔ (الفتاوی العالمگیریہ، جلد 1، صفحہ 267، مطبوعہ المطبعۃ الکبری، مصر )
بہارِ شریعت میں ہے: ” نکاح سے عورت شوہر کی پابند ہو جاتی ہے۔ اس پابندی کے اُٹھا دینے کو طلاق کہتے ہیں “۔ (بہارِ شریعت، جلد2، صفحہ 110، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی )
طلاق وغیرہ متعین صورتوں کے بغیر، محض میاں بیوی کے جدا رہنے سے نکاح ختم نہیں ہوتا، چنانچہ امامِ محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنی کتاب ”الحجۃ علی اھل المدینہ“ میں اس حوالے سے ایک مکمل باب باندھا ہے:
”باب الرجل يؤسر إن امرأته لا تتزوج حتى يعلم له موت أو ارتداد أو طلاق“
یعنی باب اس بارے میں کہ جو شخص اسیر ہو، اس کی عورت اس وقت تک کسی اور شخص سے نکاح نہیں کر سکتی، جب تک کہ اس کی موت، ارتداد یا طلاق کا علم نہ ہو جائے۔ (الحجۃ علی اھل المدینہ، جلد 4، صفحہ 67، مطبوعہ عالم الکتب، بیروت )
یونہی امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) سے سوال ہوا کہ نصیبن نامی خاتون اپنے شوہر کے گھر سے کسی اور کے ہاں چلی گئی اور اس بات کو دس سال گزر گئے، تو کیا اب وہ دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے یا ابھی تک طلاق نہیں ہوئی؟ تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”جبکہ زید نے ہنوز (ابھی تک) طلاق نہ دی، نصیبن بدستور اس کے نکاح میں باقی ہے“۔ (فتاوی رضویہ، جلد11، صفحہ 313 ، 314، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
میاں بیوی کے محض جدا رہنے سے طلاق واقع نہ ہونے کے متعلق صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) سے سوال ہوا کہ ایک شخص اٹھارہ سال سے اپنی زوجہ سے الگ ہے، تو کیا اس سے نکاح ختم ہوگیا ؟ تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”اگر طلاق نہ دی ہو، تو دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں، اٹھارہ سال باہر رہنے سے نکاح نہیں ٹوٹا“۔ (فتاویٰ امجدیہ، جلد2، صفحہ24، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
یونہی حضرت مفتی محمد خلیل خان البر کاتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ”فتاوی خلیلیہ“ میں لکھتے ہیں: ’’کسی مجبوری و ضروت کے ما تحت یا بلا ضرورت عورت سے دور رہا، تو محض اس دوری سے نکاح نہیں ٹوٹتا‘‘ (مزید اسی میں ہے) ’’عورت کے گھر بیٹھ جانے سے نہ تو نکاح ختم ہوتا ہے اور نہ طلاق پڑتی ہے، نکاح و مہر بدستور قائم رہتا ہے اور جب نکاح باقی ہے تو اس صورت میں عورت کہیں اور نکاح نہیں کر سکتی‘‘۔ (فتاوی خلیلیہ، جلد3، صفحہ 155، 173، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-9697
تاریخ اجراء: 03 رجب المرجب 1447ھ/24 دسمبر2025ء