logo logo
AI Search

کئی بار ظہار کیا تو کتنے کفارے لازم ہوں گے ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

متعدد بار ظہار کرنے پر کتنے کفارے لازم ہوں گے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر زید نے اپنی بیوی کو کئی مرتبہ اپنی محرم سے اس طرح تشبیہ دی ہو، جس سے ظہار ثابت ہوتا ہے، تو کیا سب کو ملا کر ایک کفارہ کافی ہے، یا الگ الگ کفارےدینے ہوں گے؟

جواب

اگر کسی شخص نے ایک سے زائد بار ظہار کیا، اگرچہ ایک ہی مجلس میں، تو جتنی بار ظہار کیا، اُتنے ہی کفارے لازم ہوں گے، البتہ! اگر یہ کہتا ہے کہ بار بار بولنے سے متعدد ظہار مقصود نہیں تھے، بلکہ تاکید مقصود تھی (پہلی بات کو ہی دہرانے کی نیت تھی) تو اگر ایک ہی مجلس میں ایسا ہوا، تومان لیں گے، اور متعدد کفارے لازم نہیں ہوں گے، اور اگر مختلف مجالس میں ایسا ہوا، تو پھر نہیں مانیں گے، تو جتنی بار ظہار کیا، اُتنے ہی کفارے لازم ہوں گے۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے

”(ظاھر من امراتہ مراراً فی مجلس او مجالس فعلیہ لکل ظھار کفارۃ، فان عنی التکرار) والتاکید (فان بمجلس صدق) قضاء (والا لا )“

ترجمہ: کسی نے اپنی بیوی سے  ایک یا ایک سے زیادہ مجلسوں میں چند بار ظہار کیا، تو اس پر ہر ظہار کا الگ کفار ہو گا، پس اگر وہ کہے کہ میں نے دوبارہ کہنے سے تکرار اور تاکید کا ارادہ کیا ہے، تو اگر ایک ہی مجلس میں ایسا ہو تو اس کی قضاءً تصدیق کی جائے گی، ورنہ (یعنی اگر مجلس مختلف ہو) تو اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 5، صفحہ 134، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے "ایک عورت سے چند بار ظہار کیا تو اُتنے ہی کفارے دے اگرچہ ایک ہی مجلس میں متعدد بار الفاظ ظہار کہے اور اگر یہ کہتا ہے کہ بار بار لفظ بولنے سے متعدد ظہار مقصود نہ تھے بلکہ تا کید مقصود تھی، تو اگر ایک ہی مجلس میں ایسا ہوا مان لیں گے ورنہ نہیں۔" (بہارِ شریعت، جلد 2، حصہ8، صفحہ 209، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4656
تاریخ اجراء: 02 شعبان المعظم1447ھ/22 جنوری 2026ء