طلاق کے بعد رجوع کرنے سے طلاق ختم ہوجاتی ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
رجوع کر لینے سے طلاق ختم نہیں ہوتی
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا رجوع کر لینے سے پہلی طلاق ختم ہو جاتی ہے؟
جواب
طلاق ہو جانے کے بعد رجوع کرنے سے وہ طلاق ختم نہیں ہوتی، بلکہ باقی رہتی ہے، لہذا اگر ایک طلاق ہوئی تھی، تو آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اور اگر دو طلاقیں ہوئی تھیں، تو آئندہ صرف ایک طلاق کا اختیار رہ جائے گا، جس صورت میں دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس صورت میں جب کبھی مزید دو طلاقیں دے گا، تو تین پوری ہو جائیں گی، اور جس صورت میں صرف ایک طلاق کا اختیار تھا، اس صورت میں مزید ایک طلاق دے گا، تو عورت اس پر حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی۔
صحیح بخاری شریف میں ہے
”عن انس بن سیرین قال: سمعت ابن عمر، قال: طلق ابن عمر امراتہ وھی حائض فذکر عمر للنبی صلی اللہ علیہ وسلم، فقال: لیراجعھا، قلت: اتحتسب؟ قال: فمہ؟“
ترجمہ: حضرت انس بن سیرین رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، فرمایا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کویہ فرماتے ہوئے سنا: ابن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی، پس حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو یہ بتایا، تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چاہیے کہ وہ رجوع کر ے۔ (حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں:) میں نے عرض کی: کیا اس طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ تو حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا: کیوں نہیں؟ (صحیح البخاری، صفحہ 987، حدیث: 5252، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے
”وإذا طلقها ثم راجعها يبقى الطلاق وإن كان لا يزيل الحل والقيد في الحال لأنه يزيلهما في المآل حتى انضم إليه ثنتان كذا في محيط السرخسي“
ترجمہ: اور جب بیوی کو ایک طلاق دی پھر رجوع کر لیا تو طلاق باقی رہے گی، اگرچہ وہ فی الحال حلت کو اور نکاح کی قید کو ختم نہیں کر تی، کیونکہ بعد میں جب اس کے ساتھ دو طلاقیں مزید مل جائیں گی، تو وہ حلت کو اور نکاح کی قید کو زائل کر دے گی۔ اسی طرح محیط سرخسی میں ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، صفحہ 348، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4755
تاریخ اجراء: 29 شعبان المعظم1447ھ/18 فروری 2026ء