تین طلاق کے بعد ساتھ رہنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تین طلاقوں کے بعد عورت کی رضا مندی سے بغیر حلالہ اکٹھے رہنا کیسا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ (1) زید نے اپنی مدخولہ بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دیدیں، تو کیا وہ طلاقیں واقع ہو جائیں گی، جبکہ اس سے پہلے کبھی کوئی طلاق واقع نہ ہوئی ہو؟
(2) زید کو کسی نے کہا ہے کہ طلاق کے بعد رجوع کے لئے بیوی کی رضا مندی کا اعتبار ہوتا ہے، یعنی ایک ساتھ تین یا تین سے زیادہ طلاقیں یا الگ الگ طہر میں دی جانے والی تین طلاق کے بعد بھی بیوی رجوع کرنے پر راضی ہو، تو بغیر حلالہ کے رجوع کر سکتے ہیں اور اگر بیوی ایک طلاق کے بعد بھی راضی نہیں ہے، تو پھر رجوع نہیں ہو سکتا، تو اس بارے میں رہنمائی فرما دیجئے، زید کی بیوی بھی اس سے رجوع کرنے پر راضی ہے۔
جواب
(1) پوچھی گئی صورت میں زید کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور وہ بائنہ مغلظہ ہو کر اس پر حرام ہو گئی ہے اور اب ان دونوں کے لئے بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ اکٹھے رہنے کی کوئی صورت باقی نہیں ہے۔ نیز اکٹھی تین طلاقیں دینا گناہ ہے، جس کی وجہ سے زید گنہگار ہوا، اس پر توبہ بھی لازم ہے۔
اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ-﴾ ترجمہ کنز الایمان: یہ طلاق دو بار تک ہے، پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے، یانکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے‘‘۔ (پارہ 2، سورۃ البقرہ، آیت 229)
پھر تیسری طلاق کے متعلق فرمایا: ﴿فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-﴾ ترجمہ کنز الایمان: پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے۔‘‘ (پارہ 2، سورۃ البقرہ، آیت 230)
(2) رجوع کے متعلق کسی کا کہنا کہ ’’رجوع کے لئے عورت کی رضا مندی کا اعتبار ہوتا ہے، خواہ تین طلاقیں ہوں یا ا س سے کم۔۔الخ‘‘ تو یہ بات کئی وجوہات کی بناء پر سراسر قرآن و حدیث کے خلاف، باطل و مردود اور نری جہالت ہے۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
(الف) طلاق رجعی کے بعد عدت کے دوران رجوع کے لئے بیوی کی رضا مندی ضروری نہیں، حتی کہ عورت انکار بھی کرے، تب بھی شوہر کے رجوع کر لینے سے رجوع ہو جائے گا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًاؕ-﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور ان کے شوہر اس مدت کے اندر انہیں پھیر لینے کا حق رکھتے ہیں اگر وہ اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں۔ (پارہ 2، سورۃ البقرہ، آیت 228)
اس آیت کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے: ’’شوہروں کو رجعی طلاق میں عدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے۔ آیت میں ’’اَرَادُوْا‘‘کے لفظ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ طلاق رجعی میں رجوع کیلئے عورت کی مرضی ضروری نہیں صرف مرد کا رجوع کافی ہے۔ (تفسیرِ صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 348، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
تنویر الابصار و در مختار میں طلاقِ رجعی سے رجوع کے بارے میں ہے: ’’(ھی استدامۃ الملک القائم فی العدۃ) ای عدۃ الدخول حقیقۃً، اذ لا رجعۃ فی عدۃ الخلوۃ۔۔ (ان لم یطلق بائنا وان ابت)‘‘ ترجمہ: (رجوع) عدت کے اندر قائم ملکیت کو باقی رکھنا ہے، عدت سے مراد حقیقتاً دخول کی عدت ہے، کیونکہ خلوت کی عدت میں رجعت کا حق نہیں ہوتا،۔۔ (یہ رجوع تب ھی ہو سکتا ہے) جبکہ طلاق بائن نہ ہوئی ہو، پھر اگرچہ عورت انکار کرے (رجوع درست ہو جائے گا)۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، جلد 5، صفحہ 26 تا 29، مطبوعہ پشاور)
(ب) تین طلاقیں واقع ہو جانے کے بعد بغیر حلالہ شرعیہ رجوع کی گنجائش باقی نہیں رہتی، اس صورت میں عورت اگرچہ رجوع کرنے پر راضی ہو، تب بھی یہ کافی نہیں ہے۔ اوپر سورت بقرہ کی آیت پاک میں تین طلاقوں کے بعد رجوع کا حکم واضح ہے، نیز اس کے تحت تفاسیر میں بھی یہی تشریح موجود ہے کہ تین طلاقوں کے بعد رجوع کا حل فقط حلالہ شرعیہ ہے۔
ذکر کردہ آیت کے تحت تفسیر قرطبی میں ہے: ’’واجمعوا على ان من طلق امراته طلقة او طلقتين فله مراجعتها، فان طلقها الثالثة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره وكان هذا من محكم القرآن الذي لم يختلف في تاويله‘‘ ترجمہ: علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے، تو اسے بیوی سے رجوع کا اختیار ہے، لیکن اگر تیسری طلاق بھی دیدے، تو بیوی حلال نہیں ہو گی جب تک کہ کسی دوسرے سے نکاح نہ کر لے اور یہ آیت قرآن کریم کی محکم آیات میں سے ہے جن کی تاویل میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (تفسیرِ قرطبی، سورۃ البقرہ، تحت آیت 229، جلد 3، صفحہ 128، مطبوعہ قاھرہ)
تین طلاق کے بعد رجوع کے لئے فقط عورت کی رضا مندی کافی نہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: ’’ان امراة رفاعة القرظي جاءت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، ان رفاعة طلقني فبت طلاقي واني نكحت بعده عبد الرحمن بن الزبير القرظي وانما معه مثل الهدبة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لعلك تريدين ان ترجعي الى رفاعة؟ لا، حتى يذوق عسيلتك وتذوقي عسيلته ‘‘ ترجمہ: حضرت رفاعہ قرظی کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں، عرض کی: یا رسول اللہ! رفاعہ نے مجھے طلاق دی تو قطعی طلاق دیدی، میں نے ان کے بعد عبد الرحمن بن زبیر قرظی سے نکاح کیا، تو ان کو کپڑے کی گرہ کی طرح پایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تو چاہتی ہے کہ رفاعہ سے رجوع کر لے؟ تم رجوع نہیں کر سکتی حتی کہ وہ تیرا مزہ نہ چکھ لے اور تو اس کا مزہ نہ چکھ لے۔ (صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب من اجاز طلاق الثلاث، جلد 2، صفحہ 791، مطبوعہ کراچی)
مشکوۃ المصابیح میں یہ الفاظ ہیں: ’’فقال: اتريدين ان ترجعي الى رفاعة؟ قالت: نعم قال: لا حتى تذوقي عسيلته۔۔الخ‘‘ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو رفاعہ سے رجوع کرنا چاہتی ہے؟ عرض کی: جی ہاں۔ فرمایا: تم رجوع نہیں کر سکتی حتی کہ تو ا س کا مزہ نہ چکھ لے۔۔۔الخ۔ (مشکوۃ المصابیح، کتاب النکاح، باب مطلقۃ ثلاثاً، جلد 2، صفحہ 293، مطبوعہ لاہور)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ’’(فطلقني فبت طلاقي): اي: قطعه فلم يبق من الثلاث شيئا وقيل طلقني ثلاثا وهو يحتمل الجمع والتفريق‘‘ ترجمہ: (مجھے قطعی طلاق دیدی) یعنی قطعی طلاق دی تو اب تین (طلاقوں) میں سے کچھ باقی نہیں رہا اور (ایک روایت میں) کہا گیا ہے کہ انہوں نے مجھے تین طلاقیں دیدیں اور یہ الگ الگ اور اکھٹی تین طلاقیں دینے دونوں کا احتمال رکھتا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب النکاح، باب مطلقۃ ثلاثاً، جلد 6، صفحہ 403، مطبوعہ کوئٹہ)
(ج) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے فیصلوں سے بھی یہی ثابت ہے کہ تین طلاق کے بعد رجوع کا طریقہ فقط حلالہ شرعیہ ہے، اس کے بغیر محض عورت کا رجوع کے لئے رضا مندی کافی نہیں۔ متعدد احادیث میں سے چند ملاحظہ فرمائیں:
سنن دار قطنی میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ’’طلق بعض آبائي امرأته ألفا فانطلق بنوه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم , فقالوا: يا رسول الله إن أبانا طلق أمنا ألفا فهل له من مخرج؟ فقال: إن أباكم لم يتق الله فيجعل له من أمره مخرجا , بانت منه بثلاث على غير السنة, وتسعمائة وسبعة وتسعون إثم في عنقه‘‘ ترجمہ: ہمارے آباء میں سے کسی نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دیں، تو اس کی اولاد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے باپ نے ہماری ماں کو ہزار طلاقیں دے دیں ہیں، کیا ان کے لئے کوئی راستہ ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا باپ اللہ سے نہیں ڈرا تو اللہ اس کے لئے کیا صورت پیدا کرے، اس کی بیوی تو خلاف سنت طریقہ پر تین طلاق سے ہی اس سے بائن (جدا) ہو گئی اور بقیہ نو سو ستانوے طلاقوں کا گناہ اس کی گردن پر ہے۔(سنن دار قطنی، کتاب الطلاق والخلع والایلاء وغیرہ، جلد 5، صفحہ 36، مطبوعہ بیروت)
حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حائضہ کی طلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے وہی بتایا جو رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ: ’’اما انت فطلقت امراتك واحدة او اثنتين فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد امرني بهذا واما انت فطلقت ثلاثا فقد حرمت عليك حتى تنكح زوجا غيرك وقد عصيت ربك فيما امرك به من الطلاق‘‘ ترجمہ: اگر تو نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رجعت کا حکم فرمایا اور اگر تو نے تین طلاقیں دے دیں ہیں، تو وہ تجھ پر حرام ہو گئی ہے حتی کہ وہ کسی اور خاوند سے نکاح نہ کر لے، اور (اکھٹی تین طلاقیں دیکر)تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اس معاملے میں جو طلاق کے بارے میں اس نے تجھے حکم دیا۔ (سنن دار قطنی، کتاب الطلاق والخلع والایلاء وغیرہ، جلد 5، صفحہ 52، مطبوعہ بیروت)
حضرت سیدنا امام حسن بن علی المرتضی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ايما رجل طلق امراته ثلاثا عند كل طهر تطليقة او عند راس كل شهر تطليقة او طلقها ثلاثا جميعا لم تحل حتى تنكح زوجا غيره ‘‘ ترجمہ: جو شخص بھی اپنی بیوی کو تین طہروں میں یا ہر ماہ کے شروع میں یا اکھٹی تین طلاقیں دے، تو وہ اس کے لئے حلال نہیں ہو گی حتی کہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے۔ (سنن دار قطنی، کتاب الطلاق والخلع والایلاء وغیرہ، جلد 5، صفحہ 56، مطبوعہ بیروت)
ان تمام دلائل سے واضح ہوا کہ طلاق کے بعد رجوع کے لئے شریعت کی جانب سے اصول مقرر ہیں، جیسا کہ تین طلاقوں کے بعد بغیر حلالہ رجوع کی گنجائش باقی نہیں رہتی، لہذا تین طلاقیں واقع ہو جانے کے بعد زید کی زوجہ اگرچہ رجوع پر آمادہ ہو، پھر بھی بغیر حلالہ ان کا میاں بیوی کی طرح اکھٹے رہنا ناجائز و حرام اور سخت گناہ ہے اور سوال میں ذکر کردہ قول محض باطل و مردود ہے۔ اللہ کریم عقل سلیم اور شریعت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7422
تاریخ اجراء: 03 رمضان المبارک 1445ھ/14 مارچ 2024ء