logo logo
AI Search

طلاقِ رجعی کی عدت میں عورت کا باہر نکلنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

طلاق رجعی کی عدت میں عورت کا گھر سے باہر نکلنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے سنا ہے کہ طلاق رجعی کی عدت میں عورت کو زینت کرنا منع نہیں ہے، کیا اسی طرح اگر بالغہ عورت کو طلاق رجعی دی گئی ہو تو طلاق رجعی کی عدت میں شوہر کی اجازت کے ساتھ یا اجازت کے بغیر دونوں صورتوں میں عورت گھر سے باہر بھی جاسکتی ہے ؟ مثلا عورت اگر کسی دینی مدرسہ میں پڑھتی یا پڑھاتی ہے تو کیا اسے اجازت ہوگی کہ وہ طلاق رجعی کی عدت میں مدرسے جاتی رہے؟

جواب

طلاق رجعی میں اگر عورت کو امید ہو کہ شوہر رجوع کرلے گا تو وہ زینت کرسکتی ہے بلکہ اس کیلئے زینت کرنا مستحب ہے، لیکن گھر سے باہر جانے کا حکم یہ ہے کہ طلاق بائن کی عدت کی طرح طلاق رجعی میں بھی بالغہ عورت بلاحاجت شرعی گھر سے باہر نہیں جاسکتی، بلکہ شوہر اگر اجازت بھی دے تب بھی نہیں جاسکتی، ناجائز و گناہ ہوگا، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں طلاق رجعی کی عدت میں بھی دینی مدرسے میں پڑھنے یا پڑھانے کیلئے عورت نہیں جاسکتی۔

طلاق رجعی کی عدت میں عورت کیلئے زینت کرنا مستحب ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے:”ولا احداد على المطلقة طلاقا رجعيا لأنه يجب اظهارا للمصيبة على فوت نعمة النكاح، والنكاح بعد الطلاق الرجعی غير فائت بل هو قائم من كل وجه فلا يجب الحداد بل يستحب لها أن تتزين لتحسن فی عين الزوج فيراجعها“ترجمہ: طلاق رجعی والی عورت پر سوگ لازم نہیں ہے کیونکہ سوگ، نکاح کی نعمت کے زائل ہونے پر پریشانی کے اظہار کیلئے لازم ہوتا ہے، جبکہ طلاق رجعی کے بعد تو نکاح فوت ہی نہیں ہوتا بلکہ ہرطرح سے قائم رہتا ہے، اس لئے سوگ لازم نہیں ہے بلکہ ایسی عورت کیلئے زینت کرنا مستحب ہے تاکہ شوہر کی نظروں میں وہ اچھی لگے اور شوہر رجوع کرلے۔ (بدائع الصنائع جلد 4، صفحہ 467، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: ”طلاق رجعی کی عدت میں عورت بناؤ سنگار کرے جبکہ شوہر موجود ہو اور عورت کو رجعت کی امید ہو اور اگر شوہر موجودنہ ہو یا عورت کو معلوم ہو کہ رجعت نہ کریگا تو تزیُّن نہ کرے۔ “ (بہارشریعت جلد 2، حصہ 8، صفحہ 176، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

عدت چاہے طلاق رجعی کی ہو یا بائن طلاق کی ہو، عورت کو گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے، قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:”یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْۚ-لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ)“ترجمہ کنزالایمان: ”اے نبی جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر انہیں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اپنے رب اللہ سے ڈرو، عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں مگر یہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں۔“ (پارہ 28، سورۃ الطلاق، آیت نمبر01)

اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے: ”جو عورت طلاق رجعی یا بائن کی عدت میں ہو، اس کو گھر سے نکلنا بالکل جائز نہیں۔“ (خزائن العرفان صفحہ 1032، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

مبسوط للامام السرخسی میں ہے:ولا ينبغی للمطلقة ثلاثا أو واحدة بائنة أو رجعية أن تخرج من منزلها ليلا ولا نهارا حتى تنقضي عدتها لقوله تعالى (وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ) ترجمہ: طلاق والی عورت کو عدت ختم ہونے تک اپنے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے، نہ رات میں اور نہ ہی دن میں۔ چاہے طلاقیں تین ہوں یا ایک بائنہ طلاق ہو یا رجعی ہو، کیونکہ اللہ پاک کا فرمان ہے: ”ترجمہ کنزالایمان: اور نہ وہ آپ نکلیں مگر یہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں۔“ (مبسوط للسرخسی جلد 6، صفحہ 37، مطبوعہ بیروت)

بدائع الصنائع میں ہے:”فان كانت معتدة من نكاح صحيح وهی حرة مطلقة بالغة عاقلة مسلمة والحال حال الاختيار فانها لا تخرج ليلا ولا نهارا سواء كان الطلاق ثلاثا أو بائنا أو رجعياترجمہ: اگر عورت نکاح صحیح کی عدت میں ہو اور عورت بھی آزاد، طلاق والی ہو، بالغہ، عاقلہ، مسلمہ ہو اور گھر سے نکلنے میں بھی اختیار والی حالت ہو (اضطراری حالت نہ ہو)تو وہ دن اور رات کسی بھی وقت میں گھر سے نہیں نکلے گی چاہے طلاقیں تین دی گئی ہوں یا ایک بائن طلاق ہو یا رجعی طلاق ہو۔ (بدائع الصنائع جلد4، صفحہ 453، مطبوعہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ”جو عورت طلاق رجعی یا بائن کی عدت میں ہے یا کسی وجہ سے فرقت ہوئی اگرچہ شوہر کے بیٹے کا بوسہ لینے سے اوراس کی عدت میں ہو یا خلع کی عدت میں ہو اگرچہ نفقہ عدت پر خلع ہوا ہو یا اس پر خلع ہوا کہ عدت میں شوہر کے مکان میں نہ رہے گی تو ان عورتوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں نہ دن میں نہ رات میں جبکہ آزاد ہوں یا لونڈی ہوجو شوہر کے پاس رہتی ہے اور عاقلہ، بالغہ، مسلمہ ہو اگرچہ شوہر نے اُسے باہر نکلنے کی اجازت بھی دی ہو۔ “ (بہار شریعت جلد2، حصہ 8، صفحہ244، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Gul-3383
تاریخ اجراء:22 رجب المرجب 1446 ھ/ 23 جنوری 2025 ء