ایک ساتھ تین طلاق دینے سے کتنی طلاقیں ہوتی ہیں ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تین طلاقیں دینے سے ایک ہی رجعی طلاق ہوتی ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص اپنی مدخولہ بیوی کو زبانی ایک ہی مجلس میں تینوں طلاقیں اکٹھی دے دے تو کیا ایک طلاق شمار ہوتی ہے، یا تینوں ہو جائیں گی؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک مجلس میں ایک سے زیادہ جتنی بھی طلاقیں دی جائیں ان سے ایک ہی طلاق رجعی واقع ہوتی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرما دیں۔
جواب
اگر کوئی شخص اپنی مدخولہ زوجہ کو تینوں طلاقیں اکٹھی ایک ہی مجلس میں دے دے تو زوجہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اور وہ اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جاتی ہے، تین طلاقیں واقع ہو جانے کے بعد دونوں کے لیے بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود اگر بغیر حلالۂ شرعیہ کے دونوں میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہیں تو حرام کے مرتکب ہوں گے۔ نیز ایک سے زیادہ طلاقیں ایک ہی مجلس میں اکٹھی دینا بھی گناہ ہے، جس کی وجہ سے شوہر گناہ گار ہوگا، شوہر پر اس گناہ سے توبہ بھی لازم ہے۔
اس شوہر کی عدت پوری ہونے کے بعد اگر عورت چاہے تو نکاح کی شرائط کو سامنے رکھ کر کسی دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے، کیونکہ قرآن و حدیث کے فیصلہ کے مطابق شوہر کو نکاح کے ساتھ یا بلا نکاح رجوع کرنے کا اختیار فقط دو رجعی طلاقوں تک حاصل ہوتا ہے، اگر تین طلاقیں دیدی جائیں، تو اب عورت اس سابق شوہر کے لئے بغیر حلالہ شرعیہ ہرگز حلال نہیں رہتی۔ پہلے شوہر کی عدت گزارنے کے بعد وہ آزاد ہے، جس سے چاہے، نکاح کے دیگر احکام و شرائط کو سامنے رکھ کر نکاح کر سکتی ہے، اور یہ نکاح عورت کی رضامندی سے ہوگا، اسے مجبور نہیں کرسکتے۔ اب اگر عورت دوسری جگہ نکاح کرلیتی ہے، تو دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا زندگی گزارنا میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے ہے، لیکن اس دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلقات (یعنی نکاح صحیح کے بعد جماع جس میں وطی بھی ضروری ہے) قائم ہونے کے بعد اگر اس سے بھی طلاق ہو جائے، یا اس دوسرے شوہر کا انتقال ہو جائے، تو اسکی عدت طلاق یا وفات گزارنے کے بعد یہ عورت اور اس کا سابقہ شوہر آپس میں پھر سے نکاح کرنا چاہیں، تو کر سکتے ہیں، جبکہ انہیں غالب گمان ہو کہ اب دوبارہ شروع ہونے والی ازدواجی زندگی میں اللہ عزوجل کی حدود قائم رکھ سکیں گے، اور ایک دوسرے کے حقوق ٹھیک طور پر ادا کر سکیں گے۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: ”فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ“۔ ترجمہ کنز الایمان: پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی، جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے، تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں، اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، جنہیں بیان کرتا ہے، دانشمندوں کے لیے۔ (پارہ: 2، سورۃ بقرۃ: 2، آیت: 230)
اپنی مدخولہ بیوی کو چاہے ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دی جائیں یا متفرق طور پر، ایک ہی مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ مجلس میں، لکھ کر دی جائیں یا زبانی، تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ مذکورہ بالا آیت مبارکہ سے پہلے دو طلاق کا ذکر ہے: ”اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ“۔ یعنی دو طلاق تک تو رجوع جائز ہے۔ پھر اس کے بعد فرمایا کہ ’’اگر شوہر تیسری طلاق دے تو بغیر حلالہ شرعیہ کے رجوع جائز نہیں ہے۔‘‘ اور اس آیت طیبہ کے شروع میں ’’فا‘‘ ہے۔ اور فا عربی زبان میں تعقیب کے لیے آتی ہے، خواہ تراخی کے ساتھ ہو یا بغیر تراخی۔ تو آیت اپنے اطلاق کے اعتبار سے اس صورت کو بھی شامل ہوئی کہ اسی مجلس میں تیسری طلاق دے، اس لیے آیت کے سیاق سے ثابت ’’ کہ ایک مجلس میں دی ہوئی تین طلاقیں تین ہی ہیں“۔
اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی اسی بات کی صراحت ہے کہ تین طلاقیں ایک ساتھ واقع کرنے سے تین طلاقیں ہی واقع ہوتی ہیں نہ کہ ایک۔ چنانچہ حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: ”کنت عند ابن عباس فجاءہ رجل فقال: إنہ طلق امرأتہ ثلاثا، قال: فسکت حتی ظننت أنہ رآدھا إلیہ، ثم قال: ینطلق أحدکم فیرکب الحموقۃ ثم یقول یابن عباس! یابن عباس! و إن اللہ قال: ”و من یتق اللّٰہ یجعل لہ مخرجا“ و إنک لم تتق اللہ، فلا أجد لک مخرجا، عصیت ربک و بانت منک امرأتک“۔ میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس موجود تھا، تو ایک شخص حاضر ہوا، اور عرض کی: میں نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں اکٹھی دے دی ہیں، راوی کہتے ہیں: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے، تو میں نے خیال کیا کہ شاید حضرت ابن عباس اس شخص کی زوجہ کو اس کی طرف واپس کر دیں گے، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی شخص زوجہ کو طلاق دیتے وقت حماقت سے کام لیتا ہے، پھر پکارتا ہے: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دیتا ہے“، اور بے شک تو نے اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں کیا، اس لیے میں تیرے لیے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا، تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے، اور تیری زوجہ تجھ سے بائن ہو گئی ہے۔ (سنن ابو داؤد، جلد 1، صفحہ 317، مطبوعہ لاھور)
اسی طرح مصنف عبد الرزاق جلد 6 ص 397 مطبوعہ کراچی اور مؤطا امام مالک میں ہے، واللفظ من المؤطا: ”إن رجلا قال لابن عباس: إنی طلقت امرأتی مائۃ تطلیقۃ، فما ذا تری علی؟ فقال لہ ابن عباس: طلقت منک بثلٰث و سبع و تسعون اتخذت بھا اٰیات اللہ ھزوا۔ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے عرض کی: میں نے اپنی زوجہ کو سو طلاقیں دے دی ہیں، آپ اس کے بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: تیری بیوی تین طلاقوں سے بائن ہو گئی، اور ستانوے طلاقوں سے تو نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے ٹھٹھا کیا۔ (مؤطا امام مالک، صفحہ 404، مطبوعہ لاھور)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مسلک بھی یہی ہے کہ ایک مجلس میں دی ہوئی تین طلاقیں تین ہی ہیں۔ چنانچہ حدیث پاک نقل کرتے ہیں: ”قال سھل: فتلاعنا و أنا مع الناس عند رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و سلم فلما فرغا قال عویمر: کذبت علیھا یارسول ﷲ! إن أمسکتھا، فطلقھا ثلاثا قبل أن یأمرہ رسول ﷲ“۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں(خاوند و زوجہ) نے مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے لعان کیا، اور میں بھی لوگوں کے ساتھ موجود تھا، پس جب وہ دونوں لعان سے فارغ ہو گئے، تو حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم! اب اگر میں اسے اپنے پاس رکھوں تو جھوٹا ہوں۔ لہذا انہوں نے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی تین طلاقیں دیدیں۔ (صحیح بخاری، جلد 2، صفحہ 791، مطبوعہ کراچی)
امام ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”عن سھل بن سعد فی ھٰذا الخبر قال: فطلقھا ثلاث تطلیقات عند رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فأنفذہ رسول ﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم“۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے ایک ساتھ تین طلاقیں دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہیں نافذ فرمادیا۔ (سنن ابی داؤد، باب فی اللعان، جلد 2، صفحہ 140، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
اسی طرح ائمہ اربعہ اور فقہائے کرام کے نزدیک بھی تین طلاقیں ایک مجلس میں دینے سے تین واقع ہو جاتی ہیں، اس میں کسی کا اختلاف نہیں۔ سیدی اعلیٰ حضرت مجدّدِ دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: ”ایک بار تین طلاق دینے سے نہ صرف نزد حنفیہ بلکہ اجماعِ مذاہب اربعہ تین طلاقیں مغلظہ ہو جاتی ہیں، امام شافعی، امام مالک، امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہم ائمہ متبوعین سے کوئی امام اس باب میں اصلاً مخالف نہیں،۔۔۔۔ یہاں تک کہ ائمہ دین نے فرمایا کہ اگر قاضی شرع حاکمِ اسلام ایسے مسئلہ میں ایک طلاق پڑنے کا حکم دے تو وہ حکم باطل و مردود ہے۔ وہابیہ غیر مقلدین اب اس مسئلہ میں خلاف اُٹھا رہے ہیں وہ گمراہ بددین ہیں، ان کی تقلید حلال نہیں“۔ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 410، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
کچھ لوگ مسلم شریف کی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی جس حدیث سے استدلال کرتے ہیں، جس میں یہ ذکر ہے، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سالوں میں تین کی ایک طلاق شمار ہوتی، اس کے بعد حضرت عمر نے تین طلاقوں کو تین شمار کیا، اس روایت کے بہت سے جوابات دئیے گئے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں: یہ روایت غیر صحیح و شاذ و معلل و مردود ہے۔ کہ یہ روایت قرآن مجید، احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ کی صراحت کے خلاف ہے۔
اس روایت کے شاذ معلل اور مردود ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما خود یہ فتوی دیتے تھے کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، جیسے کہ مؤطا امام مالک، مصنف عبد الرزاق اور سنن ابو داؤد کے حوالے سے پہلے روایات ذکر کی جا چکی ہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ متصور نہیں ہے کہ وہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ایک چیز روایت کریں اور فتوی اس کے خلاف دیں۔ کما فی فتح الباری شرح صحیح البخاری أنہ لا یظن بابن عباس أنہ یحفظ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم شیئاً ویفتی بخلافہ۔
جمہور فقہاء اسلام نے اولاً تو اس حدیث کے فنی سقم کی وجہ سے اس کو قبول نہیں کیا، ثانیاً برسبیل تنزل اس میں تاویل کی، اور کہا کہ دور رسالت اور دور صحابہ میں لوگ تاکید کی نیت سے تین طلاق دیتے تھے، بعد میں حضرت عمر کے دور میں لوگوں نے تین طلاقیں دینے کی نیت سے تین بار طلاق کہنا شروع کر دیا، اس لیے حضرت عمر نے ان کی نیات کے اعتبار سے ان تین طلاقوں کو تین طلاقیں ہی قرار دیا۔
ان جوابا ت سے واضح ہوگیا کہ حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کسی امر کو نہیں بدلا، بلکہ اسی چیز کو نافذ کیا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیث سے ثابت ہے۔جیسے کہ امام ترمذی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں، حضرت رکانہ کہتے ہیں: میں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے طلاق بتہ سے کیا مراد لیا تھا؟ میں نے عرض کی: ایک طلاق! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم بخدا ؟ میں نے عرض کی: قسم بخدا۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: پس یہ وہی طلاق ہے جس کا تم نے ارادہ کیا، یعنی ایک۔ (1) اس حدیث کو امام ابو داؤد نے تین اسانید کے ساتھ بیان کیا ہے۔ (2) امام ابن ماجہ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (3) اس حدیث سے ظاہر ہو گیا کہ مجلس واحد میں ایک ہی لفظ سے تین طلاقوں کا ارادہ کیا جائے، تو یہ جائز ہے، کیونکہ اگر یہ جائز نہ ہوتا، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرما دیتے کہ ایک مجلس میں ایک عبارت سے صرف ایک طلاق ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حضرت رکانہ سے طلاق کی تعداد کا دریافت کرنا، اور ان کی مراد پر قسم لینا، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مجلس واحد میں لفظ واحد سے تین طلاقیں موثر ہوجاتی ہیں، اور حضرت عمر نے جو فیصلہ نافذ کیا، وہ اس حدیث کے مطابق تھا، اور جمہور فقہاء اسلام کا نظریہ بھی اسی حدیث کے تابع ہے۔
اسی بات کو جاء الحق میں مفتی احمد یار خاں صاحب نعیمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس طرح بیان فرمایا کہ: ’’زمانہ نبوی اور زمانہ صدیقی میں لوگ تین طلاقیں اس طرح دیتے تھے، کہ تجھے طلاق ہے طلاق طلاق۔ مگر پچھلی دو طلاقوں سے پہلی طلاق کی تاکید کرتے تھے۔ اور زمانہ فاروقی میں لوگوں کا یہ حال بدل گیا، کہ وہ تین طلاقیں ہی دینے لگے، لہذا صورت مسئلہ بدلنے سے حکم بدل گیا۔ نووی شریف میں ہے: فالأصح أنّ معناہ أنہ کان فی الأمر الأول إذا قال لھا أنت طالق أنت طالق أنت طالق ولم ینو تاکیدا ولا استینافا یحکم بوقوع طلقۃ لقلۃ إرادتھم الإستیناف بذلک محمول علی الغالب الذی ھو إرادۃ التاکید، فلما کان فی زمان عمر رضی ﷲ عنہ وکثر إستعمال الناس بھذہ الصیغۃ وغلب منھم ارادۃ الاستیناف بھا حملت عنہ الإطلاق علی الثلث عملا بالغالب السابق الفھم منھا فی ذلک العصر۔ یعنی چونکہ زمانہ نبوی میں عام طور پر لوگ تین طلاقوں میں اول طلاق سے طلاق کی نیت کرتے، اور پچھلی دو سے تاکید کرتے تھے، اس لئے جو کوئی بغیر نیت کے بھی ایک دم تین طلاقیں دیتا، تو ایک ہی مانی جاتی تھی، کہ اس وقت غالب حال یہ ہی تھا، مگر زمانہ فاروقی میں لوگ عام طور پر تین طلاقوں سے تین ہی کی نیت کرنے لگے، اس لئے تین جاری کردی گئیں، صورت مسئلہ بدلنے سے حکم مسئلہ بدل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہندوستان میں آج کل کوئی طلاق کی تاکید جانتا بھی نہیں، تین ہی کی نیت سے طلاقیں دیتے ہیں، تو عجیب بات ہے کہ صورت مسئلہ کچھ اور حکم کچھ اور دیا جائے، اللہ غیر مقلدوں کو عقل دے، جس سے حدیث کا مقصد صحیح سمجھا کریں۔ (جاء الحق، حصہ دوم، ص 378، 389 مطبوعہ حسن پبلشرز، لاہور)
علامہ صاوی رحمہ اللہ نے اس مسئلے میں اختلاف کرنے والے سے متعلق وضاحت سے لکھا ہے کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کے وقوع نہ ہونے پر سوائے ابن تیمیہ کے کسی کا اختلاف نہیں ہے، وہ مجلس واحد میں تین طلاقوں کے دئیے جانے کی صورت میں ایک طلاق کے وقوع کا قائل ہے، ائمہ مذہب نے اسکا رد بلیغ فرمایا، یہاں تک کہ علماء نے اس کے بارے میں فرمایا، کہ یہ ضال (گمراہ) اور مضل (گمراہ کرنے والا) ہے۔ ’’أما القول بأن الطلاق الثلاث فی مرۃ واحدۃ لا یقع الا طلقۃ فلم یعرف الا لابن تیمیۃ من الحنابلۃ، وقد رد علیہ أئمۃ مذھبہ، حتی قال العلماء: انہ الضال المضل‘‘۔ (تفسیر صاوی، جلد اول، صفحہ 195)
دوسری حدیث جس سے بدمذہب استدلال کرتے ہیں، وہ حضرت رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی مسند امام احمد کی حدیث ہے، جس میں یہ ہے، کہ حضرت رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو ایک قرار دیا، اس روایت سے استدلال ہی درست نہیں، کیونکہ مسند احمد میں وارد حدیث رکانہ کئی وجوہات سے قابل استدلال نہیں ہے۔ وہ وجوہات درج ذیل ہیں۔
١۔ یہ حدیث دوسری کئی صحیح احادیث کے مقابلے میں درست نہیں ہے، حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ کی حدیث شریف کو امام ترمذی، امام ابو داؤد اور امام ابن ماجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے، مگر ان میں تین طلاقوں کے بجائے صرف ایک طلاق کا ذکر ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ روایت کرتے ہیں: ”عن عبد ﷲ بن یزید بن رکانۃ عن أبیہ عن جدہ قال: أتیت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فقلت: یارسول ﷲ! انی طلقت بامرأتی البتۃ، فقال: ما أردت بھا؟ فقلت: واحدۃ، فقال: وﷲ؟ قلت: وﷲ، قال: فھو ما أردت“۔ حضرت عبد اللہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، اور عرض کی: میں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دیدی ہے۔ تو سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس سے کیا ارادہ کیا تھا؟ میں نے عرض کی: ایک کا، تو فرمایا: اللہ کی قسم؟ تو میں نے عرض کی: اللہ کی قسم، تو سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو وہی ہے، جس کا تم نے رادہ کیا۔ (جامع الترمذی، صفحہ 140)
٢۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث مسند امام احمد بن حنبل پر دیگر روایتوں کو اصح فرمایا کہ جن میں ایک طلاق کا ذکر ہے، اس کی وجہ ترجیح ان الفاظ میں بیان فرمائی: ”قال أبو داؤد: وھذا أصح من حدیث ابن جریج، ان رکانۃ طلق امراۃ ثلاثاً، لأنھم أھل بیتہ وھم أعلم بہ“۔ امام ابو داؤد رضی اللہ نے فرمایا: یزید بن رکانہ سے مروی حدیث زیادہ صحیح ہے، بمقابلہ اس حدیث کے جو کہ جریج سے مروی ہے، کہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی تھیں۔ کیونکہ یہ حضرات اہلِ خانہ سے ہیں اور گھر کے افراد ہی اندر کی بات کو زیادہ جانتے ہیں۔ (سنن ابو داؤد، جلد 2، صفحہ 129، مطبوعہ: بیروت)
امام ترمذی اور امام ابو داؤد رحمہما اللہ نے یہی حدیث مختلف اسناد سے حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ کے فرزند یزید سے اور ان کے بعد عبد اللہ سے روایت کی ہے جو کہ حضرت رکانہ کے پوتے ہیں۔ مگر ان روایتوں میں کہیں بھی تین کا ذکر نہیں ہے۔ جبکہ مسند احمد بن حنبل میں یہ حدیث جریج سے روایت کی گئی ہے، اس میں تین طلاق کا ذکر ہے۔ یہ ایک معقول بات ہے، کہ اگر کسی خبر میں اختلاف ہو جائے، تو قریبی لوگوں ہی کی بات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ چنانچہ صورت مذکورہ میں بھی رکانہ رضی اللہ عنہ کے اہلبیت سے مروی حدیث کو ترجیح دی جائے گی۔
مسند احمد بن حنبل میں مروی حدیث علماءکے نزدیک ضعیف ہونے کی وجہ سے قابل استدلال نہیں ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ التلخیص الحبیر میں فرماتے ہیں: امام بخاری رحمہ اللہ نے مسند احمد والی روایت کو مضطرب اور معلل قرار دیا ہے۔ علامہ ابن عبد البر نے اس کو تمھید میں ضعیف قرار دیا ہے۔ علامہ ابن جوزی مسند احمد میں رکانہ رضی اللہ عنہ سے متعلق مروی حدیث میں لکھتے ہیں: ’’یہ حدیث صحیح نہیں ہے ‘‘۔ اس کی سند کا ایک راوی ابی اسحاق مجروح ہے۔ اور دوسرا راوی داؤد اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ امام ابن حبان نے کہا ہے کہ اس کی روایت سے بچنا واجب ہے۔ اور لفظ ”البتہ“ والی روایت صحت کے قریب ہے، اور مسند احمد والی روایت میں راویوں کی غلطی ہے۔ علامہ ابوبکر رازی جصاص احکام القرآن میں فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث منکر ہے‘‘۔
علامہ کمال الدین ابن ھمام رضی اللہ عنہ فتح القدیر میں فرماتے ہیں کہ رکانہ کی حدیث منکر ہے، اور صحیح روایت وہ ہے، جو ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے، کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق البتّہ دی تھی۔
انتہائی اختصار کے ساتھ اقوال علماء مسند احمد کی حدیث سے متعلق لکھ دیے ہیں، اور سب ہی کے نزدیک یہ حدیث ضعیف ہے، اب کوئی شخص ایسی روایت سے جو کہ قرآنی مفہوم کے خلاف ہے، اور دیگر صحیح روایات سے متعارض ہے، استدلال کرے، تو بڑا بے وقوف ہی کہلانے کا مستحق ہے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو اس بے وقوفی سے بچائے۔
سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن تین طلاقوں کے بعد دوبارہ بغیر حلالے کے اکٹھے رہنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں: ”برادری والوں کو چاہیے کہ اگر وہ مرد و عورت جدا نہ ہوں، تو ان کو برادری سے خارج کر دیں، ان سے سلام کلام نہ کریں، ان کے پاس نہ بیٹھیں، انہیں اپنے پاس نہ بیٹھنے دیں، اور وہ لوگ جو پہلے ان سے جدا ہو گئے تھے، اور اب مل گئے، اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں، بے جا کرتے ہیں، انہیں چاہیے، اس سے باز رہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ“، شیطان تجھے بھلا دیتا ہے تو یاد آنے پر ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھ۔ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 408، 409 رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
جنہوں نے ایک مجلس میں دو، تین یا اس سے زیادہ طلاقوں کے ایک ہونے کا فتوی دیا ہے وہ خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں، ان سے فتوی لینا اور اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔ جو بغیر علم کے فتوی دے اس کے بارے میں احادیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں، چنانچہ حدیث میں ہے: ”أفتوا بغیر علم فضلوا وأضلوا“۔ بے علم فتوی دیا تو آپ گمراہ ہوئے اور اوروں کو بھی گمراہ کیا۔
ایک اور حدیث میں ہے: ”من أفتی بغیر علم لعنتہ ملٰئکۃ السماء والأرض“۔ جو بغیر علم کے فتوی دے اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔ (بحوالہ فتاوی رضویہ، جلد 13، ص 124، 125 رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7427
تاریخ اجراء: 21 رمضان المبارک 1447ھ / 11 مارچ 2026 ء