logo logo
AI Search

مطلقہ عورت سے نکاح کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

طلاق یافتہ عورت سے نکاح کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا طلاق شدہ عورت سے نکاح نہیں کر سکتے ہیں؟ اگر میں کنوارا ہوں، اور طلاق شدہ سے نکاح کرنا چاہوں تو کیا گناہ ہے؟

جواب

جس عورت کو طلاق ہو گئی، اس کی عدت گزرنے کے بعد اس سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ قرآن پاک میں حرام کردہ عورتوں کے بیان کے بعد فرمایا گیا کہ ان کے علاوہ جو ہیں، وہ سب حلال ہیں۔ اور طلاق یافتہ عورت حرام کی گئی عورتوں میں شامل نہیں۔ البتہ! کنواری عورت سے اور جس سے اولاد زیادہ ہونے کی اُمید ہو، اس سے نکاح کرنا بہتر ہے۔

جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے، انہیں بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور ان کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں۔ (پارہ 5، سورۃ النساء، آیت 24)

حضرت زید رضی اللہ عنہ کے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دینے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمالیا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: ﴿فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآىٕهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا﴾ ترجمہ: پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہو جائے۔ (پارہ 22، سورۃ الاحزاب، آیت37)

تفسیر خزائن العرفان میں ہے "یعنی جب حضرت زید نے زینب کو طلاق دے دی ۔۔۔حضرت زینب کی عدّت گزرنے کے بعد ان کے پاس حضرت زید رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا پیام لے کر گئے اور انہوں نے سر جھکا کر کمالِ شرم و ادب سے انہیں یہ پیام پہنچایا، انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں اپنی رائے کو کچھ بھی دخل نہیں دیتی جو میرے ربّ کو منظور ہو اس پر راضی ہوں یہ کہہ کر وہ بارگاہِ الٰہی میں متوجّہ ہوئیں اور انہوں نے نماز شروع کر دی اور یہ آیت نازل ہوئی حضرت زینب کو اس نکاح سے بہت خوشی اور فخر ہوا، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس شادی کا ولیمہ بہت وسعت کے ساتھ کیا ۔" (تفسیر خزائن العرفان، تحت ھذہ الآیۃ، صفحہ 782، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”جب زید طلاق دے دے تو اب تین حیض کامل گزرنے کے بعد نصیبن کو حلال ہوگا کہ بکر خواہ غیر بکر جس سے چاہے نکاح کرلے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 314، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سنن ابی داؤد کی حدیث پاک میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ و سلم نے ان سے فرمایا: "«أتزوجت؟» قلت: نعم، قال: «بكرا أم ثيبا» فقلت: ثيبا قال: «أفلا بكر تلاعبها وتلاعبك»" ترجمہ: کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کی جی ہاں! فرمایا: کنواری سے یا غیر کنواری سے؟ میں نے عرض کی، غیر کنواری سے۔ فرمایا: کنواری سے کیوں نہیں؟ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ (سنن ابی داؤد، صفحہ 327، رقم الحدیث 2048، دار الکتب العلمیۃ، بيروت)

سنن ابن ماجہ کی حدیث پاک میں حضرت عبد الرحمن بن سالم رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: "عليكم بالأبكار، فإنهن أعذب أفواها، وأنتق أرحاما، وأرضى باليسير" ترجمہ: تم کنواری عورتوں سے نکاح کرو کہ وہ بہت شیریں زبان، بہت زیادہ صاف رحم والی اور معمولی مال پر زیادہ راضی ہو جانے والی ہوتی ہیں۔ (سنن ابن ماجہ، صفحہ 362، رقم الحدیث 1861، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

رد المحتار میں ہے: "ونكاح البكر أحسن للحديث «عليكم بالأبكار فإنهن أعذب أفواها، وأنقى أرحاما، وأرضى باليسير»" ترجمہ: کنواری عورت سے نکاح کرنا زیادہ اچھا ہے کیونکہ حدیث مبارک میں ہے "تم کنواری عورتوں سے نکاح کرو کہ وہ بہت شیریں زبان، بہت زیادہ صاف رحم والی اور معمولی مال پر زیادہ راضی ہو جانے والی ہوتی ہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب النکاح، جلد 4، صفحہ 76، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: "کوآری (کنواری) عورت سے اور جس سے اولاد زیادہ ہونے کی اُمید ہو نکاح کرنا بہتر ہے۔ سِن رسیدہ، اور بدخلق اور زانیہ سے نکاح نہ کرنا بہتر۔" (بہار شریعت، ج 2، حصہ 7، صفحہ 6، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5144
تاریخ اجراء: 11 محرم الحرام 1448ھ/27 جون 2026ء