logo logo
AI Search

طلاق کے بعد بچے کس کے پاس رہیں گے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

طلاق ہوجانے کی صورت میں بچے کس کے پاس رہیں گے

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میاں بیوی میں طلاق ہوجانے کی صورت میں بچے کے پاس رہیں گے؟

جواب

طلاق ہوجانے یا میاں بیوی کے علیحدہ ہونے کی صورت میں اولاد کا حق پرورش کس کو ہوگا، اس حوالے سے کچھ تفصیل ہے کہ لڑکا ہو تو اس کی عمر سات سال مکمل ہونے تک اُس کی پرورش کا حق ماں کو ہوتا ہے (جبکہ حقِ پرورش ساقط کرنے والا کوئی عمل نہ پایا جائے مثلاً ماں نے بچوں کے غیر محرم سے نکاح کرلیا تو اب بچوں کی پرورش کا حق ان کی ماں کو نہیں ملے گا۔ مزید بھی اس میں تفصیل ہے)، لڑکا جب پورے سات سال کا ہوجائے گا تو اس کے بعد اس کی پرورش کا حق والد کو حاصل ہو جاتا ہے کہ باپ اِس مرحلے میں بچے کی تعلیم و تربیت وغیرہا کے معاملات ماں کی بنسبت زیادہ اچھی طرح کر سکتا ہے، اسی طرح لڑکی ہو تو اس کی عمر نو سال مکمل ہونے تک اُس کی پرورش کا حق ماں کو ہوتا ہے اور نو سال مکمل ہونے کے بعد یہ حق والد کو حاصل ہو جاتا ہے۔ شریعت نے جس کے پاس بچے رکھنے کا حکم دیاہے، تو اسی کے پاس رہیں گے، دوسرے فریق کا زبردستی بچوں کو لے جانا یا اپنی پرورش میں رکھنا شرعاً جائز نہیں۔

لیکن یاد رہے کہ جب بچے والد کے پاس رہیں گے، یا والدہ کے پاس رہیں گے، تو اُن بچوں کی والدہ یا والد کو بچوں سے ملاقات کرنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ اگر والد، ماں کو بچوں سے ملاقات کرنے میں رکاوٹ بنے یا بچوں کو ماں سے دور کرنے کی کوشش کرے، تو یہ حرکت ناجائز، گناہ اور سخت حرام ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2511
تاریخ اجراء: 14 ربیع الآخر 1447ھ / 08 اکتوبر 2025ء