طلاق کے لیے گواہ کا ہونا یا بیوی کا سننا ضروری ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
طلاق واقع ہونے کے لیے گواہ ہونا یا بیوی کا سننا ضروری ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص اپنی مدخولہ زوجہ کو تین طلاقیں اکٹھی دے دے تو ان کے لیےکیا حکم ہو گا، اور ان کے لیے رجوع کی کیا صورت ہو گی؟ نیز طلاق واقع ہونے کے لیے گواہوں کا ہونا ضروری ہے یا شوہر بغیر گواہوں کے صرف زوجہ کی موجودگی میں طلاق دے تو بھی واقع ہو جاتی ہے؟
جواب
اگر کوئی شخص اپنی مدخولہ زوجہ کو تینوں طلاقیں اکٹھی دے دے تو وہ تینوں طلاقیں اسی وقت زوجہ پر واقع ہو جائیں گی اور وہ بائنہ مغلظہ ہو کر شوہر پر اسی وقت حرام ہو جائے گی، تینوں طلاقیں واقع ہونے کے بعد دونوں کے لیے بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ اکٹھے رہنے کی کوئی صورت نہیں۔ اگر تین طلاقیں واقع ہونے کے بعد بھی دونوں میاں بیوی کی طرح بغیر حلالہ شرعیہ کے رہیں گے تو سخت گنہگار ہوں گے، اس صورت میں ان دونوں کا ازدواجی تعلق زنا ہو گا۔ نیز ایک سے زیادہ طلاقیں ایک ہی مجلس میں اکٹھی دینا گناہ ہے، جس کی وجہ سے شوہر گناہ گار ہوگا، اس پر اس گناہ سے توبہ بھی لازم ہو گی۔
یہ خیال رہے کہ طلاق واقع ہونے کے لیے زوجہ کا یا کسی اور گواہ وغیرہ کا وہاں پر موجود ہونا یا الفاظ طلاق کو سننا ضروری نہیں ہے، اگر شوہر صرف زوجہ کے سامنے طلاق کے الفاظ کہے، یا کسی جگہ پر اکیلا ہو، جہاں کوئی انسان موجود نہ ہو، اس حالت میں وہ کہہ دے کہ میں اپنی زوجہ کو طلاق دیتا ہوں، یا طلاق کے اسٹام پیپر پر لکھ کر معروف طریقے سے زوجہ کو طلاق دے دے، تو بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
تین طلاقوں کے بعد عورت اپنے شوہر کی عدت پوری کرنے کے بعد چہاں چاہے، نکاح کی شرائط کو سامنے رکھ کر کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے، کیونکہ قرآن و حدیث کے فیصلہ کے مطابق شوہر کو نکاح کے ساتھ یا بلا نکاح رجوع کرنے کا اختیار فقط دو طلاق تک حاصل ہوتا ہے، اگر تین طلاقیں دیدی جائیں، تو اب عورت اس سابق شوہر کے لئے بغیر حلالہ شرعیہ ہرگز حلال نہیں رہتی، پہلے شوہر کی عدت گزارنے کے بعد وہ آزاد ہے، جس سے چاہے نکاح کے دیگر احکام و شرائط کو سامنے رکھ کر نکاح کرسکتی ہے، اور یہ نکاح عورت کی رضامندی سے ہوگا، اسے مجبور نہیں کرسکتے۔ اب اگر عورت دوسری جگہ نکاح کرلیتی ہے، تو دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا زندگی گزارنا میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے ہے، لیکن اس دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلقات (یعنی نکاح صحیح کے بعد جماع جس میں وطی بھی ضروری ہے) قائم ہونے کے بعد اگر اس سے بھی طلاق ہو جائے یا اس دوسرے شوہر کا انتقال ہو جائے، تواس کی عدت طلاق یا وفات گزارنے کے بعد یہ عورت اور اس کا سابقہ شوہر آپس میں پھر سے نکاح کرنا چاہیں، تو کر سکتے ہیں، جبکہ انہیں غالب گمان ہو کہ اب دوبارہ شروع ہونے والی ازدواجی زندگی میں اللہ عزوجل کی حدود قائم رکھ سکیں گے اور ایک دوسرے کے حقوق ٹھیک طور پر ادا کر سکیں گے۔
قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ“۔ ترجمۂ کنز الایمان: پھر اگر تیسری طلاق اسے دی، تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی، جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دیدے، تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں، اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، جنہیں بیان کرتا ہے، دانشمندوں کے لیے۔ (پارہ: 2 سورۃ البقرۃ: 2 آیت: 230)
اپنی مدخولہ بیوی کو چاہے ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دی جائیں یا متفرق طور پر، ایک ہی مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ مجلس میں، لکھ کر دی جائیں یا زبانی، تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ احادیث مبارکہ اور صحابۂ کرام کے اقوال و افعال اور ان کے سامنے پیش ہونے والے مقدمات پر ان کے فیصلوں کی رو سے بھی ایک ہی مجلس میں اکٹھی تین طلاقیں دینے سے تینوں واقع ہو جاتی ہیں، چنانچہ حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں:
”کنت عند ابن عباس فجاءہ رجل، فقال: انہ طلق امرأتہ ثلاثا، قال: فسکت، حتی ظننت أنہ رآدھا الیہ، ثم قال ینطلق أحدکم فیرکب الحموقۃ ثم یقول یابن عباس! یابن عباس! وان اللہ قال: ”وَ مَنْ یَّـتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا“ و انک لم تتق اللہ، فلا أجد لک مخرجا، عصیت ربک و بانت منک امرأتک“۔ میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس موجود تھا، تو ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی: میں نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں اکٹھی دے دی ہیں، راوی کہتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے، تو میں نے خیال کیا کہ شاید حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس شخص کی زوجہ کو اس کی طرف واپس کر دیں گے، پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی شخص زوجہ کو طلاق دیتے وقت حماقت سے کام لیتا ہے، پھر پکارتا ہے، اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دیتا ہے“، اور بے شک تو نے اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں کیا، اس لیے میں تیرے لیے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا، تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تیری زوجہ تجھ سے بائن ہو گئی ہے۔ (سنن ابو داؤد ج 1 ص 317، مطبوعہ لاھور)
اسی طرح مصنف عبد الرزاق اور مؤطا امام مالک میں ہے، واللفظ من المؤطا: ”ان رجلا قال لابن عباس انی طلقت امرأتی مائۃ تطلیقۃ، فما ذا تری علی؟ فقال لہ ابن عباس طلقت منک بثلث و سبع و تسعون اتخذت بھا آیات اللہ ھزوا“۔ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے عرض کی کہ میں نے اپنی زوجہ کو سو طلاقیں دے دی ہیں، آپ اس کے بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: تیری بیوی تین طلاقوں سے تجھ پر بائن ہو گئی ہے اور ستانوے طلاقوں سے تو نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے ٹھٹھا کیا ہے۔ (مؤطا امام مالک ص 404، مطبوعہ لاھور)
فتاوی عالمگیری میں ہے: ”ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاح صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ“۔ یعنی اگر آزاد عورت کو تین طلاقیں اور لونڈی کو دو طلاقیں دیں، تو وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ اس عورت سے وطی بھی کرے، پھر اس کو طلاق دے دے یا فوت ہو جائے، ہدایہ میں اسی طرح ہے۔ (فتاوی عالمگیری ج 1 ص 506، مطبوعہ کراچی)
سیدی اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ایک ہی مجلس میں تینوں طلاقیں اکٹھی دینے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”ایک بار تین طلاق دینے سے نہ صرف نزد حنفیہ بلکہ اجماع مذاہب اربعہ تین طلاقیں مغلظہ ہو جاتی ہیں، امام شافعی، امام مالک، امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہم ائمہ متبوعین سے کوئی امام اس باب میں اصلاً مخالف نہیں، صورت مستفسرہ میں ہندہ (عورت مذکورہ) پر تین طلاقیں ہو گئیں، ایک ساتھ تین طلاقیں دینا گناہ ہے، شوہر گناہگار ہوا اور عورت اس کے نکاح سے ایسی خارج ہوئی کہ اب بے حلالہ ہر گز اس کے نکاح میں نہیں آ سکتی، اگر یونہی رجوع کر لیا، بلا حلالہ نکاح جدید کر لیا، تو دونوں مبتلائے حرام کاری ہوں گے، اور عمر بھر حرام کاری کریں گے“۔ (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 410، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
طلاق واقع ہونے کے لیے زوجہ یا کسی اور کا طلاق کے الفاظ کو سننا ضروری نہیں ہے، سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن اور مقام پر فرماتے ہیں: ”طلاق کے لیے زوجہ خواہ کسی دوسرے کا سننا ضرور نہیں، جب کہ شوہر نے اپنی زبان سے الفاظ طلاق ایسی آواز سے کہے، جو اس کے کان تک پہنچنے کے قابل تھے، اگرچہ کسی غل شور یا ثقل سماعت کے سبب نہ پہنچی، عند اللہ طلاق ہو گئی“۔ (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 362، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
طلاق کے لئے گواہوں کا ہونا ضروری نہیں۔ چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ”شوہرِ اول طلاق دینے کا مقر (اقرار کرتا) ہے، مگر عذر صرف یہ کرتا ہے کہ طلاق خفیہ دی، چار اشخاص کے سامنے نہ دی، لہٰذا اپنی جہالت سے طلاق نہ ہونا سمجھتا ہے، اگر ایسا ہے، تو اس کا دعو ٰی باطل ہے، طلاق بالکل تنہائی میں دے، جب بھی ہوجاتی ہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 366، رضافاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7637
تاریخ اجراء: 02 ربیع الاول 1447ھ / 27 اگست 2025ء