logo logo
AI Search

نامرد سے طلاق پر مہر پورا ملے گا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ازدواجی معاملات پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں حق مہر کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک نامردآدمی ہے، جو جماع کی قدرت نہیں رکھتا، اس نے کسی عورت سے نکاح صحیح کے ساتھ شادی کی، شادی کے بعد زید اور اس کی بیوی کے درمیان خلوت صحیحہ ہوتی رہی (یعنی ایسی تنہائی کہ جس میں وہاں پران دونوں کے علاوہ کوئی نہ ہوتا اور وہ جماع کرنا چاہتے تو کر سکتے) لیکن وہ اپنی نامردی کی وجہ سے اس عورت سے ایک مرتبہ بھی دخول نہیں کرسکا، اس نے ایک سال تک علاج بھی کروایالیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اب زیدنے اپنے مرض کی وجہ سے باہمی رضامندی سے عورت کوطلاق دے دی ہے۔ پوچھنا یہ تھاکہ بوقت نکاح جو مہر مقرر کیا گیا تھا، زیدکی یہ بیوی وہ مہر لینے کی حق دار ہے یا نہیں؟ اگر لے گی تو پورا مہر لے گی یا آدھا؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب زید اور اس کی بیوی کے درمیان خلوت صحیحہ ہوچکی تو زیدکی یہ بیوی، نکاح میں جو مہر مقرر ہوا تھا، وہ پورا مہر لینے کی حق دار ہے اور بعد طلاق اس بیوی پر عدت بھی لازم ہے اور یہ عدت زیدکے گھر میں گزارے گی، جس میں نان و نفقہ زید پر لازم ہوگا۔

قرآن پاک میں ارشادخداوندی ہے: ﴿لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں۔ (سورۃ الطلاق،پ28،آیت01)

قرآن پاک میں ارشادخداوندی ہے:﴿وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍۙ- وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ  شَیْــٴًـاؕ- اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا(۲۰) وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ  قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا (۲۱)﴾ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو اور اُسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو کیا اسے واپس لوگے جھوٹ باندھ کر اورکھلے گناہ سے اور کیونکر اُسے واپس لو گے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں۔ (سورۃ النساء، پ 04، آیت 21، 20)

دوسری آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے "مسئلہ: یہ آیت دلیل ہے اس پر کہ خلوتِ صحیحہ سے مہر مؤکدہو جاتا ہے۔" (تفسیر خزائن العرفان، سورۃ النساء، آیت 21)

فتاوی ہندیہ میں ہے "و خلوة العنين و الخصي خلوة صحيحة، كذا في الذخيرة۔ ۔ ۔ ۔ تجب العدة في الخلوة سواء كانت الخلوة صحيحة أم فاسدة استحسانا لتوهم الشغل ۔ ۔ ۔ و أصحابنا أقاموا الخلوة الصحيحة مقام الوطء في حق بعض الأحكام دون البعض فأقاموها مقامه في حق تأكد المهر و ثبوت النسب و العدة و النفقة و السكنى في هذه العدة" ترجمہ: عنین اور خصی کی خلوت، خلوت صحیحہ ہے، اسی طرح ذخیرہ میں ہے۔ خلوت کی صورت میں عدت واجب ہوجاتی ہے، برابر ہے کہ وہ خلوت صحیحہ ہو یا فاسدہ، استحسانا، رحم کے مشغول ہونے کے وہم کی وجہ سے اور ہمارے اصحاب نے خلوت صحیحہ کو بعض احکام میں وطی کے قائم مقام کیا ہے اور بعض احکام میں نہیں کیا، پس انہوں نے مہر کے مؤکد ہونے، نسب کے ثابت ہونے، عدت، نفقہ اور اس عدت میں سکنی (رہائش) کے ثابت ہونے میں خلوت صحیحہ کو وطی کے قائم مقام کیا ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب النکاح، الباب السابع، الفصل الثانی، ج 01، ص 306، 305، کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے " زوج کا عنین ہونا مانع صحت نکاح نہیں، زوجہ عنین مثل دیگر زنان بے طلاق شوہر سے جُدائی کا اختیار نہیں رکھتی، خلوتِ صحیحہ اگر ہولی تو مہر تمام و کمال پائے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مردجب ہمبستری میں عورت کا حق ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو اس پر فرض ہے کہ عورت کوطلاق دے دے۔ ۔ ۔ بعد طلاق عورت عدّت بیٹھے اگر مرد خلوت کرچکا ہو اگرچہ اس پر قادر نہ ہُوا ہو۔ اُ س کے بعد جس سے چاہے نکاح کرلے۔" (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 495 - 496، رضا فاونڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے "شوہر کا عضو تناسل کٹا ہوا ہے یا انثیین نکال ليے گئے ہیں یا عنین ہے یا خنثیٰ ہے اور اس کا مرد ہونا ظاہر ہو چکا تو ان سب میں خلوتِ صحیحہ ہو جائے گی۔ خلوتِ صحیحہ کے بعد عورت کو طلاق دی تو مہر پورا واجب ہوگا، جبکہ نکاح بھی صحیح ہو ۔ ۔ ۔ خلوتِ صحیحہ کے یہ احکام بھی ہیں: طلاق دی تو عورت پر عدّت واجب، بلکہ عدّت میں نان و نفقہ اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب ہے۔ بلکہ نکاحِ صحیح میں عدّت تو مطلقاً خلوت سے واجب ہوتی ہے صحیحہ ہو یا فاسدہ۔" (بہار شریعت، ج 02، حصہ 07، ص 70، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری 
فتوی نمبر: Lar-10998
تاریخ اجراء: 28 ربیع الآخر 1443ھ / 04 دسمبر 2021ء