logo logo
AI Search

بھوسے پر عشر کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گندم کے بھوسے پر عشر ہوگا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ تو معلوم ہے کہ گندم پر عشر لازم ہوتا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ گندم کے بھوسے پر عشر لازم ہے یا نہیں؟

جواب

قوانین شرعیہ کے مطابق جس چیز سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو، اس پر عشر لازم ہوتا ہے اور جس چیز سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو، اس پر عشر لازم نہیں ہوتا۔ گندم کی فصل میں چونکہ گندم مقصود ہوتی ہے، اس کا بھوسہ مقصود نہیں ہوتا، لہٰذا گندم کے بھوسے پر عشر لازم نہیں ہے۔

بحر الرائق میں ہے:کل ما لا یقصد بہ استغلال الارض لا یجب فیہ العشر مثل السعف و التبن" ہر وہ چیز جس سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو، اس میں عشر واجب نہیں جیسے کھجور کے پتے اور بھوسہ۔ (بحر الرائق، ج 02، ص 415، مطبوعہ کوئٹہ)

تنویر الابصار و در مختار میں ہے: (الا فی) ما لایقصد بہ استغلال الارض (نحو حطب و حشيش) و تبن و سعف۔ ملخصا" مگر وہ چیزیں کہ جن سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو (اس میں عشر واجب نہیں) جیسے لکڑی، گھاس، بھوسہ اور کھجور کے پتے۔ (تنویر الابصار و در مختارمع رد المحتار، ج 03، ص 315، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: جو چیزیں ایسی ہوں کہ اُن کی پیداوار سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو اُن میں عشر نہیں۔ ملتقطا (بھار شریعت، ج 01، ص 917، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سرفراز عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Mul-1353
تاریخ اجراء: 24 شوال المکرم 1446ھ / 23 اپریل 2025ء