logo logo
AI Search

عورت کا مرد ڈینٹسٹ سے علاج کروانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کیا عورت مرد ڈ ینٹسٹ سے علاج کروا سکتی ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

عموماً تلاش کرنے پر ماہر لیڈی ڈاکٹر دستیاب ہوجاتی ہیں، لہذا اگر ماہر لیڈی ڈاکٹر میسر ہوسکے، تو مرد ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے کی اجازت نہیں ہوگی، کیونکہ دانتوں کے معائنے اور علاج کے دوران چہرہ کھولنے کی ضرورت پیش آتی ہے، جبکہ اجنبی مرد کے سامنے بلا ضرورت چہرہ کھولنے کی اجازت نہیں۔ البتہ اگر ماہر لیڈی ڈاکٹر نہ ملے، تو اب ضرورتاً مرد ڈاکٹر سے دانت کا معائنہ و علاج کروانا، جائز ہوگا۔ البتہ مجبوری کی صورت میں مرد ڈاکٹر کو چیک اپ کرواتے ہوئے عورت کے لیے چند باتوں کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے:

(1) صرف چہرہ اس احتیاط سے کھلا ہو کہ کان، ٹھوڑی کے نیچے کا حصہ اور پیشانی کے بال ظاہر نہ ہوں۔ اسی طرح چہرے پر کسی قسم کا میک اَپ، بناؤ سنگھارنہ ہو کہ عورت کے لیے اپنی زینت اجنبی مردوں کے سامنے ظاہر کرنا، سخت ناجائز و گناہ اور حکمِ قرآنی کے خلاف ہے۔ مزید یہ کہ چہرے کے علاوہ باقی اعضائے مستورہ جیسے کلائیاں، گلا وغیرہ کھلے ہوئے نہ ہوں۔ لباس بھی چست و باریک نہ ہو،بلکہ مکمل پردے کا لحاظ رکھ کر مرد ڈاکٹر سے چیک اَپ کروائے۔

(2) مرد ڈاکٹر کے ساتھ کچھ دیر کے لیے بھی خلوت و تنہائی نہ ہو، بلکہ کسی محرم مرد، شوہر یا دوسری عورت کی موجودگی میں چیک اپ کروائے۔

(3) دورانِ گفتگو بے تکلفی اور نرم و نزاکت والا لہجہ اختیار نہ کرے، بلکہ سنجیدہ اور عام سادہ انداز میں ضرورت کی حد تک بات چیت کرے۔

بلا ضرورت اجنبی مرد کے سامنے عورت اپنا چہرہ بھی نہیں کھول سکتی،چنانچہ تنویرالابصار مع درمختار میں ہے: ”(و تمنع) المرأۃ الشابۃ (من کشف الوجہ بین رجال لخوف الفتنۃ)“ ترجمہ: اور ( فی زمانہ) فتنے کے خوف کی وجہ سے جوان عورت کو مردوں کے سامنے اپنا چہرہ ظاہر کرنے سے بھی منع کیا جائے گا۔ (تنویر الابصار مع درمختار، جلد 2، صفحہ 95، دار المعرفہ، بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”عورت اگر نامحرم کے سامنے اس طرح آئے کہ اس کے بال اور گلے اور گردن، یا پیٹھ، یا کلائی، یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر ہو، یا لباس ایسا باریک ہو کہ ان چیزوں سے کوئی حصہ اس میں سے چمکے تو یہ بالاجماع حرام اور ایسی وضع و لباس کی عادی عورتیں فاسقات ہیں ۔ ۔ ۔ اور اگر تمام بدن سر سے پاؤں تک موٹے کپڑے میں خوب چھپا ہوا ہے، صرف منہ کی ٹکلی کھلی ہوئی، جس میں کوئی حصہ کان کا، یا ٹھوڑی کے نیچے کا، یا پیشانی کے بال کا ظاہر نہیں، تواب فتوی اس سے بھی ممانعت پر ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 509 - 510، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

البتہ علاج کی ضرورت کی وجہ سے اجنبی مرد کے سامنے عورت اپنا چہرہ کھول سکتی ہے اور اجنبی مرد ضرورتاً اس کی طرف دیکھ سکتا ہے، چنانچہ علامہ حسين بن محمود شیرازی حنفی رحمۃ اللہ علیہ ’’المفاتیح شرح المصابیح‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’و أما المرأة في حق الرجل الأجنبي فجميع بدنها عورة إلا وجهها و كفيها، و لا يجوز النظر إلى وجهها و كفيها أيضا إلا عند حاجة‘‘ ترجمہ: اور جہاں تک عورت کا معاملہ ہے، تو اجنبی مرد کے حق میں اس کا سارا بدن ستر عورت (چھپانے کی چیز)ہے، سوائے اس کے چہرے اور ہاتھوں کے۔ اور اس کے چہرے اور ہاتھوں کو بھی دیکھنا جائز نہیں، مگر کسی حاجت کے وقت۔ (المفاتیح شرح المصابیح،جلد4،صفحہ19،دار النوادر، وزارة الأوقاف الكويتيہ)

علامہ ملا علی قاریرحمۃ اللہ علیہ ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ میں فرماتےہیں: ’’و أما المرأة في حق الرجل الأجنبي فجميع بدنها عورة إلا وجهها و كفيها عند الحاجة‘‘ ترجمہ: بہرحال اجنبی مرد کے حق میں عورت کا پورا جسم ستر عورت (چھپانے کی چیز) ہے، سوائے حاجت کے وقت چہرے اور ہتھیلیوں کے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 5، صفحہ 2051، دار الفكر، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: ”اجنبیہ عورت کی طرف نظر کرنے میں ضرورت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ عورت بیمار ہے اس کے علاج میں بعض اعضا کی طرف نظر کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، بلکہ اس کے جسم کو چھونا پڑتا ہے۔ ۔ ۔ اس صورت میں موضعِ مرض کی طرف نظر کرنا یا اس ضرورت سے بقدرِ ضرورت اس جگہ کو چھونا، جائز ہے ۔ ۔ ۔ علاج کی ضرورت سے نظر کرنے میں بھی یہ احتیاط ضروری ہے کہ صرف اتنا ہی حصۂ بدن کھولا جائے جس کے دیکھنے کی ضرورت ہے باقی حصۂ بدن کو اچھی طرح چھپا دیا جائے کہ اس پر نظر نہ پڑے۔“ (بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 447،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اجنبی مردوں کے سامنے عورتوں کو زینت ظاہر کرنے کی ممانعت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ’’اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں یا اپنی (مسلمان) عورتوں یا اپنی کنیزوں پر جو ان کی ملکیت ہوں۔ (پارہ 18، سورۃ النور: 31)

مذکورہ بالا آیت نقل کرنے کے بعد مفتی محمد خلیل خان برکاتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”یعنی عورتیں اپنا بناؤ سنگھار، خواہ وہ جسم کا ہو یا متعلقات جسم لباس وغیرہ کا، کسی اجنبی پر ظاہر نہ ہونے دیں۔ اس کے تحت ہر وہ چیز آ جاتی ہے جو غیروں کے لیے شوق و رغبت کا باعث ہو، مثلاً حسن صورت، خوش خرامی، لباس، خوشبو، پاؤڈر غازہ وغیرہ؛ کیوں کہ اس سے میلان طبع پیدا ہوتا ہے اور لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے، اسے نظر اٹھا کر تکتے ہیں اور یہ شرافت نسوانی کے خلاف ہے۔ اب عورتیں اپنا بناؤ سنگھار غیروں کے لیے کرتی ہیں یا غیروں کے سامنے ایسی حالت میں آتی ہیں کہ مردوں کی نگاہیں خواہ مخواہ ان کی طرف اٹھیں تو لعنت الہی کی مستحق ہیں، یہ مضمون احادیث کریمہ میں جا بجا ارشاد فرمایا گیا ہے۔ (فتاوی خلیلیہ، جلد 3، صفحہ 170، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

عورت کو اعضاء مستورہ کھلے ہونے کی حالت میں غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے، چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’بے پردہ بایں معنی کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے، ان میں سے کچھ کھلا ہو جیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یا گلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز تو اس طور پر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے خواہ وہ پیر ہو یا عالم، یا عامی جوان ہو ، یا بوڑھا۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد 22، صفحہ 240، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

عورت کا اجنبی مرد وں سے بے تکلفی کے ساتھ بات چیت کرنا جائز نہیں، چنانچہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں فرماتے ہیں: ”نجيز الكلام مع النّساء للأجانب و محاورتهنّ عند الحاجة إلى ذلك، و لا نجيز لهنّ رفع أصواتهنّ و لا تمطيطها و لا تليینها و تقطيعها لما في ذلك من استمالة الرّجال إليهنّ وَ تحريك الشَهوَات منهم و من ھذا لم تجز ان تؤذن المراۃ“ ترجمہ: ہم وقتِ ضرورت اجنبی عورتوں سے کلام اور بات چیت کو جائز قرار دیتے ہیں، اور ہم عورتوں کیلئے اپنی آوازیں بلند کرنے، اسے مخصوص میلان والے لہجے میں لمبا کرنے، اس میں نرم لہجہ اختیار کرنے اور اس میں طرز بنانے کی اجازت نہیں دیتے، کیونکہ ان سب باتوں میں مردوں کو اپنی طرف مائل کرنا اور ان کی شہوات کو ابھارنا ہے، اسی وجہ سے یہ جائز نہیں کہ عورت اذان دے۔ (رد المحتارعلی الدرالمختار ، جلد2، مطلب فی ستر العورۃ، صفحہ 97، دار المعرفۃ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتوی نمبر: FAM-1199
تاریخ اجراء: 01 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 18 مئی 2026ء