بچے کو دودھ پلاتے ہوئے قرآن پڑھنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
بچے کو دودھ پلاتے ہوئے تلاوتِ قرآن کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جی ہاں! عورت بچے کو دودھ پلاتے ہوئے زبانی، موبائل سے دیکھ کر یا (با وضو ہونے کی صورت میں) قرآن پاک ہاتھ میں لے کر تلاوت کر سکتی ہے۔ اسی طرح دودھ پلاتے ہوئے دعا بھی کر سکتی ہے۔
تفصیل یہ ہےکہ انسانی بدن سے نکلنے والی پاک چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا، اس لیے دودھ پلانے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اور اس صورت میں اگرپہلےسے وضوتھا، تو وہ قرآن پاک ہاتھ میں لے کر بھی تلاوت کر سکتی ہے۔ اور اگر وضو نہ بھی ہو، تب بھی عورت زبانی یا موبائل سے تلاوت کر سکتی ہے، کیونکہ زبانی تلاوت یا موبائل سے پڑھنے کے لیے باوضو ہونا لازم نہیں، اگرچہ باوضو ہونا بہتر ہے، خصوصا موبائل اسکرین کے ذریعے تلاوت کرتے ہوئے، اگر اسکرین کو چھونا ہو تو۔
خزانۃ المفتین میں ہے ”الخارج من البدن علی ضربین طاھر و نجس فبخروج الطاھر لاتنتقض الطھارۃ کالدمع و العرق و البزاق و المخاط ولبن بنی اٰدم“ ترجمہ: بدن سے نکلنے والی چیز دو قسم کی ہے: پاک اور ناپاک، پاک کے نکلنے سے طہارت نہیں جاتی۔ جیسے آنسو، پسینہ، تھوک، رینٹھ، انسانی دودھ۔ (خزانۃ المفتین، جلد 1، کتاب الطھارۃ، فصل فی انواقض الوضوء، صفحہ 90، مطبوعہ: سعودیہ)
بے وضو چھوئے بغیر قرآن پاک پڑھنے کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے ”پڑھنا بے وضو جائز ہے، نہانے کی حاجت ہو تو حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 366، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: ”مستحب یہ ہے کہ باوضو قبلہ رو اچھے کپڑے پہن کر تلاوت کرے۔“ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 3، ص 550، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5316
تاریخ اجراء: 06 ربیع الاول 1448ھ / 20 اگست 2026ء