logo logo
AI Search

عورت کا نماز میں جہری قراءت کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

عورت نماز میں جہری قراءت کر سکتی ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

عورت کے لیے نماز میں جہر (یعنی بلند آواز سے قراءت) کرنا مطلقاً ممنوع ہے، چاہے فجر و عشا جیسی جہری نماز ہو اور چاہے پاس کوئی نامحرم مرد موجود نہ ہو، لہذا عورت کو چاہیے کہ ہر طرح کی نماز میں آہستہ قراءت کرے، یعنی اتنی آواز میں پڑھے کہ اگر شور و غل یا ثقل سماعت نہ ہو تو کم از کم خود اپنے کانوں سے سن سکے۔

علامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتے ہیں: ”ان صوتها فتنة و لهذا منعت من الأذان و الإمامة و الجهر بالقراءة في الصلاة“ ترجمہ: عورت کی آواز فتنہ ہے اور اسی وجہ سے اسے اذان دینے، امامت کروانے اور نماز میں بلند آواز سے قراءت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، باب التصفيق للنساء، جلد 7، صفحہ 279،دار إحياء التراث العربي)

علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں: ”و لا تجهر في الجهرية“ ترجمہ: اور عورت جہری نماز میں (بھی) جہر نہیں کرے گی۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، جلد 1، صفحہ 504، دار الفکر، بیروت)

علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1231ھ / 1815ء) لکھتے ہیں: ”و لا يستحب في حقها الجهر بالقراءة في الجهرية“ ترجمہ: اور عورت کے حق میں جہری نماز کے اندر قراءت کو بلند آواز سے کرنا مستحب نہیں ہے۔ (حاشية الطحطاوي على الدر المختار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، جلد 2، صفحہ 190، دار الکتب العلمیة، بیروت)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے: ”ويؤخذ من عبارات فقهاء الحنفية و هو وجه عند الشافعية و قول آخر عند الحنابلة أن المرأة تسر مطلقا“ ترجمہ: فقہائے حنفیہ کی عبارات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اور یہی شافعیہ کے ہاں ایک روایت اور حنابلہ کے ہاں دوسرا قول ہے کہ عورت مطلقاً سر (یعنی ہر حال میں آہستہ آواز سے قراءت) کرے گی۔ (الموسوعة الفقهية الكويتية، جلد 16، صفحہ 190، دار السلاسل، الكويت)

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: ”اور (عورت) جہری نماز میں جہر سے قراءت نہ کرے۔“ (فتاوی جامع اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 397، جامعہ اشرفیہ مبارک پور، یو پی)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: ”قراء ت میں اتنی آواز درکار ہے کہ اگر کوئی مانع، مثلاً ثقل سماعت شور و غل نہ ہو، تو خود سن سکے، اگر اتنی آواز بھی نہ ہو تو نماز نہ ہوگی۔ . . . جہر کے یہ معنی ہیں کہ دوسرے لوگ یعنی وہ کہ صف اول میں ہیں سن سکیں، یہ ادنی درجہ ہے اور اعلی کے لیے کوئی حد مقرر نہیں اور آہستہ یہ کہ خود سن سکے۔ اس طرح پڑھنا کہ فقط دو ایک آدمی جو اس کے قریب ہیں سن سکیں، جہر نہیں بلکہ آہستہ ہے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 544، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتوی نمبر: FAM-1216
تاریخ اجراء: 12 ذو الحجة الحرام 1447ھ / 30 مئی 2026ء