logo logo
AI Search

کیا پھوپھو کا بھتیجے سے پردہ ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

پھوپھو کا بھتیجے سے پردہ کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

شریعتِ مطہرہ نے مسلمان عورتوں کے لئے غیر محرم مردوں سے پردہ لازم فرمایا ہے، لیکن بھتیجا چونکہ محارم نسبی میں سے ہے، اور محارم نسبی سے پردہ نہ کرناواجب ہے، اگر پردہ کرے گی تو گنہگار ہوگی۔ لہذا پھو پھو، اپنے بھتیجے سے پردہ نہیں کرےگی۔

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں۔ (پارہ 4، سورۃ النساء، آیت 23)

اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے ”نسب کی وجہ سے سات عورتیں حرام ہیں وہ یہ ہیں: (1) ماں، اسی طرح وہ عورت جس کی طرف باپ یا ماں کے ذریعے سے نسب بنتا ہو یعنی دادیاں ونانیاں خواہ قریب کی ہوں یا دور کی سب مائیں ہیں اور اپنی والدہ کے حکم میں داخل ہیں۔ سوتیلی ماؤں کی حرمت کا ذکر پہلے ہو چکا۔ (2) بیٹی، پوتیاں اور نواسیاں کسی درجہ کی ہوں بیٹیوں میں داخل ہیں۔ (3) بہن (4) پھوپھی (5) خالہ (6) بھتیجی (7) بھانجی، اس میں بھانجیاں، بھتیجیاں اور ان کی اولاد بھی داخل ہے۔“ (تفسیرِ صراط الجنان، جلد 2، صفحہ 192، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

امام اہلسنت، امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ تعالی علیہ پردے کے متعلق فرماتے ہیں: اس کا ضابطہ کلیہ ہے کہ نامحرموں سے پردہ مطلقاً واجب اور محارم نسبی سے پردہ نہ کرنا واجب۔ اگر کرے گی، گنہگار ہوگی اور محارم غیرِ نسبی مثل علاقۂ مصاہرت و رضاعت، ان سے پردہ کرنا اور نہ کرنا دونوں جائز، مصلحت و حالت پر لحاظ ہوگا۔ اسی واسطے علماء نے لکھا ہے کہ جوان ساس کو داماد سے پردہ مناسب ہے، یہی حکم خسر اور بہو کا ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 22، ص 240، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی 
فتوی نمبر: WAT-5287
تاریخ اجراء: 02 صفر المظفر 1448ھ / 17 جولائی 2026ء