دو بہنوں کا بغیر محرم عمرہ کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
دو بہنوں کا مل کر بغیر محرم کے عمرہ کے لیے جانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
قوانین شرعیہ کے مطابق کسی عورت کا عاقل، بالغ یا کم ازکم مراہق (کم ازکم بارہ سال کے) اور قابل اعتمادمحرم یا شوہرکے بغیر مسافت شرعی یعنی تقریباً 92 کلومیٹر یا اس سے زائد سفر پر جانا ناجائزو حرام، اور سخت گناہ ہے، اور ایسی عورت کو قدم قدم پر گناہ ملتا ہے، چونکہ انڈیا سے سعودیہ کا سفر بھی 92 کلومیٹر سے کہیں زیادہ ہے۔ لہذا دو بہنوں کا کسی محرم کے بغیر اکیلے عمرے کے لیے جانا ناجائزو حرام اور سخت گناہ ہے۔
صحیح مسلم میں ہے ”عن ابی سعید الخدری، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: لا یحل لاِمرأۃ تؤمن باللہ و الیوم الاخر ان تسافر سفراً یکون ثلاثۃ ایام فصاعداً الا و معھا ابوھا او ابنھا او زوجھا او اخوھا او ذومحرم منھا“ ترجمہ: حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر حلال نہیں، مگر جبکہ اس کے ساتھ اس کا باپ یا بیٹا یا شوہر یا بھائی یا اس کا کوئی محرم ہو۔ (صحیح مسلم، ج 1، ص 434، مطبوعہ: کراچی)
سنن دار قُطنی کی حدیث پاک میں ہے ”جاء رجل إلى المدينة ، فقال النبي صلى اللہ عليه و سلم: أين نزلت؟، قال: علی فلانة، قال: أغلقت عليك بابها؟ لا تحجن امراة إلا و معها ذو محرم“ ترجمہ: ایک شخص مدینہ منورہ حاضر ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تم کہاں ٹھہرے ہو“؟ اس نے عرض کیا: فلاں خاتون کے یہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا اس نے تم پر اپنا دروازہ بند کیا تھا“؟ کوئی عورت اس وقت تک حج نہ کرے، جب تک اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو۔ (سنن دار قطنی، ج 3، ص 227، رقم الحديث: 2440، مطبوعہ: بيروت)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے ”المحرم للمرأۃ شابۃ کانت او عجوزاً ، اذا کانت بینھا و بین مکۃ مسیرۃ ثلاثۃ ایام“ ترجمہ: عورت کے لیے (سفر میں) محرم کا ساتھ ہونا شرط ہے، عورت جوان ہو یا بوڑھی، جبکہ اس کے اور مکۃ المکرمہ کے درمیان تین دن کا فاصلہ ہو۔ (الفتاوی الھندیۃ، ج 1، ص 218 ۔ 219، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتح القدیر میں ہے "و لاتسافر مع عبدها خصيًا كان أو فحلًا و كذا أبوها المجوسي و المحرم غير المراهق، بخلاف المراهق وحده ثلاثة عشر أو اثنتا عشر سنةً۔" ترجمہ: عورت اپنے خصی یا غیر خصی غلام کے ساتھ سفر نہیں کرسکتی۔ اسی طرح اپنے مجوسی باپ اور غیر مراہق محرم کے ساتھ سفر نہیں کرسکتی، برخلاف مراہق کے کہ اس کے ساتھ سفر کرنا شرعاً جائز ہے، مراہق کی حد تیرہ یا بارہ سال ہے۔ (فتح القدیر، کتاب الحج، ج 04، ص 399، دار الفکر، بیروت)
امامِ اہلِسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اُسے (عورت کو) بغیر شوہر یا محرم کے ساتھ لیے، سفر کو جانا حرام ہے، اس میں کچھ حج کی خصوصیت نہیں، کہیں ایک دن کے راستہ پر بے شوہر یا محرم جائے گی تو گنہ گار ہوگی۔“ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 657، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
امامِ اہلِ سنّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: ”عورت اگرچہ عفیفہ (پاکدامن) یا ضعیفہ (بوڑھی) ہو، اسے بے شوہر یا محرم سفر کو جانا، حرام ہے۔ ۔ ۔ ۔ اگر چلی جائے گی، گنہگار ہوگی، ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 706، 707، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’عورت کو بغیر محرم کے تین دن یا زیادہ کی راہ جانا، ناجائز ہے بلکہ ایک دن کی راہ جانا بھی۔ نابالغ بچہ یا معتوہ کے ساتھ سفر نہیں کر سکتی، ہمراہی میں بالغ محرم یا شوہر کا ہونا ضروری ہے۔“ (بہار شریعت، حصہ 4، ج 1، ص 752، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5324
تاریخ اجراء: 03 ربیع الاول 1448ھ / 17 اگست 2026ء