logo logo
AI Search

گود لئے بچے سے پردہ کب کرنا ہوگا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

گود لیے ہوئے بچے سے پردے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا گود لیے ہوئے بچے (Adopted Child) سے بھی پردہ کرنا ہوگا اگرچہ اسے چھوٹی عمر ہی سے پالا ہو؟

جواب

عورت کے لیے ان سب مردوں سے پردہ کرنے کا حکم ہے جو اس کے محرم نہیں، اور محرم سے مراد وہ مرد ہیں جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو۔ پس گود لیے ہوئے بچے اور اسے پالنے والی خاتون کے درمیان اگر حرمت کا کوئی رشتہ نہ ہو یعنی نسب یا رضاعت وغیرہ کسی اعتبار سے وہ اس کا محرم نہ بنتا ہو تو اس کے بڑے ہونے پر اس سے پردہ کرنا شرعاً واجب ہوگا؛ کیونکہ وہ شرعی طور پر اجنبی ہے، اس لیے کہ محض گود لینے سے یا چھوٹی عمر سے پرورش کرنے کے سبب کوئی بچہ حقیقی اولاد نہیں بن جاتا، لہذا وہ تمام احکام جو کسی اجنبی کے لیے ہوتے ہیں وہ اس بچے پر بھی عائد ہوں گے۔ واضح رہے! جب بچہ دس سال سے بڑا ہو جائے تو اس کے لیے بالغ کا سا حکم ہوتا ہے، لہذا اسی وقت سے پردہ کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں یا اپنی (مسلمان) عورتوں یا اپنی کنیزوں پر جو ان کی ملکیت ہوں۔ (پارہ 18، سورۃ النور 24، آیت 31)

مفسر شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ / 1971ء) مذکورہ بالا آیت کے تحت لکھتے ہیں: ”خلاصہ یہ کہ شوہر اور محرموں سے پردہ نہیں۔ محرم وہ جس سے رشتہ کی بنا پر نکاح کرنا ہمیشہ کے لیے حرام ہو، خواہ ذی رحم بھی ہو یا نہ ہو۔ . . . وہ چھوٹے بچے جو ابھی بلوغ کے قریب بھی نہ ہوں (ان سے پردے کا حکم نہیں)۔ معلوم ہوا کہ مراہق یعنی قریب البلوغ لڑکے سے پردہ چاہیے۔ (تفسیر نور العرفان، صفحہ 564، فرید بک ڈپو لمیٹڈ، دہلی)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: ”محارم سے مراد وہ عورتیں ہیں جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے، یہ حرمت نسب سے ہو یا سبب سے، مثلاً رضاعت (یعنی دودھ کے رشتے) یا مصاہرت (یعنی سسرالی رشتے)۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 445، مکتبة المدینہ، کراچی(

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ”عورت اگرکسی نامحرم کے سامنے اس طرح آئے کہ اس کے بال اور گلے اور گردن یا پیٹھ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر ہو یا لباس ایسا باریک ہو کہ ان چیزوں سے کوئی حصہ اس میں سے چمکے تو یہ بالاجماع حرام اور ایسی وضع و لباس کی عادی عورتیں فاسقات ہیں . . . اور اگر تمام بدن سر سے پاؤں تک موٹے کپڑے میں خوب چھپا ہوا ہے، صرف منہ کی ٹکلی کھلی ہوئی، جس میں کوئی حصہ کان کا یا ٹھوڑی کے نیچے کا یا پیشانی کے بال کا ظاہر نہیں، تو اب فتوی اس سے بھی ممانعت پر ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 509 - 510، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”ہر اجنبی کا حکم یکساں ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 205، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ” ضابطہ کلیہ ہے کہ نامحرموں سے پردہ مطلقاً واجب، اور محارم نسبی سے پردہ نہ کرنا واجب، اگر کرے گی گنہگار ہوگی، اور محارم غیر نسبی مثل علاقۂ مصاہرت و رضاعت، ان سے پردہ کرنا اور نہ کرنا دونوں جائز، مصلحت و حالت پر لحاظ ہوگا۔ اسی واسطے علما نے لکھا ہے کہ جوان ساس کو داماد سے پردہ مناسب ہے، یہی حکم خسر اور بہو کا، اور جہاں معاذ اللہ مظنۂ فتنہ ہو پردہ واجب ہو جائے گا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 240، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

خلیل ملت مفتی محمد خلیل خان برکاتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1405ھ / 1985ء) لکھتے ہیں: ”کسی لڑکے یا لڑکی کو متبنی بنانے (گود لینے) کا مطلب یہ ہے کہ اسے غیر کی اولاد تسلیم کرتے ہوئے اپنی اولاد کے قائم مقام بنا لینا اور اپنی اولاد کی طرح اس کی تربیت و پرورش کرنا۔ یہ امر اگرچہ بجائے خود ایک کار ثواب ہے، لیکن وہ بچہ شرعاً اس کی اولاد قرار نہ پائے گا اور نہ اس بچے کو وہ حقوق حاصل ہوں گے جو حقیقی اولاد کو ہوتے ہیں؛ اسی لیے یہ بات باعث لعنت قرار دی گئی کہ آدمی دوسرے کے بچے کو اپنی طرف منسوب کرے اور اسے اپنے نسب میں داخل کر لے یا کوئی شخص خود اپنے آپ کسی دوسرے کی طرف منسوب کرے۔ تو وہ (لے پالک) بچہ اس (پالنے والی) خاتون کے لیے بھی اجنبی ہے اور اس کی لڑکی کے لیے بھی اور دوسرے اہل خاندان کے لیے بھی۔ وہ تمام احکام جو کسی اجنبی کے لیے ہیں وہ اس بچہ پر بھی عائد ہوں گے۔ (فتاوی خلیلیہ، جلد 2، صفحہ 144، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور(

مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ / 1993ء) لکھتے ہیں: ”پالا ہوا بیٹا ذی رحم محرم نہیں ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 155، بزم وقار الدین، کراچی)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: ”بہت چھوٹے بچے کے لیے عورت نہیں، یعنی اس کے بدن کے کسی حصہ کا چھپانا فرض نہیں، پھر جب کچھ بڑا ہو گیا تو اس کے آگے پیچھے کا مقام چھپانا ضروری ہے۔ پھر جب اور بڑا ہو جائے، دس برس سے بڑا ہو جائے تو اس کے لیے بالغ کا سا حکم ہے۔ . . . لڑکا جب مراہق (یعنی بالغ ہونے کے قریب) ہو جائے اور وہ خوبصورت نہ ہو تو نظر کے بارے میں اس کا وہی حکم ہے جو مرد کا ہے اور خوبصورت ہو تو عورت کا جو حکم ہے وہ اس کے لیے ہے، یعنی شہوت کے ساتھ اس کی طرف نظر کرنا حرام ہے اور شہوت نہ ہو تو اس کی طرف بھی نظر کر سکتا ہے اور اس کے ساتھ تنہائی بھی جائز ہے۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 442، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1300
تاریخ اجراء: 03 ربیع الاول 1448ھ / 17 اگست 2026ء