logo logo
AI Search

عورت کا حیض کی حالت میں محفلِ میلاد میں شرکت کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عورت کا اپنے مخصوص دنوں میں محفلِ میلاد میں شرکت کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت مخصوص دنوں یا ماہواری کی حالت میں میلاد شریف کی محفل میں شرکت کرسکتی ہے؟

جواب

جی ہاں! جس طرح دیگر خواتین کے لیے میلادِ پاک کی محفل میں شرکت کرنا، جائز ہے، اسی طرح ماہواری والی عورت کے لیے بھی ایسی محفل میں شرکت کرنا، جائز ہے اور محفل میں قرآنِ پاک کے علاوہ دیگر ذکر و اَذکار اور درودِ پاک بھی پڑھ سکتی ہے، البتہ بہتر ہے کہ وضو یا کلی کر کے اس محفل میں شرکت کرے۔ نیز خواتین کے لیے محفلِ میلاد منعقد کرنے کے لیے دیگر بھی چند شرائط ہیں، جن کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، مثلاً: میلادِ پاک کی محفل گھر کی چار دیواری کے اندر صرف خواتین کے لیے منعقد ہو، تمام خواتین باپردہ ہوں، وہاں کوئی غیر محرم مرد موجود نہ ہو، فتنے کا اندیشہ نہ ہو اور کسی غیر شرعی امر کا ارتکاب بھی نہ کیا جائے، نیز نعت، درود و سلام یا دیگر کلام اس انداز سے نہ پڑھا جائے کہ غیر محرم مردوں تک آواز پہنچے یا فتنے کا اندیشہ ہو، تو ان تمام شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے خواتین محفلِ میلاد میں شرکت کرسکتی ہیں خواہ کسی خاتون کے مخصوص ایام چل رہے ہوں، البتہ ایسی خاتون کے لیے بہتر ہے کہ وضو یا کلی کر لے، لیکن اگر اس کے بغیر بھی شرکت کر لیتی ہے تو گناہ نہیں ہے ۔

صحیح بخاری کی روایت ہے: ”عن منصور بن صفية، أن أمه، حدثته أن عائشة حدثتها أن النبي صلى اللہ عليه وسلم: «كان يتكئ في حجري وأنا حائض، ثم يقرأ القرآن“ ترجمہ: منصور بن صفیہ سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نے انہیں بیان کیا، اور انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم حالتِ حیض میں میری گود پر تکیہ لگا کر تشریف فرما ہوتے، پھر قرآنِ کریم کی تلاوت فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری، جلد 01، صفحہ 67، رقم الحدیث: 297، دار طوق النجاۃ)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ”(وأنا حائض، ثم يقرأ القرآن): فيه دلالة على أن الحائض طاهرة حسا نجسة حكما“ ترجمہ: (اور میں حیض کی حالت میں ہوتی، پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم قرآنِ کریم کی تلاوت فرماتے۔) اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ حیض والی عورت حِسّی اعتبار سے پاک ہوتی ہے، البتہ حکمی اعتبار سے ناپاک ہوتی ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 02، صفحہ 494، دار الفکر، بیروت)

در مختار میں علامہ علاء الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”لابأس لحائض وجنب بقرأء ۃ أدعیۃ ومسھا وحملھا و ذکر اللہ تعالی، وتسبیح“ ترجمہ: حائضہ عورت اور جنبی شخص کے لئے دُعائیں کرنے، اللہ کا ذکر کرنے، تسبیح پڑھنے، انہیں ہاتھ لگانے اور اٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔ (در مختار، جلد 01، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، صفحہ 646، دار الحدیث، القاھرہ )

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:”قرآنِ مجید کے علاوہ اَور تمام اذکار کلمہ شریف، درود شریف وغیرہ پڑھنا بلا کراہت جائز بلکہ مستحب ہے اور ان چیزوں کو وُضو یا کُلّی کرکے پڑھنا بہتر اور ویسے ہی پڑھ لیا جب بھی حَرَج نہیں اور ان کے چھونے میں بھی حَرَج نہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 02، ص379، مکتبۃ المدینہ، کراچی )

امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ”عورت کا خوش الحانی سے بآواز ایسا پڑھنا کہ نامحرموں کو اس کے نغمہ کی آواز جائے، حرام ہے۔ نوازل امام فقیہ ابو اللیث میں ہے: ’’نغمۃ المرأۃ عورۃ‘‘ یعنی عورت کا خوش آواز کر کے کچھ پڑھنا عورت یعنی محلِ ستر ہے۔ کافی امام ابو البرکات نسفی میں ہے: ’’لا تلبی جھراً لان صوتھا عورۃ‘‘ یعنی عورت بلند آواز سے تلبیہ نہ پڑھے، اس لیے کہ اس کی آواز قابلِ ستر ہے ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 242، رضا فاؤنڈیشن لاهور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5408

تاریخ اجراء: 15 ربیع الاول 1448ھ/29 اگست 2026ء