
دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حمل کے آٹھویں نویں ماہ میں سجدہ کرتے وقت سخت دشواری ہوتی ہو یا سجدہ کرنے میں درد ہوتا ہو، تو کیا اشارے سے نماز پڑھنے کی اجازت ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
قوانین شریعت کی رو سے جب تک کسی شخص میں حقیقی سجدہ کرنے یعنی زمین پر یا زمین پر موجود زیادہ سے زیادہ زمین سے 12 انگل (9 انچ) اونچی کسی سخت چیز پر سجدہ کرنے کی طاقت ہو، تب تک زمین پر یا اس چیز پر باقاعدہ سجدہ کرنا ضروری ہے، ایسی قدرت کے باوجود اشارے سے نماز پڑھنا کافی نہیں ہوتا۔ البتہ اگر کوئی حقیقی سجدہ کرنے سے عاجز آ جائے کہ نہ زمین پر سجدہ ہو پائے، نہ ہی زمین پر موجود زیادہ سے زیادہ بارہ انگل (9Inches) اونچی کسی سخت چیز پر تو اس پر سے سجدہ ساقط ہو جاتا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں دوران حمل جب تک مذکورہ طریقے کے مطابق حقیقی سجدہ کرنا ممکن ہو اگرچہ معمولی تکلیف کے ساتھ تو باقاعدہ سجدہ ہی کرنا ہوگا، ورنہ نماز نہیں ہوگی، لیکن آخری ایک دو ماہ میں جب واقعی کسی خاتون سجدہ کرنا ممکن نہ رہے یا اس سے شدید تکلیف یا درد ہو تو شرعاً رخصت ہوگی اور اس صورت میں رکوع و سجود کے اشارے کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہوگا، مگر یاد رہے! اشارے سے نماز پڑھنے میں سجدے کے لیے رکوع سے زیادہ سر جھکانا ضروری ہے ورنہ سجدہ ادا نہ ہوگا، جس کے باعث نماز نہیں ہوگی۔
صحیح بخاری، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، مسند احمد، سنن الکبری للبیہقی اور مشکوۃ المصابیح وغیرہ میں ہے:
عن عمران بن حصين رضي اللہ عنه قال: كانت بي بواسير، فسألت النبي صلى اللہ عليه و سلم عن الصلاة، فقال: صل قائما، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جنب
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض تھا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے (اس مرض میں) نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر تمہیں اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو کروٹ کے بل لیٹ کر پڑھو۔ (صحيح البخاري، أبواب تقصير الصلاة، جلد 1، صفحه 376، حدیث 1066، دار ابن كثير، دمشق)
علامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 855ھ / 1451ء) اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں:
و بهذا الحديث استدل أصحابنا أن المريض إذا عجز عن القيام صلى قاعدا يركع و يسجد، فإن لم يستطع الركوع و السجود أومأ إيماء قاعدا، و جعل سجوده أخفض من ركوعه
ترجمہ: اور اسی حدیث سے ہمارے فقہائے احناف نے استدلال کیا ہے کہ مریض جب قیام (کھڑے ہو کر نماز پڑھنے) سے عاجز ہو جائے تو بیٹھ کر رکوع و سجود کرتے ہوئے نماز ادا کرے، پس اگر رکوع و سجود کی بھی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھے اور اپنے سجدے کو رکوع سے زیادہ پست کرے۔ (شرح سنن أبي داود للعيني، کتاب الصلاۃ، باب في صلاة القاعد، جلد 4، صفحه 225، مطبوعه ریاض)
امام فخر الاسلام حسن بن منصور قاضی خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 592ھ/1196ء) شرح جامع صغیر میں لکھتے ہیں:
من قدر على القيام و الركوع و السجود إذا صلّى المكتوبة قاعدا لا يجوز و إن عجز عن القيام و قدر على الركوع و السجود يصلي قاعدا بركوع و سجود و لا يجوز له إلا ذلك وإن عجز عن الركوع و السجود و قدر على القعود يصلي قاعدا بإيماء و يجعل السجود أخفض من الركوع
ترجمہ: جو شخص قیام، رکوع اور سجدہ کرنے پر قادر ہو، اگر وہ فرض نماز بیٹھ کر پڑھے تو یہ جائز نہیں، اور اگر وہ قیام سے عاجز ہو اور رکوع و سجود کر سکتا ہو تو بیٹھ کر رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز پڑھے اور اس کے لیے اس کے علاوہ جائز نہیں، اور اگر کوئی رکوع اور سجدے سے عاجز ہو اور بیٹھنے کی طاقت رکھتا ہو تو بیٹھ کر اشارے کے ساتھ نماز پڑھے، اور سجدے (کے اشارے) کو رکوع (کے اشارے) سے زیادہ پست کرے۔ (شرح الجامع الصغير، باب المريض كيف يصلي، جلد 1، صفحہ 202، مطبوعه بریطانیا)
علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1088ھ/1677ء) لکھتے ہیں:
و لو كان موضع سجوده أرفع من موضع القدمين بمقدار لبنتين منصوبتين جاز سجوده وإن أكثر لا... و المراد لبنة بخارى، و هي ربع ذراع عرض ستة أصابع، فمقدار ارتفاعهما نصف ذراع ثنتا عشرة أصبعا
ترجمہ: اگر نمازی کے سجدہ کی جگہ قدموں کی جگہ سے ایک دوسرے پر رکھی ہوئی دو اینٹوں کی مقدار اونچی ہو تو (بھی) اس کا سجدہ جائز ہے، اور اگر اس سے زیادہ اونچی ہو تو جائز نہیں، اور اینٹ سے مراد بخارا کی اینٹ ہے، جو کہ چوتھائی ذراع (لمبی) اور چھ انگل چوڑی ہے، پس (اس اعتبار سے) دو اینٹوں کی اونچائی آدھے ذراع یعنی بارہ انگل کے برابر ہوتی ہے۔ (الدر المختار شرح تنویر الابصار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، صفحہ 69، دار الکتب العلمیة، بیروت)
فقیہ اعظم اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں:
و على المفتى به أعني: ذراع الكرباس الذي هو ست قبضات عند الأكثرين، أي: نصف الذراع الإفرنجي
ترجمہ: اور مفتی بہ قول کے مطابق میری مراد ذراعِ کرباس ہے جو کہ اکثر فقہا کے نزدیک چھ مشت یعنی انگریزی نصف گز (0.5 Yards / 18 Inches) کا ہوتا ہے۔ (جد الممتار علی رد المحتار، کتاب الطهارة، جلد 2، صفحہ 75، مکتبة المدینہ، کراچی)
علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:
إن كان الموضوع مما يصح السجود عليه كحجر مثلا و لم يزد ارتفاعه على قدر لبنة أو لبنتين فهو سجود حقيقي فيكون راكعا ساجدا لا مومئا... بل يظهر لي أنه لو كان قادرا على وضع شيء على الأرض مما يصح السجود عليه أنه يلزمه ذلك لأنه قادر على الركوع والسجود حقيقة، و لا يصح الإيماء بهما مع القدرة عليهما بل شرطه تعذرهما
ترجمہ: اگر (سجدہ کی جگہ پر) رکھی جانے والی شے، مثلاً پتھر کی طرح کی کوئی ایسی چیز ہو جس پر سجدہ کرنا درست ہو اور اس کی اونچائی ایک یا دو اینٹوں سے زیادہ نہ ہو تو یہ حقیقی سجدہ ہے، پس نماز پڑھنے والا رکوع اور سجدہ کرنے والا (شمار) ہوگا، اشارہ کرنے والا نہیں، بلکہ میرے نزدیک تو یہ بات ظاہر ہے کہ اگر وہ زمین کے اوپر کوئی ایسی چیز رکھنے پر قادر ہے جس پر سجدہ کرنا صحیح ہو تو اس پر ایسا کرنا لازم ہوگا؛ کیونکہ وہ رکوع اور سجدہ پر حقیقتاً قدرت رکھتا ہے اور ان پر قدرت کے باوجود رکوع و سجود کا اشارہ کرنا درست نہیں، بلکہ اشارے کے ساتھ نماز پڑھنے کی شرط رکوع اور سجدے کا متعذر ہونا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاة، باب صلاة المريض، جلد 2، صفحہ 686، دار المعرفۃ، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”آج کل بہت جہال ذرا سی بے طاقتیِ مرض یا کبر سن میں سرے سے بیٹھ کر فرض پڑھتے ہیں، حالانکہ اولاً: ان میں بہت ایسے ہیں کہ ہمت کریں تو پورے فرض کھڑے ہو کر ادا کر سکتے ہیں، اور اس ادا سے نہ ان کا مرض بڑھے نہ کوئی نیا مرض لاحق ہو نہ گر پڑنے کی حالت ہو نہ دوران سر (چکر آنا) وغیرہ کوئی سخت الم شدید ہو، صرف ایک گونہ مشقت و تکلیف ہے جس سے بچنے کو صراحۃً نمازیں کھوتے ہیں۔ ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ وہی لوگ جنہوں نے بحیلۂ ضعف و مرض فرض بیٹھ کر پڑھے اور وہی باتوں میں اتنی دیر کھڑے رہے کہ اُتنی دیر میں دس بارہ رکعت ادا کر لیتے، ایسی حالت میں ہر گز قعود کی اجازت نہیں، بلکہ فرض ہے کہ پورے فرض قیام سے ادا کریں۔ کافی شرح وافی میں ہے:
ان لحقہ نوع مشقۃ لم یجز ترک القیام (اگر اسے کچھ مشقت لاحق ہو تو قیام ترک کرنا جائز نہ ہوگا)۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 160 - 161، رضا فاؤنڈیشن لاهور)
فقیہِ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1423ھ / 2001ء) لکھتے ہیں: ”فرض، وتر، عیدین اور سنت فجر میں قیام فرض ہے یعنی بلا عذر صحیح یہ نمازیں بیٹھ کر پڑھی گئیں تو نہ ہوں گی۔... اور یہ حکم مردوں کے لیے خاص نہیں ہے یعنی جس طرح نماز میں قیام مردوں کے لیے فرض ہے اسی طرح عورتوں کے لیے بھی فرض ہے لہذا فرض و واجب تمام نمازیں جن میں قیام ضروری ہے بغیر عذر صحیح بیٹھ کر نہیں ہو سکتیں۔ جتنی نمازیں باوجود قدرت قیام بیٹھ کر پڑھی گئیں ان سب کی قضا پڑھنا اور توبہ کرنا فرض ہے۔ اگر قضا نہیں پڑھیں گی اور توبہ نہیں کریں گی تو سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہوں گی۔ ہاں نفل نمازیں بیٹھ کر پڑھی جا سکتی ہیں۔“ (فتاوی فیض الرسول، جلد 1، صفحہ 239 - 240، اکبر بک سیلرز لاہور)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/ 1948ء) لکھتے ہیں: ”جو شخص بوجہ بیماری کے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے پر قادر نہیں کہ کھڑے ہو کر پڑھنے سے ضرر لاحق ہوگا یا مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھا ہو گا یا چکر آتا ہے یا کھڑے ہو کر پڑھنے سے قطرہ آئے گا یا بہت شدید درد ناقابل برداشت پیدا ہو جائے گا تو ان سب صورتوں میں بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھے۔... کھڑا ہو سکتا ہے مگر رکوع و سجود نہیں کر سکتا یا صرف سجدہ نہیں کر سکتا مثلاً حلق وغیرہ میں پھوڑا ہے کہ سجدہ کرنے سے بہے گا تو بھی بیٹھ کر اشارہ سے پڑھ سکتا ہے، بلکہ یہی بہتر ہے۔... اشارہ کی صورت میں سجدہ کا اشارہ رکوع سے پست ہونا ضروری ہے مگر یہ ضرور نہیں کہ سر کو بالکل زمین سے قریب کر دے سجدہ کے لیے تکیہ وغیرہ کوئی چیز پیشانی کے قریب اٹھا کراس پر سجدہ کرنا مکروہِ تحریمی ہے، خواہ خود اسی نے وہ چیز اٹھائی ہو یا دوسرے نے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 720 - 721ملتقطا، مکتبة المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-832
تاریخ اجراء: 02 صفر المظفر 1447ھ / 28 جولائی 2025ء