logo logo
AI Search

عورت کا بلاعذر فرض نماز بیٹھ کر پڑھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

نماز میں بلاعذر قیام چھوڑنے کا شرعی حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

چار رکعت فرض نماز کی تمام رکعتوں میں قیام فرض ہے، اگر ایک رکعت بھی بلاعذرِ شرعی بیٹھ کر ادا کی تو نماز نہ ہوگی اور اس مسئلہ میں مردوں کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ عورتوں پر بھی مردوں کی طرح فرض نماز میں قیام فرض ہے، علمِ دین سے دوری کی وجہ سے کچھ خواتین اس طرح کرتی ہیں مگر ان کا یہ عمل شرعی اعتبار سے ہر گز درست نہیں، ان پر لازم ہے کہ مکمل چار رکعت قیام کے ساتھ ادا کریں، بلا عذرِ شرعی قیام ترک نہ کریں اورجتنی نمازیں اس طرح بلاعذر شرعی بیٹھ کر ادا کیں یا کسی ایک رکعت میں بھی قیام چھوڑا، وہ تمام نمازیں فرض چھوڑنے کی وجہ سے ادا نہیں ہوئیں، ان پر فرض ہے کہ ان نمازوں کو دوبارہ پڑھیں اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ بھی کریں۔

نوٹ: فرض، واجب اور فجر کی سنتوں کی تمام رکعتوں میں قیام فرض ہے، اس کے علاوہ سنن و نوافل میں قیام فرض نہیں، لہٰذا ان نمازوں کو اگر کوئی مرد یا عورت بلاعذر بھی بیٹھ کر پڑھے تو نماز بلا کراہت ہوجائے گی اور لوٹانے کی بھی حاجت نہیں۔ البتہ قیام پر قدرت ہونے کی صورت میں قیام کے ساتھ ادا کرنا افضل و باعثِ تکمیلِ ثواب ہے۔

تنبیہ! سنتِ مؤکدہ نماز کی ایک قسم تراویح کی نماز ہے کہ یہ بھی سنتِ مؤکدہ ہے اور اسے بلاعذر بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، کچھ علماء کے نزدیک سنتِ فجر کی طرح اسے بلا عذر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے مگر صحیح یہی ہے کہ تروایح کی نماز بلا عذر بھی بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں البتہ اسے بیٹھ کر پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ ستمبر 2026ء