بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اور میری بہن اگلے ہفتے عمرہ پر جا رہے ہیں، اسی کے متعلق ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ میری بہن کے کینسر کی وجہ سے سارے بال جھڑ نے کے بعد دوبارہ نئے سرے سے بال آ رہے ہیں، لیکن وہ ایک پورے سے بھی کم ہیں، تو جب میری بہن عمرہ کر لے گی، تو اسے احرام کی پابندیوں سے باہر آنے کے لیے کیا حلق کروانا ہوگا یا تقصیر ہی کرنی ہوگی؟ اگر وہ یہ دونوں کام نہ کرے، تو کیا احرام پابندیوں سے باہر ہو جائے گی یا نہیں؟ اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔
سائل: (غلام مصطفی، فیصل آباد)
پوچھی گئی صورت میں آپ کی بہن پر مناسک عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام کی پابندیوں سے باہر ہونے کے لیے حلق و تقصیر میں سے کچھ بھی لازم نہیں ہوگا، ان دونوں کے بغیر ہی احرام کی پابندیوں سے باہر ہوجائیں گی اور دم وغیرہ بھی لازم نہیں ہوگا۔
مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ احرام کی پابندیوں سے باہر ہونےکے لیے حلق یا تقصیر میں سے کسی ایک چیز کا ہونا، لازم ہے، لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے یہ دونوں (حلق و تقصیر) ممکن نہ رہیں، تو حکم شرعی کے مطابق یہ دونوں چیزیں معاف ہو جائیں گی، چونکہ صورت مسئولہ میں آپ کی بہن کے لیے دونوں چیزیں ممکن نہیں کہ خواتین کو شرعی طور پر حلق کروانے کی اجازت نہیں،بلکہ ان کے لیے تقصیر ہی لازم ہے اور آپ کی بہن کے لیے تقصیر بھی ممکن نہیں، کیونکہ تقصیر کےلیے ضروری ہے کہ کم از کم چوتھائی سر کے بال ایک پورے سے کم نہ ہوں، لیکن آپ کی بہن کےتمام سر کے بال ایک پورے کی مقدارسے بھی کم ہیں، ان کے لیے تقصیر بھی ممکن نہ رہی، لہذا ان سے عذر کی وجہ سے حلق و تقصیر ساقط ہو جائیں گی اور جب وہ مناسکِ عمرہ (طواف و سعی) ادا کر لیں گی، تو وہ حلق اور تقصیر کے بغیر ہی احرام کی پابندیوں سے آزاد ہوجائیں گی۔
احرام سے باہر آنے کے لیے بھی خواتین کو حلق کروانے کی اجازت نہیں، جیساکہ سنن ابی داؤد میں ہے:
أن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: ليس على النساء حلق، إنما على النساء التقصير
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: (احرام کی پابندیوں سے باہر آنے کےلیے) خواتین پر حلق کروانا لازم نہیں، بلکہ ان پر صرف تقصیر لازم ہے۔ (سنن ابوداؤد، جلد 3،صفحہ 341، رقم الحدیث: 1984،مطبوعہ دار الرسالة العالمية)
مبسوط سرخسی میں ہے:
و لا حلق عليها إنما عليها التقصير هكذا روي عن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم أنه نهى النساء عن الحلق و أمرهن بالتقصير عند الخروج من الاحرام، و لأن الحلق في حقها مثلة، و المثلة حرام
ترجمہ: خواتین پر حلق کروانا لازم نہیں، بلکہ صرف تقصیر لازم ہے، یہی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے عورتوں کو احرام کی پابندیوں سے باہر آنے کے لیے حلق کرنے سے منع فرمایا اور انہیں تقصیر کا حکم ارشاد فرمایا، اور (حلق نہ کروانے کی وجہ یہ ہے کہ) کہ عورت کے حق میں حلق مثلہ ہے اور مثلہ حرام ہے۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 4، صفحہ 33، مطبوعہ دار المعرفۃ، بیروت)
عذر کے پیش نظر تقصیر اور حلق سے عاجز ہونے پر دونوں معاف ہیں اور ترک پر دم لازم نہیں، چنانچہ لباب المناسک میں ہے:
(و لو تعذر الحلق لعارض تعین التقصیر او التقصیر) أی تعذر لکون الشعر قصیرا (تعین الحلق و ان تعذر جمیعا لعلۃ فی رأسہ) بأن یکون شعرہ قصیرا و برأسہ قروح یضرہ الحلق (سقطا عنہ و حل بلا شیئ) أی بلا وجوب دم علیہ لأنہ ترک الواجب بعذر
ترجمہ: (احرام سے باہر آنےکے وقت) اگر کسی وجہ سے حلق کروانا متعذر ہو جائے، تو تقصیر متعین ہو جائے گی اور اگر بال چھوٹے ہونے کی وجہ سے تقصیر متعذر ہو جائے، تو حلق کروانا متعین ہوگا، لیکن اگر سر میں بیماری کی وجہ سے دونوں ہی متعذر ہوجائیں کہ بال چھوٹے ہیں اور سَر میں زخم ہے کہ حلق کروانے سے ضرر ہو گا، تو یہ دونوں (حلق و تقصیر) ساقط ہو جائیں گے اور مُحرم دم واجب ہوئے بغیر احرام کی پابندیوں سے باہر ہو جائے گا،کیونکہ یہاں اس نے عذر کی وجہ سے واجب ترک کیا ہے۔ (لباب المناسک، صفحہ 324، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)
27 واجباتِ حج اور تفصیلی احکام میں ہے: اگر کسی عُذر کے سبب حلق اور تقصیر دونوں ہی ممکن نہ ہوں، مثلاًاس کے بال چھوٹے ہوں جس کے سبب تقصیر ممکن نہیں اور سر میں پھوڑے پھنسیاں ہیں جس کی وجہ سے حلق کرانے میں ضرر ہے تو اب حلق اور تقصیر دونوں معاف ہیں اور اس صورت میں تَرْک کے سبب دَم لازم نہیں ہوگا۔ (27 واجباتِ حج اور تفصیلی احکام، صفحہ 121 - 122، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
یہاں تقصیر ممکن نہ رہنے میں بالوں کا ایک پورے سے کم ہونا ،ضروری ہے، جیساکہ رفیق الحرمین میں ہے: ایسی عورت جس کے بال ایک پورے سے کم رہ گئے ہوں، اس کیلئے اب قصر (تقصیر) کی معافی ہے کیونکہ قصر ممکن نہ رہا اورحلق کرانا، اس کے لیے منع ہے۔ (رفیق الحرمین، صفحہ 314، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
چونکہ صورت مسئولہ میں آپ کی بہن کو حلق وتقصیردونوں معاف ہیں، لہذا وہ مناسک عمرہ کی ادائیگی (طواف و سعی) کے بعد حلق اور تقصیر کے بغیر ہی احرام سے باہر ہو جائیں گی، چنانچہ
العروۃ فی مناسک الحج و العمرۃ المعروف فتاوی حج و عمرہ میں یہی مسئلہ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب
کے حوالے سے منقول ہے: تیسرا سوال یہ ہے کہ مذکورہ خاتون جب حلق نہیں کرائے گی کہ اُسے حلق ممنوع ہے اور تقصیر وہ کروا نہیں سکتی (کہ بال ایک پورے سے کم ہیں) تو احرام سے باہر کس فعل سے ہوگی؟ یعنی احرام سے نکلنے کے لئے اُسے کچھ کرنا ہوگا؟ یا خود بخو د احرام سے باہر ہو جائے گی؟ (تو اس کا جواب یہ ہےکہ) عمرہ میں سعی کے بعد اور حج میں رمی یا ذبح کے بعد۔۔۔ چنانچہ مخدوم ہاشم ٹھٹوی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: یعنی اگر قصر و حلق سر میں کسی علت کی وجہ سے دونوں ایک ساتھ متعذ رہو جائیں اور اس کے سر کے بال بھی ایک پورے سے کم ہوں، تو دونوں (یعنی قصر و حلق) میں سے ہر ایک اس سے ساقط ہو جائے گا اور وہ رمی جمرہ سے فراغت کے بعد (حج افراد میں) حلق کی جگہ کسی دوسری چیز کے قیام کے بغیر احرام سے نکل جائے گی اور اس پر دم وصدقہ میں سے کوئی چیز لازم نہ ہوگی، کیونکہ اس نے واجب کو عذر کے سبب ترک کیا ہے۔ (العروۃ فی مناسک الحج و العمرۃ (فتاوی حج و عمرہ)، جلد 4، صفحہ 170- 108، مطبوعہ جمعیت اشاعت اھل سنت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9686
تاریخ اجراء: 28 جمادی الثانی 1447ھ / 20 دسمبر 2025 ء