logo logo
AI Search

کمزوری کی وجہ سے حمل گروانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

زیادہ کمزوری کے سبب حمل گرانے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میری شادی کو فروری میں 5 سال ہونے والے ہیں، اور میری 2 بیٹیاں ہیں، جن میں 2.5 سال کا فرق ہے، اور اب میری چھوٹی بیٹی 1.5 سال کی ہے، اور میرے حمل ٹھر گیا ہے لیکن 4 سال میں میرے 2 آپریشن ہو چکے ہیں، اس کی وجہ سے مجھے بہت زیادہ کمزوری ہے، اور چھوٹی بیٹی motherfeed پہ بھی ہے، اور وہ بھی اپنی عمر کے حساب سے کمزور ہے، تو کیا اس صورت میں میرا اسقاط حمل کروانا جائز ہے؟

جواب

اگر حمل ٹھہرے ہوئے چار مہینے یعنی 120 دن مکمل ہو گئے ہوں، تو اسے ساقط یعنی ضائع کروانا، ناجائز و حرام اور ایک زندہ جان کا قتل ہے، کیونکہ چار مہینے مکمل ہونے کے بعد اس میں روح پھونک دی جاتی ہےاور اس میں جان پڑ جاتی ہے۔ البتہ! چار مہینے مکمل ہونے سے پہلے اگر حمل ضائع کروانے کی کوئی صحیح قابلِ اعتبار مجبوری و ضرورت ہو، تو اسے ضائع کروانا، جائز ہے، لیکن جب ایسی کوئی مجبوری نہ ہو، تو ایک دن کا بھی حمل ساقط کروانا، ناجائز و گناہ ہے۔

ضرورت و مجبوری کی مثال یہ ہے کہ مثلاً:پہلے سے دودھ پیتا بچہ موجود ہو، حمل کی وجہ سے دودھ خشک ہو جائے گا، اور دودھ کا کوئی دوسرا متبادل طریقہ بھی ممکن نہیں ہو گا، جس کی وجہ سے پہلے سےدودھ پیتے بچے کے ہلاک ہونے کا خطرہ ہے، یا اس کی پرورش میں شدید حرج ہو گا ،یا ماں کی صحت اتنی کمزور ہو کہ نئے بچے کی پیدائش سے دونوں میں سے کسی ایک کی جان کو شدید خطرہ ہوگا، اور حمل ٹھہرے ہوئے چار مہینے بھی مکمل نہ ہوئے ہوں، تو ایسی سخت مجبوری کی صورتوں میں حمل ساقط کروانا، جائز ہے، ورنہ جائز نہیں۔

صحیح مجبوری و ضرورت کے بغیر چار ماہ سے کم کا حمل گرانا بھی ناجائز و گناہ ہے۔ چنانچہ فتاوی قاضی خان میں ہے ”و اذا اسقطت الولد بالعلاج ۔ ۔ ۔ ان لم یستبن شئ من خلقہ ۔۔۔ فلا اقلّ من ان يلحقها اثم ھهنا اذا اسقطت بغير عذر ، الّا لا تأثم اثم القتل“ ترجمہ: جب عورت علاج کروا کے اپنا حمل ضائع کروائے، تو اگر بچے کے اعضا نہ بنے ہوں (یعنی اس میں جان نہ پڑی ہو)، تو اس کا کم سے کم حکم یہ ہے کہ اگر کسی مجبوری کے بغیر حمل ساقط کروایا، تو عورت گنہگار ہو گی، البتہ قتل والا گناہ نہیں ہو گا۔ (فتاوی قاضی خان، ج 3، ص 312، مطبوعہ: کراچی)

در مختار میں ہے ”ویکرہ ان تسقی لاسقاط حملھا وجاز لعذر حیث لا یتصور“ ترجمہ: عورت کا حمل ساقط کروانے کے لیے اسے دوائی پلانا مکروہ ہے اور مجبوری ہو ، تو بچے کی شکل بننے (یعنی اس میں جان پڑنے) سے پہلے جائز ہے۔

جاز لعذر کے تحت رد المحتار میں ہے ”کالمرضعۃ اذا ظھر لھا الحبل و انقطع لبنھا و لیس لابی الصبی ما یستاجر بہ الظئر ویخاف ھلاک الولد ، قالوا : یباح لھا ان تعالج فی استنزال الدم ما دام الحمل مضغۃ او علقۃ ولم یخلق لہ عضو وقدروا تلک المدۃ بمائۃ وعشرین یوما وجاز لانہ لیس بآدمی وفیہ صیانۃ الآدمی، خانیۃ“ ترجمہ: جیسا کہ پہلے سے موجود بچے کو دودھ پلانے والی عورت کو حمل ٹھہر جائے، اور اس کا دودھ خشک ہو جائے، اور بچے کے باپ کے پاس اتنا مال نہ ہو ، جس سے کسی دایہ (دودھ پلانے والی) کو تنخواہ پر رکھ سکے اور (پہلے والے) بچے کےہلاک ہو جانے کا خوف ہو، تو فقہائے کِرام فرماتے ہیں کہ اس عورت کے لیے (اس مجبوری سے) حمل ساقط کروانا جائز ہے، بشرطیکہ وہ گوشت کی بوٹی یا جما ہوا خون ہو، اور اس کا کوئی عضو نہ بنا ہو، اور فقہا نے اس کی مدت ایک سو بیس دن مقرر کی ہے، کیونکہ اس (مدت) سے پہلے تک وہ آدمی نہیں اور ایسا کرنے میں پہلے سے موجود آدمی (زندہ بچے) کی جان بچانا پایا جا رہا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الإباحۃ، ج 9، ص 709، مطبوعہ: کوئٹہ)

امامِ اہلِسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ’’جان پڑ جانے کے بعد اسقاطِ حمل حرام ہے اور ایسا کرنے والا گویا قاتل ہے اور جان پڑنے سے پہلے اگر کوئی ضرورت ہے، تو حرج نہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 207، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”اسقاطِ حمل کے لیے دوا استعمال کرنا یا دائی سے حمل ساقط کرانا منع ہے۔ بچہ کی صورت بنی ہو یا نہ بنی ہو، دونوں کا ایک حکم ہے۔ ہاں اگر عذر ہو مثلاً: عورت کے شِیر خوار (دودھ پیتا) بچہ ہے اور باپ کے پاس اِتنا نہیں کہ دایہ مقرر کرے یا دایہ دستیاب نہیں ہوتی اور حمل سے دودھ خشک ہو جائے گا اور بچہ کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے، تو اس مجبوری سے حمل ساقط کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے اعضا نہ بنے ہوں اور اس کی مدت ایک سو بیس دن ہے۔ (بہارِ شریعت، حصہ 16، ج 03، ص507، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5421
تاریخ اجراء: 03 ربیع الآخر 1448ھ / 15 ستمبر 2026ء