فرقان الرحمن نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
فرقان الرحمان نام رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
فرقان الرحمن نام رکھنا، جائز ہے؛ کیونکہ فرقان کا لغوی معنی ہے: "حجت، برہان، دلیلِ قاطع اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی چیز۔" جبکہ الرحمٰن، اللہ تعالیٰ کا مبارک صفاتی نام ہے۔ اس اعتبار سے فرقان الرحمٰن کا مفہوم یہ بنتا ہے: "رحمٰن کی حجت و برہان یا رحمٰن کی وہ دلیل جو حق و باطل کے درمیان واضح امتیاز کرنے والی ہو۔" البتہ! بہتر یہ ہے کہ اولاًبیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشادفرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیےلڑکے کا نام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامْ کے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن نیک لوگوں کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیجیے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشادفرمائی گئی ہے۔
القاموس الوحید میں ہے ”الفرقان: حجت وبرہان، دلیل قاطع، حق و باطل کوجدا کرنے والی ہر چیز ہر بات“ (القاموس الوحید، صفحہ 1226، ادارہ اسلامیات، لاہور)
محمد نام رکھنے کی فضیلت:
کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)
رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے ” قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب و إسناده حسن“ ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج 9، ص 688، مطبوعہ: کوئٹہ)
امامِ اہلِسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے، اس کے ساتھ جان وغیرہ اورکوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہااِنہیں اَسمائے مبارَکہ کے واردہوئے ہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 691، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب:
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "حدیث سے ثابت کہ محبوبانِ خدا، انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ و الثناء کے اسمائے طیبہ پرنام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص685، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ مراٰۃ المناجیح فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام،اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل،عثمان،علی،حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء اللہ بخشا جائے گا۔" ( مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، لاہور)
نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات اور بچوں اور بچیوں کے اسلامی نام حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ کتاب ’’نام رکھنے کے احکام‘‘کا مطالعہ کیجئے۔ دئیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ بھی کر سکتے ہیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5337
تاریخ اجراء: 10 ربیع الاول 1448ھ / 24 اگست 2026ء