بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
انڈے پر بیٹ لگی ہوئی تھی اور اس کو بغیر دھوئے ابال لیا، تو کیا حکم ہے؟
مرغی کی بیٹ نجاستِ غلیظہ ہے، اگر انڈے پر بیٹ لگی ہو، تو انڈے کا وہ حصہ ناپاک ہو جاتا ہے، جس پر بیٹ لگی ہو، لہٰذا اگر انڈا ابالنا ہو، تو پہلے اس پر لگی ہوئی بیٹ کو اچھی طرح صاف کیا جائے، پھر اسے ابالا جائے، کہ اسی حالت میں ابالنے سے برتن، برتن کاپانی اور انڈے کا سارا چھلکا ناپاک ہوجائے گا، اور بلاوجہ کسی پاک چیز کو ناپاک کرنا، گناہ ہے، لہذا اگر بیٹ صاف کئے بغیر ہی انڈے کو ابالا گیا، تو ایسی صورت میں برتن اور برتن میں موجود پانی اور انڈے کا ظاہری حصہ ناپاک ہوگیا، اس سے توبہ کی جائے اور برتن کو پاک کیا جائے، لیکن اگرپانی انڈے کے اندر نہیں گیا، تو انڈا اندر سے پاک ہی ہے، اسے کھایا جاسکتا ہے، اور احتیاط اسی میں ہے کہ انڈا چھیلنے سے پہلے اس کا چھلکا اچھی طرح دھولیا جائے، اور پھر چھلکا اتارا جائے کہ کہیں چھلکے کی نجاست انڈے کے اندروالے حصے کونہ لگ جائے۔
مرغی کی بیٹ نجاست غلیظہ ہے۔چنانچہ تنویر الابصار مع الدر المختارمیں ہے
(و خرء) كل طير لايذرق في الهواء كبط أهلي ( و دجاج) أما ما يذرق فيه، فإن مأكولا فطاهر و إلا فمخفف
یعنی: اُس پرندے کی بیٹ جو ہوا میں اڑتا نہ ہو، نجاستِ غلیظہ ہے جیسا کہ پالتو بطخ اور مرغی جبکہ وہ پرندے جو ہوا میں اڑتے ہوں، اگر انہیں کھانا حلال ہے تو ان کی بیٹ پاک ہے، ورنہ ان کی بیٹ نجاستِ خفیفہ ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الطھارۃ، جلد 1، صفحہ 577، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوٰی شامی میں ہے
ان المائع متی اصابتہ نجاسۃ خفیفۃ او غلیظۃ و ان قلت تنجس و لا یعتبر فیہ ربع و لا درھم؛ نعم تظھر الخفۃ فیما اذا اصاب ھذا المائع ثوباً او بدناً فیعتبر فیہ الربع
یعنی جب کسی مائع پر نجاست پہنچے خواہ خفیفہ ہو یا غلیظہ اگر چہ قلیل ہو تو وہ اس کل مائع کو نجس کردے گی اور اس میں چوتھائی یا درہم کا اعتبار نہ ہوگا، ہاں خفت اس صورت میں ظاہر ہوگی جب یہ مائع کسی کپڑے یا بدن کو لگے کہ اس میں چوتھائی کا اعتبار کیا جائے گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الطہارۃ، جلد 1، صفحہ 579، مطبوعہ: کوئٹہ)
بدائع الصنائع میں ہے
لا يجوز تنجيس الطاهر من غير ضرورة
ترجمہ: بغیر ضرورت پاک چیز کو ناپاک کرنا جائز نہیں۔ (بدائع الصنائع، ج 1، ص 19، دار الكتب العلمية، بیروت)
بہارِ شریعت میں ہے نَجاستِ خفیفہ اور غلیظہ کے جو الگ الگ حکم بتائے گئے، یہ اُسی وقت ہیں کہ بدن یا کپڑے میں لگے اور اگر کسی پتلی چیز جیسے پانی یا سرکہ میں گرے تو چاہے غلیظہ ہو یا خفیفہ، کُل ناپاک ہو جائے گی اگرچہ ایک قطرہ گرے جب تک وہ پتلی چیزحدِ کثرت پر یعنی دَہ در دَہ نہ ہو۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 390، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4590
تاریخ اجراء: 10 رجب المرجب 1447ھ / 31 دسمبر 2025ء