حیض کی حالت میں شوہر کا بیوی کو ہاتھ سے فارغ کرنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شوہر کا حیض کے دوران بیوی کو اپنے ہاتھ سے فارغ کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا شوہر دورانِ حیض اپنی بیوی کو ہاتھ سے فارغ کر سکتا ہے؟
جواب
شوہر کے لیے جائز نہیں کہ حیض و نفاس کی حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے فائدہ اٹھائے، یہاں تک کہ مرد کے لیے اپنے کسی عُضْوْ سے عورت کے ان حصوں کو بلا حائل چھونا بھی جائز نہیں چاہے شہوت کے ساتھ ہو یا بلا شہوت۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں شوہر کے لیے جائز نہیں کہ حالت حیض میں عورت کے مخصوص مقام کو چھو کر اسے فارغ کرے، البتہ عورت اپنے ہاتھ سے مرد کو فارغ کر سکتی ہے۔
فتاوٰی رضویہ میں ہے: کلیہ یہ ہے کہ حالتِ حیض و نفاس میں زیرِناف سے زانو تک عورت کے بدن سے بلاکسی ایسے حائل کے جس کے سبب جسمِ عورت کی گرمی اس کے جسم کو نہ پہنچے، تمتع جائز نہیں یہاں تک کہ اتنے ٹکڑے بدن پر شہوت سے نظر بھی جائز نہیں اور اتنے ٹکڑے کا چھونا بلاشہوت بھی جائز نہیں اور اس سے اوپرنیچے کے بدن سے مطلقاً تمتع جائز یہاں تک کہ سحقِ ذکر کر کے انزال کرنا۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 04، صفحہ 353، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
حیض و نفاس کے احکام بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ہمبستری یعنی جماع اس حالت میں حرام ہے۔۔۔ اس حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عُضْوْ سے چھونا ،جائز نہیں جب کہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو۔ شہوت سے ہویا بے شہوت اور اگر ایسا حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حَرَج نہیں۔ ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حَرَج نہیں۔ یوہیں بوس وکنار بھی جائز ہے۔ (بہارشریعت۔ ملتقطاً، جلد 01، صفحہ 382، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1971
تاریخ اجراء: 16ربیع الاول 1446ھ /21 ستمبر2024ء