دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا اجینو موٹو/ چائنیز نمک ملا ہوا کھانا کھا سکتے ہیں؟ کیونکہ لوگوں میں مشہور ہے کہ اس نمک کو بنانے میں سور کی چربی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
قوانینِ شرعیہ کی رُو سے اجینو موٹو/ چائنیز نمک ملا ہوا کھانا کھاسکتے ہیں۔
مسئلہ کی تفصیل کچھ یوں ہے:
اجینو موٹو /چائنیز نمک، گلوٹامک ایسڈ کیمیکل کے سوڈیئم سے ملنے کے بعد بنتا ہے جسے مونوسوڈیم گلوٹامیٹ(MSG) کہا جاتا ہے۔ اور گلوٹا میٹ ایک امینو ایسڈ ہے جو تمام پروٹین والی غذائیں جیسے پنیر، دودھ، ٹماٹر، کھمبی، گوشت، مچھلی وغیرہ بہت سی اشیاءِ خور دو نوش میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔ مونوسوڈیم گلوٹامیٹ ایک ذائقہ بڑھانے والا جزو(FlavourEnhancer ) ہے، جو 1900ء کی ابتدائی دہائیوں میں قدرتی پروٹین والی غذاؤں جیسے سمندری گھاس سے حاصل کیا جاتا تھا۔ جبکہ آج کل مونوسوڈیم گلوٹامیٹ نباتات (Plant Based Ingredient’s) مثلا نشاستہ، مکئی کی چینی یا گنے اور چقندر کے شِیرے (Molasses) کے ذریعے ایک قدرتی خمیر (Fermentation)کے عمل سے تیار ہوتا ہے۔
مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اجینو موٹو/ چائنیز نمک حلال ہے۔کیونکہ پلانٹ بیسڈ اجزاءکے متعلق شرعی اصول یہ ہےکہ تمام نباتات (Plant Based Ingredient’s) حلال ہیں، جبکہ ان کا استعمال ضرر و نقصان (Harmful) کی حد سے کم ہو اور نشہ (intoxication) کے لئے نہ ہو۔ اور اجینو موٹو نمک نہ تو نشہ آور ہے، نہ ہی معمولی مقدار میں استعمال ضرر رساں ہے۔ لہٰذا ایسی food products (کھانے کی اشیاء) جن میں اجینوموٹو نمک شامل ہو، استعمال کرنا بلا شبہ جائز ہے۔
اور جہاں تک سور کی چربی ملنے والی بات ہے تو اس کا کوئی شرعی ثبوت نہیں ہے۔ اور شرعی اصول یہ ہے کہ اشیاء میں اصل طہارت وحلت ہے۔ لہذا جب تک کسی چیز کے بارے میں شرعی طریقے سے ثابت نہ ہو جائے کہ اس میں کوئی ناپاک یا حرام چیز ملی ہوئی ہے، تب تک اسے ناپاک و حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور محض بازاری افواہ یا سنی سنائی بات قابلِ اعتبار نہیں ہوتی۔ ہاں اگر شرعی طریقہ کار سے ثابت ہو جائے کہ اس میں ناپاک یا حرام چیز ملی ہے، مثلاً بنانے والے خود اقرار کرتے ہوں یا گواہانِ شرعی سے ثابت ہو جائے، تو پھر اس کا استعمال ناجائز ہو گا۔ یا حرام چیز کی ملاوٹ کا قوی قرینہ ہو تو مزید تحقیق کا حکم ہوگا۔
قرآن پاک میں مختلف نباتات (Plant Based Ingredient’s) کے حلال ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى (۵۳) كُلُوْاوَارْعَوْااَنْعَامَكُمْ ﴾
ترجمہ کنزالایمان: تو ہم نےاس سے طرح طرح کے سبزےکے جوڑے نکالے، تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ۔ (القرآن الکریم، پارہ16، سورۃ طٰہٰ، آیت: 53، 54)
تفسیر نسفی میں امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نَسَفِی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
﴿كُلُوْا وَارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ﴾ والمعنى: أخرجنا أصناف النبات آذنين في الانتفاع بها مبيحين أن تأكلوا بعضها وتعلفوا بعضها"
یعنی ہم نے یہ نباتات تمہارے لیے اس لیے نکالی ہیں کہ انہیں کھانا اور اپنے جانوروں کو چَرانا تمہارے لیے مباح و جائز ہو۔ (تفسير النسفي، طہ، تحت الآیۃ: 54، صفحہ 693)
مختلف نباتات کا حکم بیان کرتے ہوئے ردالمحتار میں علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
"(الاصل الاباحۃ او التوقف) المختار الاول عند الجمھورمن الحنفیۃ والشافعیۃ۔۔ (فیفھم منہ حکم النبات۔۔۔)و ھو الاباحۃ علی المختار او التوقف وفیہ اشارۃ الی عدم تسلیم اسکارہ وتفتیرہ واضرارہ"
یعنی: (علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ "تتن" نامی ایک بوٹی کے بارے میں کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں) اشیاء میں اصل اباحت ہے یا توقف؟ حنفیہ اور شافعیہ میں سے جمہور علماء کامختار مذہب یہ ہےکہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔۔۔پس اس قاعدے سے تتن نامی بوٹی کا حکم بھی سمجھا جا سکتا ہے اور وہ مختار مذہب کے مطابق اس کا مباح ہونا ہے یا پھر (غیر مختار قول کے مطابق)توقف ہے اور اس میں اس طرف اشارہ ہےکہ اگر اُس بوٹی کا نشہ آور ہونا یا ضرر رساں ہونا تسلیم نہ کیا جائے، تب یہ حکم ہے(ورنہ اگر نشہ آور ہو یا ضرر رساں ہو، تو اُسے کھانا، جائز نہیں ہوگا)۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد6، صفحہ 460، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
اشیاء میں اصل حلت(حلال ہونا)ہے، جب تک حرام ہونے پر کوئی دلیل نہ ہو۔جیسا کہ قرآن مجید میں رب ذو الجلال کا فرمان ہے:
﴿هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا﴾
ترجمہ: وہی ہے جس نے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لئے بنایا۔ (القرآن الکریم، پارہ 1، سورۃ البقرۃ، آیت: 29)
تفسیر روح المعانی میں علامہ محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
"واستدل كثير من أهل السنة الحنفية والشافعية بالآية على إباحة الأشياء النافعة قبل ورود الشرع۔"
یعنی احناف و شوافع میں سے کثیر اہل سنت نےاس آیت کی روشنی میں شریعت کی طرف سے منع وارد ہونے سے قبل نفع مند اشیا کے مباح ہونے کا ا ستدلال کیا ہے۔(تفسیر روح المعانی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 29، جلد01، صفحہ291)
تفسیر صراط الجنان میں ہے: " اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے منع نہیں فرمایا وہ ہمارے لئے مُباح و حلال ہے۔" (صراط الجنان، البقرۃ، تحت الآیۃ: 29)
سنن ابن ماجہ کی حدیث شریف میں ہے:
"الحلال ماأحل اللہ فی کتابہ والحرام ماحرم اللہ فی کتابہ وماسکت عنہ فھو مما عفا عنہ"
ترجمہ: حلال وہ ہے جو اﷲ عزوجل نے اپنی کتاب میں حلال فرمادیا اور حرام وہ ہے جو ﷲ عزوجل نے اپنی کتاب میں حرام فرمادیا اور جن چیزوں سے سکوت اختیار فرمایا وہ معاف ہیں (ان کا استعمال جائز ہے)۔(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر3367، جلد4، صفحہ56، مطبوعہ دارا لمعرفۃ بیروت)
جب تک کسی چیز میں تحقیق نہ ہو کہ اس میں کوئی ناپاک یا حرام چیز ملی ہوئی ہے، تب تک اسے ناپاک وحرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جیساکہ فتاوی رضویہ شریف میں امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: "اصل اشیاء میں طہارت وحلت ہے جب تک تحقیق نہ ہو کہ اس میں کوئی ناپاک یا حرام چیز ملی ہے محض شبہہ پر نجس و ناجائز نہیں کہہ سکتے۔۔۔ ہاں اگر کچھ شبہہ ڈالنے والی خبریں سن کر احتیاط کرے تو بہتر۔ملتقطا" (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 620، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
محض بازاری افواہ قابلِ اعتبار نہیں۔ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: "بازاری افواہ قابل اعتبار اور احکام شرع کی مناط و مدار نہیں ہوسکتی بہت خبریں بے سروپا ایسی مشتہر ہوجاتے ہیں جن کی کچھ اصل نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 479، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
الاشباہ والنظائر میں علامہ ابن نجیم مصری الحنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "الیقین لایزول بالشک" یعنی: یقین شک سے زائل(ختم) نہیں ہوتا۔(الاشباہ والنظائر، صفحہ 62، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)
اجینو نو موٹو کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے، ان کی آفیشل ویب سائٹ میں ہے:
AJI-NO-MOTO ®, monosodium glutamate, is the sodium salt of glutamic acid, one of the most common naturally occurring amino acids. Glutamic acid is produced in abundance in our bodies and found in many foods we eat every day, including meat, fish, eggs and dairy products, as well as tomatoes and asparagus.
یعنی: اجینو نو موٹو/مونو سوڈیم گلوٹامیٹ، گلوٹامک ایسڈ کا سوڈیم نمک ہے، جو قدرتی طور پر پائے جانے والے سب سے عام امینو ایسڈز میں سے ایک ہے۔گلوٹامک ایسڈ انسانی جسم میں وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے اور ہماری روزمرہ خوراک میں بھی پایا جاتا ہے، جیسے گوشت، مچھلی، انڈے اور دودھ کی مصنوعات، نیز ٹماٹر اور سفید موصلی (سبزی)میں بھی۔
مونوسوڈئیم گلوٹامیٹ کے بارے میں انٹرنیشنل فوڈ انفارمیشن کونسل(IFIC)کی آفیشل ویب سائٹ پر ہے:
Glutamate is an amino acid, found in all protein-containing foods. Amino acids are the building blocks of proteins. This amino acid is one of the most abundant and important components of proteins. Glutamate occurs naturally in protein-containing foods such as cheese, milk, mushrooms, meat, fish, and many vegetables. Glutamate is also produced by the human body and is vital for metabolism and brain function.
What is Monosodium Glutamate?
Monosodium glutamate, or MSG, is the sodium salt of glutamate. When MSG is added to foods, it provides a similar flavoring function as the glutamate that occurs naturally in food. MSG is comprised of nothing more than water, sodium and glutamate.
Why is MSG used?
MSG is a flavor enhancer that has been used effectively to bring out the best taste in foods, emphasizing natural flavors. Many researchers also believe that MSG imparts a fifth taste, independent of the four basic tastes of sweet, sour, salty and bitter. This taste, called “umami” in Japan, is described by Americans as savory. Examples of each of these tastes are: Sweet – Sugar, Bitter – Coffee, Savory – Tomato, Sour – Lemon, Salt – Anchovy
How is MSG made?
In the early 1900s, MSG was extracted from natural protein-rich foods such as seaweed. Today, MSG is made from starch, corn sugar or molasses from sugar cane or sugar beets. MSG is produced by a natural fermentation process.
اس کا خلاصہ یہ ہےکہ: گلوٹا میٹ ایک امینو ایسڈ ہے جو تمام پروٹین والی غذائیں جیسے پنیر، دودھ، کھمبی، گوشت، مچھلی اور بہت سی سبزیوں میں پایا جاتا ہے۔ انسانی جسم بھی گلوٹا میٹ پیدا کرتا ہے۔اور مونوسوڈیم گلوٹا میٹ یا MSG، گلوٹا میٹ کا سوڈیم نمک ہے۔جسے کھانے میں ذائقہ بڑھانے کیلئے استعمال کیا جاتاہے۔ اور 1900ء کی ابتدائی دہائیوں میںMSG قدرتی پروٹین والی غذاؤں جیسے سمندری گھاس سے حاصل کیا جاتا تھا۔ آج کل MSG نشاستہ، مکئی کی چینی یا گنے اور چقندر کے شیرے سے بنایا جاتا ہے۔ MSG ایک قدرتی خمیر (Fermentation) کے عمل سے تیار ہوتا ہے۔
اشکال:
اگر چائنیز نمک حلال ہے تو پھر اس کے استعمال پر پابندی کیوں لگائی گئی ہے؟
جواب:
چائنیز نمک کے استعمال پر پابندی کی وجہ اس کا حرام ہونا نہیں، بلکہ فوڈ ایکسپرٹس کے نزدیک اس کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہے، اسی وجہ سے پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اس پر پابندی عائد کی ہے، البتہ World Health Organization اور United States Food And Drug Authority نے چائنیز نمک / اجینوموٹو کے عام استعمال کو محفوظ قراردیا ہے، یعنی اگر اس کو نارمل مقدار میں استعمال کیا جائے تو یہ نقصان دہ نہیں ہوتا۔ تفصیلات ان کے آفیشل پیج پر موجود ہے:
"January 15, 2018: The Punjab Food Authority (PFA) banned the use of ‘Ajinomoto’ also known as china salt in the preparing of food dishes and other food items due to injurious for consumer health here on Monday.
This decision has been taken on the recommendations of PFA Scientific Panel in which they informed that china salt is become a cause of several health diseases like headache, blood pressure, heart palpitations, memory loss and disturb mental and nervous system. As well as, it also effect on women during pregnancy.
Penal further recommended that china salt is mostly used in restaurants, hotels and homes for which PFA take stern action immediately for stopping its practice in cooking.
According to Punjab Pure Food Regulations 2017, it is strictly forbidden the use of Mono Sodium Glutamate (MSG) in weaning food, fats and oils, frozen meat and fish and other essential commodities.
In this regard, Director General PFA Noor ul Amin Mengal said that the main ingredient of Ajinomoto is MSG that is side effects on human. He said “According to Punjab Pure Food Regulations 2017, it is compulsory for all food industry to label in visible font size on their products about “Mono Sodium Glutamate” is presence in it and it is not fit for less than 12 months old infants”. He said that PFA is giving adjustment time for two months to all food industry and PFA will take strict action against responsible in the case of violation of this prohibition after March 31."
اس کا خلاصہ یہ ہےکہ: 15 جنوری 2018ء: پنجاب فوڈ اتھارٹی(PFA) نے "اجینو موٹو" کو کھانے کی ڈشز اور دیگر غذائی اشیاء کی تیاری میں استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے کیونکہ یہ صارفین کی صحت کے لیے مضر ہے۔ یہ فیصلہ PFA کے سائنٹیفک پینل کی سفارشات پر کیا گیا، جنہوں نے آگاہ کیا کہ چائنہ سالٹ کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے جیسے کہ سر درد، بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، یادداشت کی کمزوری اور دماغی و اعصابی نظام میں خلل۔ اس کے علاوہ، یہ دورانِ حمل خواتین پر بھی منفی اثرات ڈالتا ہے۔ پنجاب پیور فوڈ ریگولیشنز 2017ء کے مطابق، مونوسوڈیم گلوٹامیٹ (MSG) کا استعمال بچوں کے کھانوں، چکنائی اور تیل، منجمد گوشت اور مچھلی اور دیگر بنیادی غذائی اشیاء میں سختی سے ممنوع ہے۔
World Health Organization اور United States Food And Drug Authority نے چائنیز نمک / اجینوموٹو کے عام استعمال کو محفوظ قراردیا ہے، یعنی اگر اس کو نارمل مقدار میں استعمال کیا جائے تو یہ نقصان دہ نہیں ہوتا جیساکہ ایک ویب سائٹ پر ہے:
"MSG has no adverse effects if consumed in normal amounts as part of the diet"۔
Disclaimer
نوٹ: اس فتوے کا مقصد فقط اجینو موٹو / چائنیز نمک کا شرعی حکم بیان کرنا ہے۔ بہر حال اگر کسی ملک یا شہر میں اس کے استعمال کرنے پر یا خرید و فروخت پر قانونی پابندی ہو تو اس قانون کی پاسداری کرنا لازمی ہے۔ اور جائز ملکی قوانین کی پابندی کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: NRL-0353
تاریخ اجراء: 17صفرالمظفر1447 ھ/12اگست2025ء