دارالافتاء اہلسنت)دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل ایک فیشن چلا ہے، جس میں دانت پر ایک چھوٹا سا کریسٹل، موتی، یا اسٹون لگوایا جاتا ہے، اسے انگریزی میں "Tooth gem" یا "Dental jewelry" کہا جاتا ہے، خاص طور پر عورتوں میں یہ زیادہ رائج ہے۔ پوچھنا یہ تھا کہ کیا خوبصورتی کی غرض سے دانتوں پر یہ موتی، کریسٹل یا اسٹون لگواسکتے ہیں یا نہیں ؟ رہنمائی فرمادیں۔ سائل: اکبر مدنی (پاکپتن)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
سوال میں بیان کردہ فیشن "Tooth gem" یا "Dental jewelry" کا شرعی حکم جاننے سے پہلے اس کا طریقہ کار جاننا ضروری ہے کہ یہ کیوں لگایا جاتا ہے ؟ اور کس سے لگوایا جاتا ہے ؟ نیز لگانے کا طریقہ کیا ہوتا ہے؟ اس حوالے سے مختلف Dentists(دانتوں کے ڈاکٹرز) اور انٹر نیٹ کی مدد سے جو معلومات ہمیں ملی، وہ یہ ہے کہ ؛ "Tooth gem" یا"Dental jewelry" ایک کاسمیٹک لوازمہ ہیں جو مسکراہٹ کو ایک منفرد اور چمکدار ٹچ دینے کے لیے دانتوں کی سطح پر لگائے جاتے ہیں۔ اس کو لگانے کے لیے دانت کو صاف کرکے خاص ڈینٹل گلو سے اسے چپکایا جاتا ہے۔ یہ عمل عام طور پر ڈینٹسٹ یا پروفیشنل بیوٹی ٹیکنیشن کے ذریعے کیا جاتا ہے، تاکہ دانتوں کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ موتی یا اسٹون وغیرہ دانت میں بالکل فکس نہیں ہوتا، بلکہ عارضی طور پر چند مہینوں سے لے کر ایک سال یا اس سے بھی زیادہ مدت کے لیے لگایا جاتا ہے۔
حکم شرعی:
دین ِ اسلام نے مرد و عورت کو شرعی حدود و قیود میں رہتے ہوئے زینت اختیار کرنے کی اجازت دی ہے، خصوصا ً عورت کو تو اپنے شوہر کے لیے جائز زینت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور اس پر اس کے لیے اجر رکھا ہے، لیکن ایسی زینت جس کو اختیار کرنے کے لیے کسی ناجائز کام کا ارتکاب کرنا پڑے یا وہ زینت کسی دینی ضرورت کوپورا کرنے میں رکاوٹ بنے اور اس کی حاجت بھی نہ ہو، تو ایسی زینت اور فیشن کو اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ چنانچہ سوال میں بیان کردہ فیشن (جس میں دانت پر چھوٹا سا کریسٹل، موتی، یا اسٹون لگوایا جاتا ہے) اگرچہ زینت کی ہی ایک قسم ہے، لیکن یہ فیشن کئی وجوہ سے شرعا ًممنوع ہے؛
اولاً: بیان کردہ موتی یا اسٹون وغیرہ لگوانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسکراتے یا ہنستے وقت سامنے والے پر یہ ظاہر ہو، جس سے خوبصورتی میں اضافہ ہو، ہمارے ہاں دین دار مہذّب لو گوں میں یہ طریقہ رائج نہیں ہے، بلکہ اس طرح کی چیزیں سوشل میڈیا کے ذریعے کسی سنگر، پاپ اسٹار، گلوکار یا سوشل میڈیا انفلوئنسرز وغیرہ فاسق لوگوں کی نقل ہوتی ہیں، جیساکہ اسی فیشن کے بارے مختلف ویب سائٹس میں لکھا ہوا ہے۔ پھر عورتوں میں اس کا رائج ہونا مزید نقصان دہ ہے، کہ ان کی نیت اگر غیر محرم مردوں پر اظہار کی ہوئی تو یہ سخت ناجائز و حرام اور قرآنی تعلیمات کے خلاف ہے۔اس طرح کی چیزوں سے بچنے میں ہی عافیت ہے کہ ہمیں ہمارا پیارا دین کفار وفسّاق کی مشابہت اختیار کرنےسے منع کرتا ہے اور اچھوں کی مشابہت اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
ثانیاً: اس فیشن میں اپنے آپ کو بلا حاجت و ضرورت ایسی حالت کے لیے تیار کرنا ہے جو فرض یا سنت مؤکدہ کی ادائیگی میں رکاوٹ بنے۔کیونکہ دانتوں پر اس طرح کی کوئی چیز لگوانے کی صورت میں اس کے نیچے پانی نہیں جائے گا، حالانکہ کلی اس طرح کرنا کہ منہ کے اندر ہر ہر پرزے پر اچھی طرح پانی بہہ جائے، وضو میں سنت مؤکدہ اور فرض غسل میں فرض ہے، لہٰذا ایسی حالت پیدا کرنا ناجائز ہے جس میں ان فرائض سے رکاوٹ پیدا ہو۔
ثالثا ً: چونکہ عورتوں میں یہ زیادہ رائج ہے، تو اس حوالے سے یہ بھی شرعی خرابی پائی جاتی ہے کہ اس کام کے لیے عموماً ڈینٹسٹ یا پروفیشنل بیوٹی ٹیکنیشن حضرات سے رابطہ کیا جاتا ہے اور ان میں ایک تعدا د مردوں کی ہوتی ہے جو کہ غیر محرم ہوتے ہیں ، ان سے یہ کام کروانے میں کئی گناہ ہوسکتے ہیں، جیسے بلاوجہ شرعی غیر محرم مرد کے سامنے اپنا چہرہ کھولنا، حالانکہ علماء کرام نے اس پر فتن دور میں چہرے کا پردہ واجب فرمایا ہے اور بلا ضرورت غیر محرم کے سامنے چہرہ کھولنے سے منع کیا ہے، نیز بعض صورتوں میں غیر محرم کے ساتھ تنہائی بھی ہوگی، جو کہ ناجائز و حرام ہے۔ اگر یہ چیزیں نہ بھی ہوں تو بھی اوپر بیان کردہ خرابیاں تو پائی جاتی ہیں۔
نتیجہ: لہذا متعدد شرعی خرابیاں پائی جانے کے سبب یہ فیشن شرعا ممنوع ہے۔
ترتیب وار جزئیات:
کسی قوم سے مشابہت اختیار کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”من تشبہ بقوم فھو منھم“
ترجمہ: جو شخص جس قوم سے مشابہت کرے، تووہ انہی میں سے ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، ج 02، ص203، مطبوعہ لاھور)
علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ/1605ء) لکھتے ہیں:
”أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم): أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق“
ترجمہ: یعنی جو اپنے آپ کو کفار یا فساق و فجار یا اہل تصوف اور نیک لوگوں سے مشابہت کرے تو وہ ان میں سے ہی ہے، یعنی اس گناہ اور نیکی میں (ان کےساتھ شامل ہے)، علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں مشابہت خَلق (ظاہری حالت) اور خُلق (اخلاق و کردار) دونوں میں عام ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد07، صفحہ 2782، دار الفكر، بيروت)
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”یہ حدیث ایک اصل کلی ہے۔ لباس و عادات و اطوار میں کن لوگوں سے مشابہت کرنی چاہیے اور کن سے نہیں کرنی چاہیے۔ کفار و فساق و فجار سے مشابہت بُری ہے اور اہل صلاح و تقویٰ کی مشابہت اچھی ہے، پھر اس تشبہ کے بھی درجات ہیں اور انہیں کے اعتبار سے احکام بھی مختلف ہیں۔ کفار و فساق سے تشبہ کا ادنیٰ مرتبہ کراہت ہے، مسلمان اپنے کو ان لوگوں سے ممتاز رکھے کہ پہچانا جاسکے اور غیرمسلم کا شبہ اس پر نہ ہوسکے۔ (بہارشریعت، ج03، ص407، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
خالقِ کائنات عزوجل مسلمان عورتوں کو غیرِمحرم کے سامنے اپنی زینت ظاہر کرنے سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ﴾
ترجمہ کنزالعرفان : اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ دکھائیں، مگر جتنا (بدن کاحصہ) خود ہی ظاہر ہے اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں۔ (پارہ 18، سورۃالنور، آیت31)
مذکورہ آیتِ مبارکہ کے اس جزء " وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ " کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: ’’ ابو البرکات عبداللّٰہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: ’’زینت سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے عورت سجتی سنورتی ہے جیسے زیور اور سرمہ وغیرہ اور چونکہ محض زینت کے سامان کو دکھانا مباح ہے اس لئے آیت کا معنی یہ ہے کہ مسلمان عورتیں اپنے بدن کے ان اعضا کو ظاہر نہ کریں جہاں زینت کرتی ہیں جیسے سر، کان، گردن، سینہ، بازو، کہنیاں اور پنڈلیاں۔ (صراط الجنان، جلد6، صفحہ620، 621مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وضو و غسل میں کلی کا حکم بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: ”منہ کے ہر ذرہ پر حلق تک پانی بہنا اور دونوں نتھنوں میں ناک کی ہڈی شروع ہونے تک پانی چڑھنا غسل میں فرض اور وضو میں سنت موکدہ ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد1 حصہ2، صفحہ596، 595، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
تنویر الابصار و درمختار میں ہے:
”(وفرض الغسل، غسل)کل(فمہ)۔۔۔(وانفہ)حتی ما تحت الدرن (و) باقی (بدنہ)“ ملتقطاً“
یعنی غسل کے فرائض یہ ہیں کہ پورا منہ اندر سے دھویا جائے اور ناک کو یہاں تک کہ اس میں جمی ہوئی رینٹھ کے نیچے تک حصےکو دھویا جائے اور باقی سب بدن کو دھویا جائے۔ (درمختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 312، مطبوعہ کوئٹہ)
ایسی جگہ جہاں پانی پہنچانا فرض ہے، وہاں کوئی چیز لگی ہوئی ہو جو پانی کو جلد تک پہنچنے سے مانع ہو تو اسے زائل کرنا لازم ہے، چنانچہ صدرالشریعہ، بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: ”دانتوں کی جڑوں یا کھڑکیوں میں کوئی ایسی چیز جو پانی بہنے سے روکے، جمی ہو تو اُس کا چُھڑانا ضروری ہے اگر چھڑانے میں ضرر اور حَرَج نہ ہو جیسے چھالیا کے دانے، گوشت کے ریشے۔“ (بہار شریعت، غسل کا بیان، جلد1، حصہ 2، صفحہ316، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
عورت کوچہرے کے پردے کی تعلیم دیتے ہوئے، خالق کائنات عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۵۹)﴾
ترجمہ کنزا الایمان: اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پارہ22، سورہ احزاب، آیت 59)
علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:
”تمنع من الكشف لخوف أن يرى الرجال وجهها فتقع الفتنة لأنه مع الكشف قد يقع النظر إليها بشهوة“
ترجمہ: عورت کو چہرہ کھولنے سے منع کیا جائے گا، اس خوف کی وجہ سے کہ مرد اس کے چہرے کو دیکھیں اور فتنے میں پڑ جائیں۔ کیونکہ چہرہ کھلا ہونے کے ساتھ کبھی اس پر شہوت کے ساتھ نظر پڑ جائے گی۔ (رد المحتار، جلد 1، صفحہ 406، دار الفکر، بیروت)
چہرہ چھپانے کے متعلق اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”اس طرح رفتہ رفتہ حاملان شریعت وحکمائے امت نے حکم حجاب دیا اور چہرہ چھپانا کہ صدر اول میں واجب نہ تھا واجب کردیا۔ نہایہ میں ہے:سدل الشیئ علی وجھھا واجب علیھا، چہرے پر پردہ لٹکانا عورت پر واجب ہے۔ شرح لباب میں ہے:
دلت المسئلۃ علی ان المرأۃ منھیۃ عن اظھار وجھھا للاجانب بلاضرورۃ۔
یہ مسئلہ اس بات پرد لالت کرتاہے کہ عورت کو بلا ضرورت اجنبی لوگوں پر اپنا چہرہ کھولنا منع ہے۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد14، صفحہ 551، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
فتوی نمبر: OKR -0139
تاریخ اجراء: 20 جمادی الاولی 1447 ھ/12نومبر 2025 ء