logo logo
AI Search

دوسرے کی بات اپنے شوہر کو بتانا شرعاً کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کسی کی بتائی ہوئی بات اپنے شوہر کو سنانا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کوئی مجھے کوئی واقعہ سنائے، اس بات کی تصدیق کرنے کے بعد کہ میرے شوہر گھر پر نہیں ہیں (حالانکہ کہانی کا تعلق ان سے نہیں ہے)، تو کیا میں وہ واقعہ اپنے شوہر کو سنا سکتی ہوں؟ (یعنی انہوں نے صراحتاً یہ نہیں کہا کہ اسے اپنے شوہر سے نہ بانٹوں، لیکن صورتحال سے یہ تاثر ملتا ہے)۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں اس شخص کی بات امانت ہے لہٰذا اپنے شوہر کو نہیں بتا سکتیں۔

سیدی امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی مدظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں: ’’بات کے امانت ہونے کیلئے یہ شرط نہیں کہ کہنے والا صَراحَۃً (یعنی صاف لفظوں میں )منع کرے کہ کسی کو مت بتانا، بلکہ اگر وہ بات کرتے ہوئے اِس طرح اِدھر اُدھر دیکھے کہ کوئی سُن تو نہیں رہا !یہ بھی بِالکل واضِح قرینہ ہے کہ یہ بات امانت ہے، چُنانچِہ سرکارِ مدینہ منوّرہ، سردارِ مکّہ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ امانت بنیاد ہے:

اِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْحَدِیْثَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَھِیَ اَمَانَۃٌ‘‘

جب کوئی آدمی بات کر کے اِدھراُدھر دیکھے تو وہ بات امانت ہے۔‘‘ (سُنَنِ تِرمِذی ج۳ ص۳۸۶ حدیث۱۹۶۶) مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: یعنی اگر کوئی شخص تم سے اکیلے میں کوئی بات کہے اور بات کے دوران یا بات کے درمیان میں اِدھر اُدھر دیکھے کہ کوئی سن نہ لے تو وہ اگرچِہ منہ سے نہ کہے کہ یہ کسی سے نہ کہنا مگر اس کی یہ حرکت بتاتی ہے کہ وہ راز کی بات ہے لہٰذا اسے امانت سمجھو، اُس کا راز ظاہر نہ کرو، کسی سے یہ بات نہ کہو۔ سبحٰنَ اللہ (عَزَّوَجَلَّ ) کیسی پاکیزہ تعلیم ہے۔ ( مراٰۃ المناجیح ج۶ ص۶۲۹) (غیبت کی تباہ کاریاں، ص 428، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2349

تاریخ اجراء:29محرم الحرام1447ھ/25جولائی2025ء