دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا گھر میں "Aquarium Fish" یعنی مچھلی گھر لگا سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
گھر میں ایکوریم ٹینک یعنی مچھلی گھر لگا سکتے ہیں، اس کی کوئی ممانعت نہیں، البتہ اگر اس ٹینک کے اندر مچھلی پالیں تو ان کے لیے پانی، خوراک وغیرہ دیگر ضروریات کا اہتمام کرنا ضروری ہے، اگر خوراک اور دیگر ضروریات کا خیال نہ رکھا جائے تو ایسی صورت میں اس ایکوریم ٹینک میں مچھلی پالنا جائز نہیں، کہ یہ جانور پر ظلم اور ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔
صحیح مسلم میں ہے
عن عبد اللہ، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: عذبت امرأة في هرة سجنتها حتى ماتت فدخلت فيها النار، لا هي أطعمتها و سقتها، إذ حبستها، و لا هي تركتها تأكل من خشاش الأرض
ترجمہ:حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”ایک عورت ایک بلی کے سبب عذاب میں مبتلا ہوئی کہ اس نے بلی کو قید کر رکھا حتی کہ بلی مرگئی تو وہ عورت جہنم میں داخل ہوئی، اس عورت نے نہ تو بلی کو کھانا کھلایا نہ پانی پلایا کہ قید کر رکھا تھا اور نہ چھوڑا کہ زمین سے گرا پڑا کچھ کھالیتی۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث 2242، ج 4، ص 1760، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
رد المحتار علی الدرالمختار میں ہے
لا بأس بحبس الطیور والدجاج فی بیتہ ولکن یعلفھا
ترجمہ: پرندوں، مرغیوں کو گھر میں رکھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ان کےدانہ پانی کا خیال رکھے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 6، ص 401، دار الفکر، بیروت)
امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "اور جانوران خانگی مثل خروس و ماکیان و کبوتر اہلی وغیرہا کا پالنا بلاشبہ جائز ہے جبکہ انہیں ایذا سے بچائے اور آب و دانہ کی کافی خبرگیری رکھے۔۔۔ مگرخبر گیری کی یہ تاکید ہے کہ دن میں ستر دفعہ پانی دکھائے کما ورد فی الحدیث (جیساکہ حدیث میں وارد ہوا ہے) ورنہ پالنا اور بھوکا پیاسا رکھنا سخت گناہ ہے۔" (فتاوی رضویہ،ج 24، ص 643، 644، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-3058
تاریخ اجراء:11ربیع الاول1446ھ/14ستمبر2024ء