logo logo
AI Search

کیا ہیئر بوٹوکس (Hair Botox) کروا سکتے ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہیئر بوٹوکس (Hair Botox) کروانا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہیئر بوٹوکس (Hair Botox) یہ کریم نما مرکب ہوتا ہے، جسے بالوں پر لیپ کر لگایا جاتا ہے، اور پھر کچھ دیر بعد دھو دیا جاتا ہے۔ اور یہ تیل کی مثل بالوں کے خالی حصوں (Gaps) کو بھر کر، روکھے پن اور فریزنس (Freeznes) کو ختم کرکے انہیں ہموار، چمکدار اور صحت مند بناتا ہے۔اس میں عموماً یہ اجزاء شامل ہوتے ہیں:

(1)کیراٹین (Keratin): جو بھیڑوں وغیرہ جانوروں کی اون و بالوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔(2)کولیجن (Collagen): یہ جانوروں کی ہڈیوں اور جلد سے اخذ کیا جاتا ہے۔(3)وٹامنز (B5، E وغیرہ): انڈے کی زردی، مچھلی، پودوں، دالوں، گوشت وغیرہ سے اخذ کیے جاتے ہیں۔(4) اینٹی آکسیڈنٹس (Antioxidants): یہ زیادہ تر پودوں، سبزیوں، بیجوں اور پھلوں سے حاصل کیے جاتے ہیں، تاہم بعض اوقات یہ مچھلی یا جانوروں سے بھی نکالے جاتے ہیں۔(5) قدرتی تیل (Argan Oil, Coconut Oil): مختلف پودوں سے حاصل کیے جاتے ہیں۔

اس تفصیل کے بعد یہ بتا دیجیے کہ ہیئربوٹوکس(hair Botox) کروانا کیساہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں ہیئربوٹوکس کا استعمال جائز ہے۔

تفصیل:

سوال میں بیان کردہ تفصیل کے مطابق ہیئر بوٹوکس کی پروڈکٹ میں کیراٹین، کولیجن، وٹامنز، اینٹی آکسیڈنٹس اور قدرتی تیل  شامل ہوتے ہیں۔ ان اجزاء میں سے پودوں سے ماخوذ قدرتی تیلوں کی پاکی واضح ہے جبکہ کیراٹین، کولیجن، وٹامنز، اینٹی آکسیڈنٹس کا حصول جس طرح پاک ذرائع، مثلاً: پودوں، مچھلی، انڈوں، مذبوحہ جانوروں سے ہوتا ہے، تو ایسے ہی ناپاک ذرائع، مثلاً: خنزیر یا مردار جانور کے ناپاک اعضاء سے بھی ممکن ہے۔لہذا اگر کسی پروڈکٹ میں ان ذرائع میں سے کوئی ناپاک جز شامل ہو، تو اب اس پروڈکٹ کی ناپاکی کا حکم ہوگا، اور اگر سب اجزاء پاک ہوں تو پروڈکٹ کی پاکی کا حکم ہوگا۔ اور جہاں پاکی، ناپاکی کا کچھ معلوم نہ ہو، تو اب ایسی پروڈکٹ کا استعمال فتوے کی رو سے جائز ہی رہے گا اور اسے استعمال کرنے والا گنہگار نہیں کہلائےگا۔

کیونکہ شرعی اصول یہ ہے کہ اشیاء میں اصل اباحت و طہارت ہے، تو جب تک کسی چیز میں کسی ناپاک چیز کی شمولیت کا یقینی علم نہ ہو، اس وقت تک اس چیز کے ناپاک ہونےکا حکم نہیں ہوتا، اورایسے معاملات میں بلا دلیل و قرینہ کے پیدا ہونے والے شک و گمان کا اعتبار نہیں ہے۔ ہاں قرائن وغیرہ کی رو سے کسی ناپاک چیز کی ملاوٹ کا اندیشہ ہو، تو پھر تحقیق کا حکم ہوتا ہے۔ جبکہ سوال میں بیان کردہ صورت میں یہ کیفیت بھی نہیں ہے۔البتہ اگر کسی ہیئر بوٹوکس پروڈکٹ میں واقعی کوئی ناپاک جز شامل ہونے کا یقینی علم معتمد ذرائع سے حاصل ہو جائے، تو ایسی صورت میں ہیئربوٹوکس کا استعمال جائز نہیں ہوگا کہ یہ خود کو بلاحاجت شرعی ناپاکی میں متلوث کرنا ہے، جس کی شرعاً ممانعت ہے۔

پودوں سے متعلق رد المحتارمیں ہے:

(قوله فيفهم منه حكمالنبات) وهو الإباحة على المختار

ترجمہ: (شارح کا قول: اس سے جڑی بوٹیوں کا حکم معلوم ہو جاتا ہے) یعنی راجح قول میں وہ مباح ہوں گی۔ (رد المحتار، جلد 06، صفحہ 460، دار الفکر، بیروت)

کھال سے بیرونی انتفاع کے متعلق صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ہے:

واللفظ للبخاریعن ابن عباس رضي اللہ عنهما، قال: " وجد النبي صلى اللہ عليه وسلم شاة ميتة، أعطيتها مولاة لميمونة من الصدقة، فقال النبي صلى اللہ عليه وسلم: «هلا انتفعتم بجلدها؟» قالوا: إنها ميتة: قال: «إنما حرم أكلها»

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک مردار بکری ملی، جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی کو صدقہ میں دی گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے نفع کیوں نہیں اٹھایا؟ صحابہ نے عرض کیا: یہ تو مردار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے۔ (صحيح البخاري، جلد 02، صفحہ 128، دار طوق النجاۃ، بیروت)

اس کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

(فقال: " إنما حرم أكلها"): قال ابن الملك: أي أكل الميتة، وأما جلدها فيجوز دباغته، ويطهر بها حتى يجوز استعماله في الأشياء الرطبة والوضوء منه والصلاة معه وعليه، وفي شرح السنة فيه دليل لمن ذهب أي: أن ما عدا المأكول غير محرم الانتفاع كالشعر والسن والقرن، ونحوها

ترجمہ: فرمایا کہ (صرف اس کا کھانا حرام ہے)۔ ابن الملک نے کہا: یعنی مردار کا کھانا حرام ہے، اور جہاں تک اس کی کھال کا تعلق ہے، تو اسے دباغت کرنا، جائز ہے، اور اس کے ذریعے یہ پاک ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ اس کا استعمال تر اشیاء میں، اس سے وضو کرنا اور اس کے ساتھ یا اس پر نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔ شرح السنہ میں ہے: اس سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ کھانے کے علاوہ نفع اٹھانا حرام نہیں ہے، جیسے بال، دانت، سینگ وغیرہ۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، جلد 02، صفحہ 465، دار الفکر، بیروت)

جانوروں کے بالوں، ہڈیوں اور اون کے متعلق نور الایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں ہے:

وكل شيء لا يسري فيه الدم لا ينجس بالموت كالشعر والريش المجزوز والقرن والحافر والعظم ما لم يكن به دسم

ترجمہ: ہر وہ چیز جس میں خون نہیں بہتا، تو وہ موت سے نجس نہیں ہوتا، جیساکہ بال، اترا ہوا پراور سینگ اور کھر اور ہڈی جبکہ اس پر چکنائی نہ ہو۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح، صفحہ 108، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

جانوروں کی ہڈیوں کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: ہڈیاں ہر جانور یہاں تک کہ غیر ماکول و نامذبوح کی بھی مطلقاً پاک ہیں، جب تک ان پر ناپاک دسومت (چکنائی ) نہ ہو، سوا خنزیر کے کہ نجس العین ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 475، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اشیاء میں اصل اباحت ہونے کے متعلق قرآن پاک میں ہے:

ﮃهُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاﮂ

ترجمہ: وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔ (پارہ 01، سورۃ البقرہ، آیت 29)

محض شک و ظن سے کسی چیز کی نجاست ثابت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: شریعت مطہرہ میں طہارت وحلت اصل ہیں اور ان کا ثبوت خود حاصل کہ اپنے اثبات میں کسی دلیل کا محتاج نہیں اور حرمت و نجاست عارضی کہ ان کے ثبوت کو دلیل خاص درکار اور محض شکوک و ظنون سے اُن کا اثبات ناممکن کہ طہارت وحلت پر بوجہ اصالت جو یقین تھا اُس کا زوال بھی اس کے مثل یقین ہی سے متصور نراظن لاحق یقین سابق کے حکم کو رفع نہیں کرتا یہ شرع شریف کا ضابطہ عظیمہ ہے جس پر ہزارہا احکام متفرع۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 476-477، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اسی میں ہے: جب تک خاص اس شَے میں جسے استعمال کرنا چاہتا ہے کوئی مظنہ قویہ حظر و ممانعت کا نہ پایا جائے تفتیش و تحقیقات کی بھی حاجت نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 04، صفحہ 514، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بلا ضرورت شرعی پاک شے کو ناپاک کرنا شرعا ناجائز وگناہ ہے، جیسا کہ البحر الرائق میں ہے:أما تنجيس الطاهر فحرام ترجمہ: پاک شے کو ناپاک کرنا حرام ہے۔ (البحر الرائق، جلد 01، صفحہ 99، دار الکتاب الاسلامی، بیروت)

اسی طرح فتاوی رضویہ میں ہے: بلا ضرورت پاک شے کو ناپاک کرنا ناجائز وگناہ ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 01، صفحہ 585، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد ساجد عطاری

مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری

فتوی نمبر: NRL-0356

تاریخ اجراء: 14 ربیع الاول  1447 ھ/08 ستمبر 2025 ء