دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
خون سے لکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
خون سے لکھنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ خون ناپاک ہے اور خون سے لکھنے کی صورت میں ایک تو جو حروف لکھے جائیں گے، ان کی بے ادبی ہے، اور پھر جتنے مقدس حروف و کلمات ہوں گے، اس قدرحکم میں سختی آئے گی، اور دوسرا جس پاک چیز پر لکھاجائے گا، اس کو بلا ضرورت ناپاک کرنا پایا جائے گا، جو کہ ناجائز و گناہ ہے۔اگر کوئی تعویذ خون سے لکھنا ہوتا ہے، تو وہاں خون کے بجائے مشک کااستعمال کیاجائے کہ وہ اصل میں خون ہی ہے۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ”عقود اللآلی فی الاسانید العوالی“ کے خاتمہ میں اپنے شیخ کے حوالے سے خون کے ساتھ کتابت ِ قرآن کے ناجائز ہونے کا ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”يكتب للرعاف على جبهة المرعوف ﴿وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ﴾ ولا يجوز كتابتها بدم الرعاف كما يفعله بعض الجهال لأن الدم نجس فلا يجوز أن يكتب به كلام الله تعالى“
ترجمہ: نکسیر کو روکنے کے لئے مبتلا شخص کے ماتھے پر یہ آیت لکھی جاتی ہے: ﴿وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ﴾، جب کہ نکسیر کے خون کے ساتھ یہ آیت لکھنا، ناجائز ہے، جیسا کہ بعض جاہل لو گ ایسا کرتے ہیں، کیونکہ خون ناپاک ہے، تو اس کے ساتھ اللہ تعالی کا پاک کلام لکھنا جائز نہیں۔ (عقود اللآلی فی الاسانید العوالی، صفحہ509، دار البشائر الاسلامیۃ)
رد المحتار میں ہے ”نقلوا عندنا أن للحروف حرمة“ ترجمہ: علما نے یہ بات نقل کی ہے کہ ہمارے نزدیک حروف کی حرمت ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار، ج1، ص607، کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے ”ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ نفسِ حروف قابلِ ادب ہیں اگرچہ جدا جدا لکھے ہوں جیسے تختی یا وصلی پر، خواہ ان میں کوئی برا نام لکھا ہو جیسے فرعون، ابوجہل وغیرہما تاہم حرفوں کی تعظیم کی جائے اگرچہ ان کافروں کا نام لائقِ اہانت و تذلیل ہے۔۔۔۔۔ حروفِ تہجی خود کلام اللہ ہیں کہ ہُود علیہ الصلوۃ و السلام پر نازل ہوئے۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج23، ص336، 337، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے ”وتنجیس الطاھر بغیر ضرورۃ لا یجوز“ یعنی: بغیر کسی ضرورت کے پاک چیز کو ناپاک کرنا، جائز نہیں ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ47، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃفرماتے ہیں: "دفع صرع وغیرہ کے تعویذ کہ مرغ کے خون سے لکھتے ہیں، یہ بھی ناجائز ہے۔ اس کے عوض مشک سے لکھیں کہ وہ بھی اصل میں خون ہی ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد24، صفحہ 196، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-4572
تاریخ اجراء:03 رجب المرجب1447ھ/24دسمبر2025ء