جواب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ Malting ایک خاص قسم کا عمل ہے جو تین مرحلوں پر مشتمل ہوتا ہے:
(01)Steeping: سب سے پہلے اناج(مثلاجو/Barley، رائی، گیہوں، چاول اور مکئ وغیرہ) کو پانی کے ٹینک میں ڈالا جاتا ہے جہاں وہ نمی جذب کرتا ہے اور اس کے دانے (Kernal) میں موجود ایمبریو (Embryo) فعال (Active)ہو جاتا ہے۔
(02) Germination: پھر بھیگا ہوا اناج اُگنے(Germination)کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے اور دانے کے نچلے حصے سے چھوٹی چھوٹی جڑیں نکلتی ہیں۔Germinationکے دوران ایسے انزائمز(Enzyme’s) فعال ہو جاتے ہیں جنہیں یہ ننھا سا دانہ اپنے اندر موجود نشاستے کو توڑنے اور اسے جڑ اور تنہ بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ نشاستہ توڑنے والے انزائمز (Enzyme’s) دانے کی سخت اور نازک بیرونی تہہ میں بھی سرایت کر جاتے ہیں اور اسے نرم، زیادہ حل پذیر(Soluble) اور خوش ذائقہ (مالٹی فلیور والا) بنا دیتے ہیں۔
(03)Kilning: پھر جب مطلوبہ تبدیلی مکمل ہو جاتی ہے تو اناج کو گرم ہوا سے خشک کر کے اگنے کا عمل روک دیا جاتا ہے۔ یہ مرحلہ مالٹ کے ذائقے اور رنگ کو طے کرتا ہے۔
(01)Malt beverage کے استعمال کا شرعی حکم:
اب اس خاص قسم کے عمل سے حاصل ہونے والا اناج، مالٹڈ اناج(Malted Grain) کہلاتا ہے، جسے مختلف مشروبات بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے جس میں الکوحلک (نشہ آور) مشروبات اور نان الکوحلک مشروبات دونوں ہی شامل ہو سکتے ہیں۔ لہذا اگر مشروب بنانے میں تخمیر کا عمل / Fermentation Process (جس سے الکوحل /Generate پیدا ہوتی ہے) شامل ہواور وہ مشروب نشہ آور ہو جائے تو اس کا استعمال حرام ہوگا کیونکہ یہ شراب بن گئی۔ اور شراب حرام ہے۔ تاہم اگر مشروب بنانے میں تخمیر کا عمل( Fermentation Process ) شامل نہ ہو اور وہ مشروب نشہ آور نہ ہو اور نہ ہی اس میں کوئی اور ممنوع چیز شامل کی گئی ہو تو ایسا مالٹڈ مشروب(Malt beverage) پینے میں حرج نہیں، کیونکہ مالٹڈ اناج (Malted Grain) ویسے ہی حلال شمار ہوگا جیسا کہ عام اناج۔ اور اوپر بیان کردہ مالٹنگ کا پروسیس بھی ایسا نہیں کہ جس کی وجہ سے اس میں کوئی حرمت پیدا ہو جائے۔ لہذا مالٹڈ اناج (Malted Grain) بھی حلال ہی رہے گا۔ زمین سے نکلنے والی معدنیات و نباتات(پھل، پودے، جڑی بوٹیاں وغیرہ ) کے متعلق عام شرعی اصول یہ ہےکہ یہ سب اپنی اصل کے اعتبار سے حلال ہیں، جبکہ ان کا استعمال ضرر و نقصان (Harmful) کی حد سے کم ہو اور نشہ (intoxication) کے لئےنہ ہو۔
(02)Malt Powder کے استعمال کا شرعی حکم:
مالٹ پاؤڈر اناج(مثلا جو / Barley، رائی، گیہوں، چاول اور مکئ) سے بنتا ہے، سب سے پہلے اناج کو پانی میں بھگویا جاتا ہے تاکہ ان میں اُگنے کا عمل شروع ہو، پھر ہوا میں خشک کر دیا جاتا ہے تاکہ یہ عمل رک جائے۔ اس دوران اناج سے ایسے enzymes خارج ہوتے ہیں جو نشاستہ کو شکر میں تبدیل کرتے ہیں، جس سے اس کا ذائقہ مزید میٹھا ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اناج کو خشک کرکے باریک پیس کر پاؤڈر بنا لیا جاتا ہے، اس تفصیل سے Malt Powder کا حکم بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اس کا استعمال شرعا جائز ہے، کیونکہ Malt Powder کو بنانے میں کوئی ایسا عمل/ Process شامل نہیں جو شرعا ممنوع ہو۔ ہاں اگر پاؤڈر میں اس کے علاوہ کوئی ممنوع چیز شامل کی گئی تو اس کی وجہ سے ممانعت کا حکم ہو گا۔
جزئیات درج ذیل ہیں:
قرآن پاک میں مختلف نباتات (Plant Based Ingredient’s) کے حلال ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:
﴿فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى (۵۳) كُلُوْاوَارْعَوْااَنْعَامَكُمْ ﴾
ترجمہ کنزالایمان: توہم نےاس سےطرح طرح کے سبزےکے جوڑےنکالے، تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ۔ (القرآن الکریم، پارہ16، سورۃ طہ، آیت: 53، 54)
تفسیر نسفی میں امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نَسَفِی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
﴿كُلُوْا وَارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ ﴾
والمعنى: أخرجنا أصناف النبات آذنين في الانتفاع بها مبيحين أن تأكلوا بعضها وتعلفوا بعضها"
یعنی ہم نے یہ نباتات تمہارے لیے اس لیے نکالی ہیں کہ انہیں کھانا اور اپنے جانوروں کو چَرانا تمہارے لیے مباح و جائز ہو۔ (تفسير النسفي، طہ، تحت الآیۃ: 54، صفحہ 693)
تمام نباتات حلال و مباح ہیں، جبکہ ضرر یا نشہ نہ دیں، جیسا کہ ردالمحتار میں علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
"(الاصل الاباحۃ او التوقف) المختارالاول عند الجمھورمن الحنفیۃ والشافعیۃ۔۔ (فیفھم منہ حکم النبات۔۔۔) و ھو الاباحۃ علی المختار او التوقف وفیہ اشارۃ الی عدم تسلیم اسکارہ وتفتیرہ واضرارہ"
یعنی: (علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ "تتن" نامی ایک بوٹی کے بارے میں کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں)اشیاء میں اصل اباحت ہے یا توقف؟ حنفیہ اور شافعیہ میں سے جمہور علماء کا مختار مذہب یہ ہےکہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔۔۔پس اس قاعدے سے تتن نامی بوٹی کا حکم بھی سمجھا جاسکتا ہے اور وہ مختار مذہب کے مطابق اس کا مباح ہونا ہے یا پھر (غیر مختار قول کے مطابق) توقف ہے اور اس میں اس طرف اشارہ ہےکہ اگر اُس بوٹی کا نشہ آور ہونا یا ضرر رساں ہونا تسلیم نہ کیا جائے، تب یہ حکم ہے (ورنہ اگر نشہ آور ہو یا ضرر رساں ہو، تو اُسے کھانا، جائز نہیں ہوگا)۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد6، صفحہ 460، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
تمام اشیاء اپنی اصل کے اعتبار سے مباح (جائز وحلال) ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں رب ذو الجلال کا فرمان ہے:
﴿هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ﴾
ترجمہ: وہی ہے جس نے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لئے بنایا۔ (القرآن الکریم، پارہ 1، سورۃ البقرۃ، آیت: 29)
تفسیر روح المعانی میں علامہ محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہاس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
"واستدل كثير من أهل السنة الحنفية والشافعية بالآية على إباحة الأشياء النافعة قبل ورود الشرع"
یعنی احناف و شوافع میں سے کثیر اہل سنت نے اس آیت سے شریعت کی طرف سے منع وارد ہونے سے قبل نفع مند اشیا کے مباح ہونے کا ا ستدلال کیا ہے۔ (تفسیر روح المعانی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 29، جلد01، صفحہ291)
سنن ابن ماجہ کی حدیث شریف میں ہے:
"الحلال ماأحل اللہ فی کتابہ والحرام ماحرم اللہ فی کتابہ وماسکت عنہ فھو مما عفا عنہ"
ترجمہ: حلال وہ ہے جو ﷲ عزوجل نے اپنی کتاب میں حلال فرمادیا اور حرام وہ ہے جو ﷲ عزوجل نے اپنی کتاب میں حرام فرمادیا اور جن چیزوں سے سکوت اختیار فرمایا وہ معاف ہیں (ان کا استعمال جائز ہے)۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر3367، جلد4، صفحہ56، مطبوعہ دارا لمعرفۃ بیروت)
ردالمحتارمیں علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
"الاصل فی الاشیاء الاباحۃ"
یعنی: اشیاء میں اصل اباحت(جائز وحلال ہونا) ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد6، صفحہ 459، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:
"(وحرمھا محمد) ای الاشربۃ المتخذۃ من العسل والتین ونحوھما۔۔۔(مطلقاً ) قلیلھا وکثیرھا (وبہ یفتی)"
یعنی: اور کھجور اور انگور کے علاوہ اشیاء سے بننے والی شرابوں کی قلیل و کثیر مقدار کو بھی امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے حرام قرار دیا اور یہی مفتیٰ بہ قول ہے۔ ملتقطا (تنویر الابصار مع در مختار، جلد6، صفحہ454، مطبوعہ دارالفکر بیروت)
مذکورہ بالا عبارت کے تحت علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ اپنے حاشیہ ردالمحتار میں فرماتے ہیں:
"وھذہ الاشربۃ عند محمد وموافقیہ کخمر بلا تفاوت فی الاحکام وبھذا یفتی فی زماننا "
یعنی: احکام میں فرق کیے بغیر، خمر کی طرح یہ تمام شرابیں امام محمد رحمہ اللہ اور آپ کے موافقین کے نزدیک حرام ہیں اور ہمارے زمانے میں اسی پر فتویٰ ہے ۔ (رد المحتار، جلد6، صفحہ456، مطبوعہ دارالفکر بیروت)
مالٹ کے متعلق تفصیلات بیان کرتے ہوئے، ایک ویب سائٹ پر موجود ہے کہ:
The malting process itself consists of three stages: steeping, germination, and kilning. In steeping, the grain is placed in a tank with water and absorbs moisture, awakening the embryo within the kernel. The dampened grain is then allowed to germinate, or sprout, and tiny rootlets grow out from the bottom of the kernel. During germination, enzymes are activated that the embryo plant uses to break down the starch in its kernel and build it into root and stem structures. These starch-splitting enzymes also permeate the seed’s hard, brittle outer wall, converting it into a softer and more soluble form and giving it a characteristic malty flavour. The germination process requires that cooled and moistened air move through the mass of sprouting grain, which must be gently moved to prevent matting of the rootlets. In modern malting procedures, germination usually takes place in revolving drums or in tanks equipped with agitators…When the desired biological modification in the grain has been attained, the germination process is stopped by kilning. In this stage, the germinated grain, called green malt, is dried by currents of heated air entering through perforations in the floor of the kiln. The timing and heat intensity applied in kilning affect the malt’s flavour and colour development. The malt intended for Scotch whisky is dried over a fire to which peat is added, its smoke being absorbed by the malt. The enzymes produced within the barleycorn during germination break down the starch stored in the seed kernel to simpler carbohydrates, chiefly malt sugar (maltose). Other enzymes are also produced in the grain that can break down proteins to simpler nitrogenous compounds. In brewing, malt is added to a cereal mash in order for the former’s enzymes to convert the latter’s starches into maltose. The maltose is subsequently fermented by yeast, resulting in the alcohol and carbon dioxide that give beer its distinctive qualities. Malt extract is produced by mashing malt, removing the solids, and then using an evaporator to concentrate the aqueous fraction. The resulting product is a thick syrup containing sugars, vitamins, and minerals.
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مالٹ بنانے کا عمل تین مرحلوں پر مشتمل ہوتا ہے: (01)Steeping: سب سے پہلے اناج(مثلاجو/Barley، رائی، گیہوں، چاول اور مکئ وغیرہ) کو پانی کے ٹینک میں ڈالا جاتا ہے جہاں وہ نمی جذب کرتا ہے اور اس کے دانے کے اندر موجود جرثومہ بیدار ہو جاتا ہے۔(02) Germination: پھربھیگا ہوا اناج اُگنے (Germination)کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے اور دانے کے نچلے حصے سے چھوٹی چھوٹی جڑیں نکلتی ہیں۔جرمنیشن کے دوران ایسے انزائمز فعال ہو جاتے ہیں جنہیں یہ ننھاسا پودا اپنے اندر موجود نشاستے کو توڑنے اور اسے جڑ اور تنا بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ نشاستہ توڑنے والے انزائمز دانے کی سخت اور نازک بیرونی تہہ میں بھی سرایت کر جاتے ہیں اور اسے نرم، زیادہ حل پذیر اور خوش ذائقہ (مالٹی فلیور والا) بنا دیتے ہیں۔ (03)Kilning: پھر جب مطلوبہ تبدیلی مکمل ہو جاتی ہے تو اناج کو گرم ہوا سے خشک کر کے اگنے کا عمل روک دیا جاتا ہے۔ یہ مرحلہ مالٹ کے ذائقے اور رنگ کو طے کرتا ہے۔اس پورے عمل کے دوران خاص انزائمز پیدا ہوتے ہیں جو بعد میں بیئر یا دیگر مشروبات بنانے میں نشاستے کو شکر میں بدلنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان شکر کو خمیر (Yeast) کے ذریعے الکحل اور کاربن ڈائی آکسائیڈ میں بدلا جاتا ہے۔مالٹ ایکسٹریکٹ اناج کو پکا کر، پھر چھان کر اور آخر میں گاڑھا کر کے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ گاڑھا شربت دار مادہ ہوتا ہے جس میں شکر، وٹامنز اور منرلز شامل ہوتے ہیں۔
مالٹ پاؤڈر کے متعلق تفصیلات بیان کرتے ہوئے، ایک ویب سائٹ پر موجود ہے کہ:
Malt powder is made from grains - usually barley - that have been allowed to sprout. The grains are steeped in water to encourage them to germinate, then air-dried to halt the process. This short germination period stimulates the grain to release certain enzymes that break down its starches into sugars, creating a sweeter flavour. The grain is then dried and ground to produce a fine powder.
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مالٹ پاؤڈر اناج (مثلاجو /Barley، رائی، گیہوں، چاول اور مکئ) سے بنتا ہے، سب سے پہلے اناج کو پانی میں بھگویا جاتا ہے تاکہ ان میں اُگنے کا عمل شروع ہو، پھر ہوا میں خشک کر دیا جاتا ہے تاکہ یہ عمل رک جائے۔ اس دوران اناج سے ایسے enzymes خارج ہوتے ہیں جو نشاستہ کو شکر میں تبدیل کرتے ہیں، جس سے اس کا ذائقہ مزید میٹھا ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اناج کو خشک کرکے باریک پیس کر پاؤڈر بنا لیا جاتا ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق:مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: NRL-0371
تاریخ اجراء: 22ربیع الاول 1447 ھ/16ستمبر2025ء