یہ درست نہیں ہے، کسی بھی دن غسل کرنے کی شرعاً ممانعت نہیں ہے، لہذا منگل اور بدھ کو بھی غسل کرنا جائز ہے، بلکہ بعض صورتوں میں غسل فرض ہوتا ہے، جیسے جنابت کا غسل اور حیض و نفاس سے فراغت پر غسل فرض ہوتا ہے، اور بعض صورتوں میں سنت ہوتا ہے مثلا عید الفطر، بقر عید، وقوف عرفہ اور احرام باندھتے وقت غسل سنّت ہے، اور بعض صورتوں میں غسل مستحب ہوتا ہے مثلا شبِ عرفہ و وقوفِ مزدلفہ، حرم مبارک کی حاضری، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے لئے، طواف و دُخولِ منیٰ اور جَمروں پر کنکریاں مارنے کے لیے تینوں دن، مجلسِ میلاد شریف اور دِیگر مجالسِ خیر کی حاضری کے لیے، اور مردہ نہلانے کے بعد اور مجنون کو جنون جانے کے بعد، اور غشی سے افاقہ کے بعد، اور نشہ جاتے رہنے کے بعد، اور گناہ سے توبہ کرنے، اور نیا کپڑا پہننے کے لیے، اور سفر سے آنے والے کے لیے، استحاضہ کا خون بند ہونے کے بعد، نماز کسوف و خسوف و اِسْتِسقاء اور خوف و تاریکی اور سَخْت آندھی کے لیے، وغیرہ وغیرہ، ان سب صورتوں میں غُسل مستحب ہے، لہذا مذکورہ حالتوں میں سے جو حالت بدھ یا منگل والے دن پائی گئی، تو اسی کے مطابق غسل کا حکم ہوگا، یعنی مرد و عورت میں سے کسی پر غسل فرض ہونے کے اسباب میں سے کوئی سبب ان دنوں میں پایا گیا، تو اس پر غسل فرض ہی ہوگا، اور وقوف عرفہ یا عید الفطر یا بقر عید ان دنوں میں سے کسی دن آئی، یا ان میں سےکسی دن احرام باندھنا ہو، تو غسل سنت ہوگا، یونہی بیان کردہ مستحب مواقع میں سے کوئی پایا جا رہا ہو، تو دیگر ایام کی طرح ان دو دنوں میں بھی غسل کرنا مستحب ہی رہے گا۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے
”وسن لصلاة جمعة (و) لصلاة (عيد)۔۔۔ (و) لأجل (إحرام و)۔۔ (عرفة)۔۔۔ (وندب لمجنون أفاق) وكذا المغمى عليه، كذا في غرر الأذكار، وهل السكران كذلك؟ لم أره (وعند حجامة وفي ليلة براءة) وعرفة (وقدر)۔۔۔(وعند الوقوف بمزدلفة غداة يوم النحر)۔۔۔ (وعند دخول منى يوم النحر) لرمي الجمرة (و) كذا لبقية الرمي، و (عند دخول مكة لطواف الزيارة ولصلاة كسوف) وخسوف (واستسقاء وفزع وظلمة وريح شديد) وكذا لدخول المدينة، ولحضور مجمع الناس، ولمن لبس ثوبا جديدا أو غسل ميتا ۔۔۔ أولتائب من ذنب، ولقادم من سفر، ولمستحاضة انقطع دمها“
ترجمہ: جمعہ کی نماز، عید کی نماز اور احرام باندھنے کے لیے غسل سنت ہے اور یومِ عرفہ کے دن۔ اور اس شخص کے لیے مستحب ہے جو مجنون تھا پھر اسے افاقہ ہو گیا، اور اسی طرح بے ہوش شخص کے لیے جب وہ ہوش میں آئے، جیسا کہ غرر الاذکار میں مذکور ہے، اور کیا نشے والا بھی اسی حکم میں ہے؟ میں نے اس کا ذکر نہیں دیکھا۔ نیز پچھنا لگوانے کے بعد، شبِ براءت میں، اور شب ِعرفہ میں، اور شب قدر میں، اور مزدلفہ میں یومِ نحر کی صبح وقوف کے وقت، اور یومِ نحر کو منیٰ میں داخل ہوتے وقت جمرہ کو کنکریاں مارنے کے لیے، اور اسی طرح باقی رمیوں کے لیے بھی غسل مستحب ہے، اور مکہ میں داخل ہوتے وقت طوافِ زیارت کے لیے، اور نمازِ کسوف، خسوف، استسقاء، خوف، اندھیرے اور شدید آندھی کے وقت، اسی طرح مدینہ میں داخل ہوتے وقت، لوگوں کے اجتماع میں شرکت کے لیے، نیا کپڑا پہننے والے کے لیے، میت کو غسل دینے والے کے لیے، گناہ سے توبہ کرنے والے کے لیے، سفر سے آنے والے کے لیے، اور مستحاضہ عورت کے لیے جب اس کا خون بند ہو جائے، غسل کرنا مستحب ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد1، صفحہ339تا342، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی عالمگیری میں ہے
”الموجبۃ للغسل وھی ثلاثۃ: منھا الجنابۃ۔۔۔ السبب الثانی الایلاج۔۔۔ و منھا الحیض والنفاس“
ترجمہ: غسل واجب کرنے والی تین چیزیں ہیں: ان میں سے ایک جنابت ہے۔ دوسرا سبب ایلاج (دخول) ہے، اور ان میں سے تیسرا حیض و نفاس ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد1، صفحہ14 تا 16، مطبوعہ: کوئٹہ)
نوٹ: کسی دن غسل کرنے کو نقصان کاسبب سمجھنا، بدشگونی ہے، جوکہ مسلمانوں کاطریقہ نہیں ہے۔
قرآن پاک میں اللہ تعالٰی ارشاد فرماتاہے:
﴿ قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ-قَالَ طٰٓىٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ ﴾
ترجمہ کنز الایمان: بولے ہم نے برا شگون لیا تم سے اور تمہارے ساتھیوں سےفرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہےبلکہ تم لوگ فتنے میں پڑے ہو۔ (القرآن، سورۃ النمل، پارہ 19، آیت: 47)
مذکورہ آیت کےتحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”یاد رہے کہ بندے کو پہنچنے والی مصیبتیں اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہیں۔۔۔ اور مصیبتیں آنے کا عمومی سبب بندے کے اپنے برے اعمال ہیں، جیسا کہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے
﴿ وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ ﴾
ترجمہ کنزُالعِرفان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔
اور جب ایسا ہے تو کسی چیز سے بد شگونی لینا اور اپنے اوپر آنے والی مصیبت کو اس کی نحوست جاننا درست نہیں اور کسی مسلمان کو تو یہ بات زیب ہی نہیں دیتی کہ وہ کسی چیز سے بد شگونی لے کیونکہ یہ تو مشرکوں کا سا کام ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تین بار ارشاد فرمایا کہ بد شگونی شرک (یعنی مشرکوں کا سا کام) ہے اور ہمارے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں، اللہ تعالٰی اسےتوکّل کے ذریعے دور کر دیتا ہے۔“ (صراط الجنان، جلد 7، صفحہ 211، 212، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے بد فالی لینے والوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
”لیس منا من تطیر “
ترجمہ: جس نے بد شگونی لی وہ ہم میں سے نہیں(یعنی ہمارے طریقے پر نہیں)۔ (المعجم الکبیر، جلد 18، صفحہ 162، حدیث: 355، مطبوعہ: قاھرۃ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-4617
تاریخ اجراء: 17رجب المرجب1447ھ/07جنوری2026ء