بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
دنیاوی پریشانی کے باعث یہ دعا نہیں کرسکتے کہ موت آجائے، تو کیا یہ دعا کرسکتے ہیں کہ گناہ کی تلافی کے بعد پوری زندگی کے لیےکوما میں چلے جائیں؟
احادیث مبارکہ میں دنیاوی تکالیف کی وجہ سے موت کی تمنا سے منع کیا گیا ہے اور پھر یہ کہا گیاہے اگر بندے نے کرنی ہے تو یہ دعا کرے ’’اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے حق میں بہترہے اور مجھے وفات دے جس وقت موت میرے حق میں بہتر ہو‘‘۔ لہٰذا کوما میں جانے کی دعا کے بجائے یہ دعا کی جائے۔ اپنے لیے عافیت کی دعا کرنی چاہیے، مصیبت کی دعا کرنا عقلمندی نہیں بلکہ حدیث پاک میں صبر کی دعا کرنے سے بھی ممانعت وارد ہوئی کہ درپردہ یہ بھی مصیبت کی دعا ہے۔
صحیح بخاری میں ہے
”عن أنس بن مالك رضي الله عنه، قال النبي صلى الله عليه وسلم: لا يتمنين أحدكم الموت من ضر أصابه، فإن كان لا بد فاعلا، فليقل: اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي، وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي“
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اور اگر کرنی ہی ہو تو یوں کہے: اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے حق میں بہترہے اور مجھے وفات دے جس وقت موت میرے حق میں بہتر ہو۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث 5671، ج 7، ص 121، دار طوق النجاۃ)
اس کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
”ای من أجل ضرر مالي أو بدني۔۔۔۔(خيرا لي) أي: من الموت، وهو أن تكون الطاعة غالبة على المعصية والأزمنة خالية عن الفتنة والمحنة. (وتوفني) أي: أمتني. (إذا كانت الوفاة)۔۔۔ (خيرا لي) أي: من الحياة بأن يكون الأمر عكس ما تقدم“
ترجمہ: یعنی مالی یابدنی نقصان کی وجہ سے موت کی تمنانہ کرے۔ (تمنا کرنی ہو تو یوں کرے کہ مجھے زندہ رکھ جب تک) میرے لیے زندگی موت سے بہترہے اوروہ یوں کہ نیکی، گناہ پرغالب ہواورزمانے فتنے اورآزمائش سے خالی ہوں۔اور (یوں کہے کہ) مجھے وفات دے جب وفات میرے زندگی سے بہتر ہو یوں کہ معاملہ گزشتہ صورت سے برعکس ہو۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز، باب تمنی الموت وذکرہ، ج 3، ص 1157، دار الفکر، بیروت)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ’’خلاصہ یہ کہ دنیوی مضرتوں سے بچنے کے لئے موت کی تمنا ناجائز ہے اور دینی مضرت (دینی نقصان)کے خوف سے جائز۔‘‘ (فضائل دعا، ص 183، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2348
تاریخ اجراء:14ذو القعدۃالحرام1446ھ/12مئی2025ء