بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ قبرستان میں موجود کیڑے مکوڑوں کو مارنا کیسا ہے؟
سائل: (محمد حسان، فیصل آباد)
قبرستان یا کسی بھی جگہ پر موجود حشرات الارض کو مارنے کے بارے میں حکمِ شرعی یہ ہے کہ ایسے حشرات الارض، جوموذی(یعنی اذیت پہنچانے والے) ہوں، مثلا سانپ، بچھو، چھپکلی وغیرہ، انہیں مارنے میں شرعاً حرج نہیں، البتہ ایسے حشرات الارض جو موذی نہ ہوں، جیسے چیونٹیاں اوران کی مثل غیر موذی کیڑے وغیرہ، انہیں بلاوجہ مارنے کی اجازت نہیں، لیکن اگر یہ بھی نقصان یا تکلیف کا باعث بنیں، تو انہیں بقدر ضرورت مارا جا سکتا ہے۔ مارنے میں یہ خیال رہے کہ انہیں جلا کر نہ مارا جائے، بلکہ ایسا طریقہ اختیار کیا جائے، جس سے ان کو کم سے کم تکلیف پہنچے۔
جو جانور یا حشرات الارض موذی ہوں، انہیں مارنا ،جائز ہے، جیساکہ بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
خمس من الدواب لا جناح على من قتلهن في قتلهن: الغراب و الحدأة و العقرب و الفأرة و الكلب العقور
ترجمہ: پانچ حیوانات ایسے ہیں جنہیں مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں: کوّا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔ (الصحیح البخاری، جلد 3، صفحہ 16، رقم الحدیث: 1828، مطبوعہ دار طوق النجاۃ)
درج بالا پانچ جانوروں کو قتل کرنے کی علت ان کا موذی ہونا ہے، جیساکہ اس حدیثِ مبارک کے تحت علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتےہیں:
أنه يستفاد من الحديث جواز قتل هذه الخمسة من الدواب للمحرم، فإذا أبيح للمحرم فللحلال بالطريق الأولى۔۔۔ قلت: أصحابنا اقتصروا على الخمس إلا أنهم ألحقوا بها: الحية لثبوت الخبر، و الذئب لمشاركته للكلب في الكلبية، و ألحقوا بذلك ما ابتدأ بالعدوان و الأذى من غيرها، و قال بعضهم، و تعقب بظهور المعنى في الخمس و هو: الأذى الطبيعي و العدوان المركب، و المعنى إذا ظهر في المنصوص عليه تعدى الحكم إلى كل ما وجد فيه ذلك المعنى
ترجمہ: اس حدیثِ مبارک سے مُحرِم کے لیے ان پانچ جانوروں کو قتل کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، اور جب مُحرِم کے لیے جواز ہے، تو غیر مُحرِم کے لیے تو بدرجۂ اولیٰ جواز ہوگا۔۔۔ میں کہتا ہوں: ہمارے فقہاء نے صرف انہی پانچ جانوروں پر اکتفا کیا ہے، مگر انہوں نے ان میں سانپ کو شامل کیا ہے، کیونکہ اس کا حکم حدیث سے ثابت ہے۔ اسی طرح بھیڑیے کو شامل کیا ہے، کیونکہ وہ کتے کے ساتھ خصلتِ کَلْبِیَّہ (یعنی نقصان پہنچانے اور درندگی) میں شریک ہے۔ اور انہوں نے اس میں ہر اُس جانور کو بھی شامل کیا ہے جو سرکشی یا ایذا دینے میں ابتدا کرنے والا ہو۔ اور بعض نے کہا کہ ان پانچ جانوروں میں جو علت زیادہ ظاہر ہے کہ فطری طور پر ان جانوروں میں اذیت دینا اور سرکشی کرنا، شامل ہے، لہذا جب یہ علت منصوص جانوروں میں ظاہر ہے، تو ہر اُس جانور پر بھی یہی حکم جاری ہوگا، جس میں یہ علت پائی جائے۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، جلد 10، صفحہ 179و 182،مطبوعہ دار إحياء التراث العربي، بيروت)
تکلیف دینے والے کیڑے مکوڑوں اور جانوروں کو ہر جگہ مارنا، جائز ہے، جیساکہ مفتی محمد احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتےہیں: یہ پانچ جانور موذی ہیں یعنی اپنے نفع کے بغیر دوسرے کا نقصان کر دینے والے ہیں، ان کا قتل ہر جگہ اور ہر حال میں دُرُست ہے۔ یہ جانور چونکہ اِبتداءً لوگوں کو ستاتے ہیں اور بغیر اپنے نفع کے لوگوں کا نقصان کر دیتے ہیں، لہٰذا اِنہیں ہر جگہ حِل و حرم اور ہر حالت حلال و حرام میں قتل کر سکتے ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد 4، صفحہ 206، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات)
نقصان پہنچانے والے کیڑے مکوڑوں، مثلاً بچھو وغیرہ کو جلانے کی اجازت نہیں، بلکہ انہیں کم سے کم تکلیف پہنچا کر مارا جائے، جیساکہ تنویر الابصار و درمختار میں ہے:
(جاز قتل ما يضر منها ككلب عقور و هرة) تضر (و يذبحها) ای الهرة (ذبحا) و لا يضر بها لانه لا يفيد ولا يحرقها و في المبتغى يكره احراق جراد و قمل و عقرب
ترجمہ: نقصان پہنچانے والے جانور، جیسے کاٹنے والا کتا اور بلی کو مارنا، جائز ہے اور ان کو تکلیف دئیے بغیر ذبح کیا جائے، کیونکہ انہیں تکلیف دینے میں کوئی فائدہ نہیں، لیکن انہیں جلایا نہ جائے۔ مبتغی میں ہے: ٹڈی، جُوں اور بچھو کو جلانا، مکروہ ہے۔ مذکورہ بالا عبارت کے الفاظ ”يكره احراق جراد“ کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:
ای تحريما و مثل القمل البرغوث و مثل العقرب الحية
ترجمہ: یعنی مکروہِ تحریمی ہے۔ پسو کا حکم جُوں کی طرح اور سانپ کا حکم بچھو کی طرح ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، جلد 10، صفحہ 517، مطبوعہ کوئٹہ)
چیونٹی کو بلا وجہ مارنے سے منع کیا گیا ہے، جیساکہ سنن ابن ماجہ میں ہے:
نهى رسول اللہ عن قتل الصرد، و الضفدع، و النملة، و الهدهد
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مَمولے ( ایک چھوٹا سا شکاری پرندہ)، مینڈک، چیونٹی اور ہُد ہُد کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، جلد 2، صفحہ 1074، رقم الحدیث: 3223، مطبوعہ دار إحياء الكتب العربية)
اگر چیونٹی اذیت دے یا نقصان پہنچائے، تو اسے مارنا، جائز ہے، جیساکہ البحر الرائق میں ہے:
و قتل النملة قيل لا بأس به مطلقا و قيل إن بدأت بالأذى فلا بأس به و إن لم تبتدئ يكره و هو المختار
ترجمہ: اور چیونٹی کو مارنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ اذیت و تکلیف کا باعث ہو، لیکن اگر اذیت نہ دیتی تو مارنا مکروہ ہے اور یہی مختار ہے۔ (البحر الرائق، جلد 8، صفحہ 232، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)
چیونٹی نقصان نہ پہنچاتی ہو، تو اسے مارنا، مکروہ ہے، جیسا کہ بہار شریعت میں ہے: چیونٹی نے ایذا پہنچائی اور مار ڈالی، تو حرج نہیں، ورنہ مکروہ ہے، جوں کو مار سکتے ہیں، اگرچہ اس نے کاٹا نہ ہو اور آگ میں ڈالنا مکرو ہ ہے۔ (بہار شریعت جلد 3 حصہ 16صفحہ 658 مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9658
تاریخ اجراء: 12 جمادی الثانی 1447ھ / 04 دسمبر 2025ء