logo logo
AI Search

ماں کے کہنے پر داڑھی کٹوانا یا نہ رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ماں کے کہنے پر داڑھی کٹوانا یا نہ رکھنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میری عمر اٹھارہ سال ہے، میں نے داڑھی رکھ لی ہے اور میری والدہ کہتی ہیں کہ ابھی داڑھی نہ رکھو، بعد میں رکھ لینا، تواب مجھے کیا کرنا چاہئے؟

جواب

مرد پر حکم شرع کے مطابق ایک مٹھی داڑھی رکھنا واجب ہے اور داڑھی منڈوانا یا ایک مٹھی سے کم کروانا، ناجائز و حرام اور گناہ کا کام ہے۔ والدہ کے کہنے پر بھی آپ کو داڑھی منڈوانے یا ایک مٹھی سے کم کروانے کی ہرگز اجازت نہیں کہ مخلوق کی اطاعت میں شریعت کے احکامات کی نافرمانی ہرگز نہیں کی جاسکتی، لہٰذا آپ کو چاہئے کہ آپ اپنی والدہ کو نرمی اور اچھے انداز سے داڑھی کے متعلق شرعی حکم سے آگاہ کریں، اگر وہ نہ بھی مانیں تو داڑھی کٹوانے کی تو کسی صورت اجازت نہیں ہوگی، اگر کٹوائیں گے تو گنہگار ہوں گے۔

داڑھی کے متعلق صحیح بخاری شریف کی حدیث پاک ہے:

عن ابن عمر، عن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: (خالفوا المشركين: و فروا اللحى، ‌و أحفوا ‌الشوارب) و كان ابن عمر: إذا حج أو اعتمر قبض على لحيته، فما فضل أخذه

ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سےروایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مٹھی میں لیتے اور جومٹھی سے زائد ہوتی، اسے کاٹ دیتے تھے۔ (صحیح البخاری، جلد 7، صفحہ 160، رقم الحدیث: 5892، دار طوق النجاة)

در مختار میں ہے:

و أما الأخذ منها و هي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، و مخنثة الرجال فلم يبحه أحد، و أخذ كلها فعل يهود الهند و مجوس الأعاجم

ترجمہ: جب داڑھی ایک مشت سے کم ہو تو اس میں سے کچھ لینا (کاٹنا) جس طرح بعض مغربی اور ہیجڑے کرتے ہیں، تو اس کو کسی نے بھی جائز قرار نہیں دیا اور پوری داڑھی كاٹ دینا ہندی یہودیوں اور عجمی مجوسیوں کا طریقہ ہے۔ (در مختار، جلد 2، صفحہ 418، دار الفکر، بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ریش (داڑھی) ایک مشت یعنی چار انگلی (ایک مٹھی) تک رکھنا واجب ہے اس سے کمی ناجائز۔ شرح مشکوٰۃ شریف میں ہے:

گذاشتن آں بقدر قبضہ واجب ست و آنکہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک دین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آن بسنت ست چنانچہ نماز عید راسنت گفتہ اند۔

داڑھی بمقدار ایک مشت رکھنا واجب ہے اور جو اسے سنت قرار دیتے ہیں وہ اس معنی میں ہے کہ یہ دین میں آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جاری کردہ طریقہ ہے یا اس وجہ سے کہ اس کا ثبوت سنت نبوی سے ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہا جاتا ہے حالانکہ وہ واجب ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 581، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)‎

فتاوی رضویہ کے ہی ایک مقام پر سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: داڑھی کترواکر ایک مشت سے کم رکھنا حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 98، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)‎

احکام شریعت کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاسکتی، چنانچہ صدر الشریعہ حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فتاوی امجدیہ میں ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: جس کام کو شرع مطہر نے ناجائز قرار دیا ہے اس میں مخلوق کی اطاعت نہیں کہ یہ حقِ شرع ہے اور مخلوق کی اطاعت میں احکامِ شرع کی نافرمانی نہیں کی جاسکتی کہ معصیت میں کسی کی طاعت نہیں ہے۔ حدیث میں ہے

لا طاعۃ للمخلوق فی معصیۃ الخالق

(خالق یعنی اللہ عزوجل کی نافرمانی کے کام میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں)۔ (فتاوٰی امجدیہ، جلد 4، صفحہ 198، مکتبہ رضویہ کراچی)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-639
تاریخ اجراء: 16رجب المرجب 1446ھ / 17 جنوری 2025ء