مجیب:ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری
فتوی نمبر:WAT-291
تاریخ اجراء:23ربیع الآخر 1443ھ/29نومبر 2021
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
طلاق کی عدت کتنی ہوتی ہے، بتادیں۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جس عورت کوحیض آتے ہوں، اس کی عدت تین حیض ہے اور جس کوحیض نہ آتا ہو(خواہ ابھی آنا شروع ہی نہیں ہوئے یا سن ایاس (55سال کی عمر) کو پہنچنے کی وجہ سے آنا بند ہوجائیں) تواس کی عدت 3 مہینے ہے اور اگر کسی عورت کو حمل کی حالت میں طلاق دی تو اس کی عدت وضع حمل یعنی بچہ پیدا ہونے تک ہے، جب بچہ پیدا ہوگا، عدت ختم ہو جائے گی۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم