بلند آواز سے تشہد پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بلند آواز سے تشہد پڑھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
تشہد کوآہستہ آواز میں پڑھنا سنت ہے جیسا کہ امام سلیمان بن اشعث سجستانی المعروف امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 275ھ) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: من السنة ان يخفی التشهد“ یعنی تشہد کو آہستہ آواز میں پڑھنا سنت میں سےہے۔
اس کی شرح میں علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ(متوفی: 855ھ) فرماتے ہیں: و بهذا اخذ العلماء ان المُصلی يخفی التشهد و لانه دعاء و الاصل فی الدعاء الاخفاء“ یعنی اس روایت کی بنیاد پر علمائے کرام نےیہ مسئلہ اخذ فرمایا کہ نمازی تشہد آہستہ آواز میں پڑھے گا کیونکہ تشہد دعا بھی ہے اور دعا میں اصل آہستہ آواز میں کرنا ہے۔ (سنن ابی داؤد وشرحہ للعینی، ج 4، ص 271، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
علامہ سید احمد طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1231ھ) حاشیہ مراقی الفلاح میں فرماتے ہیں: و قد نصوا ان وجوب الاسرار مختص بالقراءة فلو جهر بالاذكار و الادعية و لو تشهداً لا سهو عليه“ یعنی مشائخِ احناف نے صراحت فرمائی کہ آہستہ آواز میں پڑھنے کا وجوب صرف قراءت کے ساتھ خاص ہے لہذا اگر اذکاراوردعائیں بلند آواز سے پڑھیں اگرچہ تشہدبھی تو اس پر سجدہ سہو واجب نہیں۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، ص 461، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1367ھ) فرماتے ہیں: ثناو دعا و تشہد بلند آواز سے پڑھا تو خلافِ سنت ہوا مگر سجدہ سہو واجب نہیں۔ (بھار شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 715، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
مذکورہ مسئلے میں فقہی نکتہ:
مشائخِ کرام رحمہم اللہ السلام نےصراحت فرمائی ہے کہ اگر کسی نے تشہد بلند آواز سے پڑھ لیا تو اس پر سجدہ سہو واجب نہیں۔ لیکن اس مسئلے کو لکھنے کے بعد محقق امام ابن امیر حاج رحمۃ اللہ علیہ نے منیۃ المصلی کی شرح حلبۃ المجلی میں اس حکم کو محلِّ غور قرار دیا اور صاحبِ بحر الرائق نے ان کی اس بات کو برقرار رکھا، تردید نہیں فرمائی نیز خاتمۃ المحققین علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نےبھی اس بات کو نقل کیا اور انہوں نے بھی اس کی تردید نہیں فرمائی چنانچہ اس پر امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ نے صاحبِ حلبہ اورصاحبِ بحرالرائق دونوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ فتوی اسی پردیا جائےگا جس کی تصریح مشائخِ کرام نے فرمائی کہ بلند آواز سے تشہد پڑھنے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔
محقّق امام شمس الدین محمدبن محمد المعروف ابن امیر حاج حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 879ھ) شرح منیہ میں، ان کے حوالے سےمحقّق علامہ زین الدین بن ابراہیم المعروف ابنِ نجیم مصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 970ھ) شرح کنز میں اورخاتمۃ المحققین علامہ محمد امین المعروف ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1252ھ) حاشیہ درِّ مختار میں فرماتے ہیں: و اللفظ للشامی قد صرحوا بانه اذا جهر سهوا بشیء من الادعية و الاثنية و لو تشهدا فانه لا يجب عليه السجود قال فی الحلبة: و لا يعرى القول بذلك فی التشهد عن تامّل و أقرّه فی البحر“ یعنی مشائخِ احناف نے صراحت فرمائی کہ اگرکسی نےدعایا ثنابلند آواز سے پڑھ لی اگرچہ تشہد بلند آواز سے پڑھ لی تو اس پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔ حلبۃ المجلی میں کہا کہ تشہد کے بارے میں اس طرح کا حکم بیان کرنامحلِّ غور ہے اور صاحبِ حلبہ کی اس بات کو صاحبِ بحر نے برقرار رکھا(یعنی رد نہیں کیا)۔ (ردّ المحتار علی الدرّ المختار، ج 2، ص 658، مطبوعہ کوئٹہ)
اس کےتحت شیخ الاسلام والمسلمین امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (متوفی:1340ھ) ارشاد فرماتے ہیں: (قوله: و أقرّه فی البحر) اقول: و مثل هذا القول عن المحقّق ابن امير الحاج و تقريره من البحر لا يصدّ عن الافتاء بما صرّحوا بہ“ یعنی میں کہتا ہوں کہ محقق ابن امیر حاج کا اس طرح کی بات کرنا(یعنی سجدہ سہو واجب نہ ہونے کو محلِّ غورقراردینا) اور صاحبِ بحر کا اس کو برقرار رکھنا، ہمیں مشائخ کی تصریح پر فتوی دینے سے نہیں روک سکتا۔ (جدّ الممتار، ج 3، ص 531، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13195
تاریخ اجراء: 09 جمادی الاخری 1445ھ / 23 دسمبر 2023ء