logo logo
AI Search

میری قبر کو عیدگاہ نہ بنا لینا حدیث کی شرح اور مزارات کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مزارات بنانے کا حکم اور حدیثِ پاک ”میری قبر کو عیدگاہ نہ بنا لینا“ کی وضاحت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے  کے بارے میں کہ حدیثِ پاک میں فرمایا گیا کہ میری قبر کو عیدگاہ مت بنا لینا، اسی طرح اونچی قبروں کو مسمار کرنے کا حکم دیا گیا،  تو اتنے بڑے بڑے مزارات کیوں بنائے جاتے ہیں ؟

جواب

سوال میں دو احادیث کی طرف اشارہ کیا گیا۔ پہلے بالترتیب اُن احادیث کو شرح کے ساتھ ذکر کیا جائے گا اور آخر میں صدیوں سے بننے والے علماء و مشائخ کے مزارات کی حکمتِ دینیہ کو بیان کیا جائے گا۔

قبر کو عیدگاہ نہ بنانے کا مطلب:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قبر مبارک کو عیدگاہ بنانے سے منع فرمایا، لیکن اِس سے مراد کیا ہے، شارحین حدیث نے دو مرادیں بیان فرمائیں۔ (1) جیسے عیدگاہ میں سال میں صرف دو بار جایا جاتا ہے، میری قبرِ مبارک کو یوں نہ بنانا، بلکہ با ادب انداز میں کثرت سے حاضری دیتے رہنا۔ (2) عید گاہ بنانے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جیسے یہود و نصاریٰ اپنے انبیاء کی قبروں کی زیارت کے لیے جمع ہوتے اور عید کے دن کی طرح کھیل تماشے اور سُرور و مستی میں مشغول ہو جاتے، تم ایسے مت کرنا، بلکہ ادب و احترام اور حشمت و اکرام کے ساتھ میری قبر پر حاضر ہونا۔

سنن ابو داؤد میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”لا تجعلوا بيوتكم قبورا، ولا تجعلوا قبري عيدا؛ وصلوا علي فإن صلاتكم تبلغني حيث كنتم“ ترجمہ: اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ اور نہ ہی میری قَبر کو عید بناؤ، تم چاہے جہاں بھی ہو مجھ پر درودِ پاک پڑھا کرو، بےشک تمہارا درود مجھ تک پہنچتا ہے۔ (سنن ابی داؤد، جلد 03، صفحہ 385، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیہ، بیروت)

عید نہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ با ادب طریقے سے ”بار بار“ آتے رہنا، عید کی طرح سال میں دو بار مت آنا، چنانچہ، ”شرح سنن أبي داؤد لابن رُسلان“ میں ہے: ”يحتمل أن يراد الحث على كثرة زيارته، ولا يجعل كالعيد الذي لا يؤتى في العام إلا مرتين فقط“ ترجمہ: روایت میں یہ احتمال ہے کہ کثرت سے زیارت کرنے کی ترغیب دی جائے اور اسے عید کی طرح نہ بنایا جائے، جہاں سال میں صرف دو ہی بار جایا جاتا ہے۔ (شرح سنن أبي داؤد لابن رسلان، جلد 09، صفحہ 240، مطبوعہ دار الفلاح، مصر)

دوسرا احتمال ”شرح مصابيح السنة “ میں یوں بیان کیا گیا: ”لا تجعلوا قبري؛ أي: زيارةَ قبري "عيدًا" نهاهم عن الاجتماع لها اجتماعَهم للعيد زينةً ونزهة، كانت اليهود والنصارى يجتمعون لزيارة قبور أنبيائهم ويشتغلون باللهو والطرب“ ترجمہ: میری قبر کو مت بناؤ یعنی میری قبر کی زیارت کو عید نہ بناؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے انہیں وہاں اس طرح اکٹھے ہونے سے منع فرمایا، جیسے لوگ عید کے لیے سجاوٹ اور تفریح کی غرض سے جمع ہوتے ہیں، کیونکہ یہودی اور عیسائی اپنے انبیاء کی قبروں کی زیارت کے لیے جمع ہوتے تھے اور کھیل تماشے اور مستیوں میں مشغول ہو جاتے تھے۔ (شرح مصابيح السنة لابن الملك الحنفي، جلد 02، صفحہ 31، مطبوعہ إدارة الثقافة الإسلامية)

اِن دونوں شروحات کو ایک ساتھ ”مراٰۃ المناجیح“ میں یوں نقل کیا گیا: ”اپنے گھروں کو قبرستان کی طرح اللہ پاک کے ذِکر سے خالی مت رکھو، بلکہ فَرائض مسجدوں میں اَدا کرو اور نَوافل گھر میں۔ (اور) جیسے عید گاہ میں سال میں صرف 2 بار جاتے ہیں، ایسے میرے مَزار پر نہ آؤ، بلکہ اکثر حاضِری دیا کرو یا، جیسے عید کے دن کھیل کود کے لیے میلوں میں جاتے ہیں، ایسے تم ہمارے روضے پر بے اَدَبی سے نہ آیا کرو، بلکہ با اَدَب رہا کرو۔“ (مراٰۃ المناجیح، جلد 02، صفحہ 101، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات)

اونچی قبر برابر کرنا:

اونچی قبر برابر کرنے کے متعلق ”سنن الترمذی“ میں ہے: ”أن عليا قال لأبي الهياج الأسدي: أبعثك على ما بعثني به النبي صلى اللہ عليه وسلم؛ أن لا تدع قبرا مشرفا إلا سويته ولا تمثالا إلا طمسته“ ترجمہ: حضرت علی رضی الله عنہ نے ابوالہیاج اسدی سے فرمایا: میں تمہیں ایک ایسے کام کے لیے بھیج رہا ہوں جس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روانہ کیا تھا: تم جو بھی ابھری قبر ہو، اسے برابر کیے بغیر اور جو بھی مجسمہ ہو، اسے مسمار کیے بغیر نہ چھوڑنا۔ (سنن الترمذی، جلد 02، صفحہ 354، مطبوعہ دار الغرب الاسلامی، بیروت)

اِس روایت کے تحت مفتی محمد احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مختلف عربی شروحات کا ایک جگہ جامع خلاصہ کیا، چنانچہ آپ لکھتے ہیں: ’’خیال رہے کہ یہاں قبروں سے یہود و نصاریٰ کی قبریں مراد ہیں، نہ کہ مسلمانوں کی، چند وجہ سے:

 (1) ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ پاک میں صحابہ کرام کی قبریں اونچی کیسے بن گئیں، جنہیں مٹانے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کو علی کو بھیجا، کیونکہ ان بزرگوں کا کفن دفن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اور آپ کی اجازت سے ہوتا تھا۔

 (2) دوسرے یہ کہ قبر کو فوٹو و مجسمہ سے کیا نسبت، مسلمانوں کی قبروں پر نہ فوٹو ہوتے ہیں نہ مجسمہ، ہاں عیسائیوں کی قبریں بہت اونچی بھی ہوتی ہیں اور ان پر میت کا مجسمہ یا فوٹو بھی ہوتا ہے۔

(3) تیسرے یہ کہ مسلمان کی قبر زمین کے برابر نہیں کی جا سکتی، بلکہ وہ ایک بالشت یا ایک ہاتھ اونچی رکھی جائے گی اور یہاں برابر کر دینے کا حکم ہے۔

 (4) چوتھے یہ کہ اس کی تائید بخاری شریف کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو مسجد نبوی کی تعمیر کے باب میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبریں اکھیڑنے کا حکم دیا تو اکھیڑ دی گئیں، اسی کام کے لیے حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے۔

(5) پانچویں یہ کہ فتح الباری شرح بخاری میں اس حدیث پر عنوان قائم کیا کہ کیا مشرکین جاہلیت کی قبریں اکھیڑی جا سکتی ہیں، یعنی ان کے علاوہ نبیوں اور ان کے متبعین کی نہیں، کیونکہ ان کی قبریں اکھیڑنے میں ان کی توہین ہے۔

 (6) چھٹے یہ کہ اسی فتح الباری میں تھوڑی دور جا کر فرمایا حدیث سے معلوم ہوا کہ مملوکہ مقبرے میں تصرف جائز ہے اور پرانی قبریں اکھیڑ دینا، جائز ہیں، بشرطیکہ وہ قبریں حرمت والی نہ ہوں۔

 (7) ساتویں یہ کہ مسلمان کی اونچی قبر بنانا منع ہے، لیکن اگر بن گئی ہے تو اسے گرانا ناجائز کہ اس میں قبر اور صاحب قبر کی اہانت ہے۔ جب مسلمان کی قبر سے تکیہ لگانا، اس پر چلنا پھرنا منع ہے تو اس پر پھاؤڑے چلانا کب جائز ہوگا، جیسے چھوٹے سائز کے قرآن شریف و حمائلیں چھاپنا منع ہے لیکن اگر چھپ چکے ہوں تو انہیں جلانا حرام۔

 (8) آٹھویں یہ کہ بخاری کتاب الجنائز باب الجرید علی القبر میں تعلیقًا ہے حضرت خارجہ فرماتے کہ ہم زمانہ عثمانی میں تھے اور ہم سے بڑا بہادر وہ تھا جو عثمان ابن مظعون کی قبر کو پھلانگ جاتا۔ معلوم ہوا کہ وہ قبر اتنی اونچی بنائی گئی تھی جسے پھلانگنا دشوار تھا اور یہ قبر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنائی تھی۔

 (9) نویں یہ کہ ابھی مشکوٰۃ شریف میں حدیث آئے گی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان ابن مظعون کی قبر کے سرہانے کی طرف ایک اونچا پتھر لگایا جس کی شرح حضرت خارجہ کی حدیث نے کر دی کہ وہ اتنا اونچا تھا جسے پھلانگنا دشوار تھا۔ بہرحال اگر یہاں مسلمانوں کی قبریں مراد ہوں تو یہ حدیث بہت احادیث کے خلاف ہو گی اور اس میں ایسی مشکلات پیدا ہوں گی جو حل نہ ہو سکیں گی۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد 02، صفحہ 488، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات)

مزاراتِ اولیا ءکی تعمیر:

اوپر مذکور دونوں حدیثیں اور اُن کے تحت کلماتِ شارحین نے واضح کر دیا کہ عیدگاہ نہ بنانے کا بھی ایک خاص تناظر (Context) ہے اور قبر کو برابر کرنا بھی مخصوص محمل رکھتا ہے۔ اِن دونوں روایات کو بنیاد بنا کر ائمہ دین اور بزرگانِ اسلام کے مزارات پر اعتراض اٹھانا، ہرگز انصاف نہیں، بلكہ مزاراتِ اولیاء پر نکتہ چینی کرتے رہنا بد باطن ہونے کی دلیل ہے۔ الغرض صدیوں سے سینکڑوں نہیں، بلکہ ہزاروں مشائخ دینیہ کے دنیا بھر میں بننے والے مزارات اور اُن پر خوبصورت گنبدوں کی تعمیر، مباح اور بدعتِ حسنہ ہیں۔ مزار یا گنبد بنانے سے صاحبِ مزار کی عظمت وحشمت کو عام لوگوں کے دلوں میں بڑھانا مقصود ہوتا ہے اور اِس میں یقیناً کوئی حرج اور مضائقہ نہیں۔ بلکہ سراسر خیر پر مشتمل ہے، کیونکہ جب مزار کی عظمت دل میں پیدا ہوتی ہے، تو لوگ اُن بزرگانِ دین کی بارگاہوں میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دستِ دعا دراز کرتے، ذکرِ الہی میں مشغول ہوتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھتے، تلاوتِ قرآن کرتے، اپنی آخرت کی فکر کرتے اور اُن بزرگانِ دین کے توسُّل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں۔ یہ تمام کام یقیناً اللہ کریم کو راضی کرنے والے اور اُس کا قرب عطا کرنے والے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھیں کہ سوال میں مذکور حدیث میں قبر کے متعلق بات کی ہے جبکہ گنبد قبر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اوپر ایک جداگانہ عمارت ہوتی ہے۔گنبد کے خلاف کوئی جداگانہ دلیل دی گئی تو اس کا جداگانہ جواب دیا جائے گا۔ ان شاء اللہ

عمارتِ مزار تعمیر کرنے کے مباح ہونے کے متعلق علامہ طاہر حنفی گجراتی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 986ھ/1578ء) لکھتے ہیں: ”أباح السلف البناء على قبور الفضلاء الأولياء والعلماء ليزورهم الناس ويستريحون فيه“ ترجمہ: ائمہ سلف صالحین نے اصحاب فضل اولیائے کرام اور علمائے اسلام کی قبروں پر مزار بنانے کو مباح قرار دیا، تا کہ عام لوگ زیارت کے لیے حاضر ہوں اور راحت پائیں۔ (مجمع بحار الانوار، جلد 5، صفحہ 579، مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارِف العثمانیہ)

اگرچہ یہ تعمیرِ مزار خیر القرون سے نہیں، مگر بدعتِ حسنہ ہے، چنانچہ عارف باللہ، حضرت عبدالغنی نابُلُسی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1143ھ/ 1730ء) لکھتےہیں: ”من تعظيمهم بناء القباب على قبورهم وعمل التوابيت لهم من الخشب حتى لا تحتقرهم العامة من الناس، وإن كان ذلك بدعة، فهي بدعة حسنة“ ترجمہ: اولیائے کرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہم کی قبروں پر گنبد بنانا، اور ان گنبدوں کے لیے اعلیٰ قسم کی لکڑی کے تابوت بنانا، تا کہ عوام الناس ان کو بے ادبی کی نگاہ سے نہ دیکھیں، یہ بھی اُن کی تعظیم ہی ہے، اگرچہ یہ بدعت ہے، لیکن بدعتِ حسنہ یعنی اچھی بدعت ہے۔ (کشف النور عن اصحاب القبور، صفحہ 44، مطبوعۃ، دار الآثار الاسلامیہ)

مفتی دیارِ مصر، شیخ عبدالقادِر رافعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال:1323ھ/1905ء) نے لکھا: ”أن البدعة الحسنة الموافقة لمقصود الشرع تسمى سنة، فبناء القباب على قبور العلماء والأولياء والصلحاء ووضع الستور والعمائم والثياب على قبورهم أمر جائز، إذا كان القصد بذلك التعظيم في أعين العامة، حتى لا يحتقروا صاحب هذا القبر“ ترجمہ: وہ اچھی بدعت کہ جو مقاصِدِ شرع کے موافق ہو، اُسے اچھے طریقے سے تعبیر کیا جاتا ہے، لہذا اہلِ علم، اولیائے کرام اور صالحین کے مزارات پر گنبدوں کی تعمیر ہونا، یونہی اُن کی قبروں پر چادروں کو چڑھانا اور عمامے رکھنا، جائز کام ہے، مگر اُس صورت میں کہ جب اِن اُمور کا مقصد عام لوگوں کی نظر میں صاحبِ مزار کی عظمت بڑھانا ہو، تا کہ عام لوگ کسی بھی طرح کی بے ادبی سے باز رہیں۔ (تقریرات الرافعی مع رد المحتار، جلد 03، صفحہ 170، مطبوعہ کوئٹہ)

امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال:1340ھ/1921ء) بحوالہ ”جواھر اخلاطی“ نقل کرتے ہیں: ”ھو وان کان احداثا فھو بدعۃ حسنۃ وکم من شیئ کان احداثاً وھو بدعۃ حسنۃ وکم من شیئ یختلف باختلاف الزمان والمکان“ یعنی یہ اگر چہ نئی چیز ہے، پھر بھی بدعت حسنہ ہے اور بہت سی چیزیں ہیں کہ نئی پیدا ہوئیں اور ہیں اچھی بدعت، اور بہت احکام ہیں کہ زمانے یا مقام کی تبدیلی سے بدل جاتے ہیں۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 09، صفحۃ 494، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اِس عبارت کو نقل کرنے کے بعد ذاتی تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ”کیا ائمہ دین نے نظر بحال زمانہ جو حکم فرمایا، اُسے حدیث کی مخالفت کہا جائے گا؟ حاشا ﷲ! ایسا نہ کہے گا مگر احمق، کج فہم، یوں ہی یہ تازہ تعظیموں کے احکام ہیں۔ سلف صالحین کے قلوب تعظیم شعائرا ﷲ سے مملو تھے۔ ظاہری تزک و احتشام کے محتاج نہ تھے، تو ان کے وقت میں یہ باتیں عبث و بے فائدہ تھیں اور ہر عبث مکروہ۔ اور اس میں مال صرف کرنا ممنوع، اب کہ بے تزک و احتشام ظاہری قلوب عوام میں وقعت نہیں آتی، ان باتوں کی حاجت ہوئی۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 09، صفحۃ 495، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اِس موضوع پر علامہ عبد الغنی نابُلُسی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی کتاب ”کشف النور عن اصحاب القبور“ کا ضرور مطالعہ کیجیے، آپ نے اِس کتاب میں کرامات اولیاء کا ثبوت، حضرات اولیاء کی قبور پر مزارات بنانا، ان کی تعظیم کرنا، ان پر چادریں چڑھانا اور نذر و نیاز کرنا و غیرہا امور کے متعلق اسلامی عقائد و شرعی احکام کو بہترین اور تحقیقی انداز میں بیان فرمایا ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10050
تاریخ اجراء: 07 محرم الحرام 1448ھ/23 جون 2026