logo logo
AI Search

نکاح آدھا دین کس طرح ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حدیث نکاح آدھا دین ہے کی شرح

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

مختلف الفاظ کے ساتھ اس مضمون و مفہوم کی حدیث شریف امام طبرانی (متوفی: 360ھ) کی معجم اوسط، امام حاکم (م: 405ھ) کی مستدرک اور امام بیہقی (م: 384ھ) کی شعب الایمان میں نیز مشکاۃ المصابیح وغیرہ کتبِ حدیث میں ہے (رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین) چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس بندہ نے نکاح کرلیا اس نے اپنا آدھا دین مکمل کرلیا، اب اسے چاہیے کہ باقی آدھے کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔

حدیث شریف کی وضاحت سے پہلےآپ یہ جان لیں کہ دین ہو یا ایمان اس سے مراددین اور ایمان کے تقاضے پورے کرنا ہے جیسے اللہ تعالیٰ پر ایمان، رسل وانبیاءو ملائکہ علیہم السلام پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان، آخرت پر ایمان، یوہیں اللہ پاک کے دیگر تمام احکام پر ایمان اور عمل۔ اس تفصیل کے بعدحدیث شریف میں جو نکاح کو آدھا دین قرار دیا گیا تو اس سے مراد یہ ہے کہ نکاح آدھے دین کےتحفّظ کا سبب ہے یعنی نکاح کے ذریعہ انسان دین کے بہت سارے تقاضے ضائع نہیں ہونے دیتا بلکہ فرماں برداری اور اطاعت کے عمل سے محفوظ راستے پر رہتا ہے، یہ مراد نہیں کہ خود نکاح آدھا دین ہے اور دیگر دینی معاملات بقیہ آدھا دین ہیں کیونکہ دین تو ایک ہی ہے اسلام ہاں اس کے بہت سارے تقاضے ہیں جن پر ایمان اور عمل ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ نکاح سے آدھا دین محفوظ ہونے کی وضاحت شارحینِ حدیث رحمہم اللہ تعالیٰ نے یوں فرمائی ہےکہ انسان کے جسم میں دو چیزیں ایسی ہیں جو عام طور پر دین میں نقصان اور فساد کا باعث بنتی ہیں: (1) شرم گاہ (2) پیٹ، اس اعتبار سے مذکورہ حدیث شریف کا مطلب یہ ہوا کہ جس شخص نے نکاح کرکےشرمگاہ کے فتنے اورفساد سے نجات پالی، اب اسے چاہیے کہ وہ پیٹ کے فتنےاورفساد سے بچنے کے لیے کوشش کرے اور اس معاملے میں اللہ عزوجل سے ڈرتا رہےتاکہ دین کی پوری بھلائی حاصل ہو۔بعض علمائے کرام نے اس کی وضاحت یوں بھی فرمائی ہے کہ نکاح زنا سے بچاتا ہے اور پاکدامنی ان دو خصلتوں میں سے ہے، جن کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جنت کی ضمانت دی ہے یعنی شرمگاہ اورزبان کی حفاظت اور نکاح شرمگاہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے توجنت میں داخلے کے اعتبار سے نکاح آدھا دین ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ شریعت کو مکمل دین پر عمل مطلوب ہے کیونکہ جو دین کی مکمل تعلیمات پر ایمان لائے اور عمل کرے اس کا ایمان مکمل ہوجاتا اور ایمان کی حلاوت نصیب ہوتی ہے، اس کے برعکس اگر کوئی دین کے تقاضوں پر عمل نہ کرے تو اسے ایمان کی حلاوت نصیب نہیں ہوتی، روحانیت نہیں ملتی اور بالآخر گناہوں کی طرف چلا جاتا ہے، چونکہ نکاح آدھا دین محفوظ کرلیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عام طور پر شادی شدہ بندہ برے خیالات، زنا، بدنگاہی وغیرہ جیسےگناہوں سےمحفوظ رہتا ہے یا اس کے محفوظ رہنے کا سامان ہوجاتا ہے ، اس کے برعکس جس نے نکاح نہ کیا ہو وہ برے خیالات، زنا، بدنگاہی جیسی غیر اخلاقی بیماریوں میں پڑ جائے، اس کے کافی امکانات ہوتے ہیں۔

امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی (متوفی: 360ھ) اور امام محمد بن عبد اللہ حاکم نیشاپوری (متوفی: 405ھ) رحمہما اللہ تعالیٰ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: من رزقه اللہ امرأۃً صالحةً فقد أعانه اللہ على شطر دينه فليتق اللہ فی الشطر الثانی“ یعنی جس کو اللہ پاک نے نیک عورت سے نوازا تو اللہ نے اس کی دین کے ایک حصے پر مدد فرمائی لہذا اسے چاہئے کہ دین کےدوسرے حصے میں اللہ سےڈرتا رہے۔ (المعجم الاوسط، ج 01، ص 294، مطبوعہ دار الحرمین، قاہرہ) (المستدرک علی الصحیحین، ج 02، ص 175، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 384ھ) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اذا تزوج العبد فقد كمل نصف الدين فليتق اللہ فی النصف الباقی“ یعنی جب بندے نے نکاح کرلیا تو اپنا آدھا دین مکمل کرلیالہذا باقی آدھے حصے میں اللہ پاک سے ڈرتا رہے۔ (شعب الایمان، ج 04، ص 382، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اس حدیث شریف کی تشریح کرتے ہوئے امام ابو عبد اللہ محمدبن ابو بکر قرطبی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 671ھ) فرماتے ہیں: و معنى ذلك ان النكاح يعف عن الزنى و العفاف احد الخصلتين اللتين ضمن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم عليهما الجنة فقال: من وقاه اللہ شرّ اثنتين ولج الجنة ما بين لحييه و ما بين رجليه“ یعنی روایت کا مطلب یہ ہے کہ نکاح زنا سے بچاتا ہے اور پاکدامنی ان دو خصلتوں میں سے ہے، جن کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی ضمانت دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جس کو اللہ تعالیٰ نے دو کے شر سے محفوظ رکھا وہ جنت میں داخل ہوگیا ایک جو دو جبڑوں کے درمیان ہے(یعنی زبان) اور دوسرا جو دو ٹانگوں کے درمیان ہے(یعنی شرمگاہ)۔ (الجامع لاحکام القرآن، ج 09، ص 327، مطبوعہ دار عالم الکتب، ریاض(

مذکورہ روایت کی دوسرے انداز میں تشریح کرتے ہوئے علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ(متوفی:1014ھ)فرماتے ہیں: و جعل التزوج نصفاً مبالغةً للحث عليه و قال الغزالی: الغالب فی افساد الدين الفرج و البطن و قد كفى بالتزوج احدهما ولان فی التزوج التحصّن عن الشيطان و كسر التوقان و دفع غوائل الشهوة وغض البصر وحفظ الفرج“ یعنی نکاح کرنے کو آدھا دین قرار دینا ترغیب دینے کے لئےبطورِ مبالغہ ہے چنانچہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عام طور پر دین میں نقصان اور فساد کا باعث (دو چیزیں) شرم گاہ اور پیٹ ہیں لہذا ایک (یعنی شرمگاہ) کی خرابی کی حفاظت کے لئے نکاح کافی ہےاور اس لئے بھی کہ نکاح کرنے میں شیطان سے حفاظتی تدبیر، شہوت کا توڑ اور نگاہ و شرمگاہ کی حفاظت ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المفاتیح، ج 05، ص 2049، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

امام شرف الدین حسین بن عبد اللہ المعروف علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 743ھ) فرماتے ہیں: وفيه اعلام ان التزوج سبب لاستكمال نصف الدين المرتب عليه تقوى اللہ تعالی“ یعنی مذکورہ روایت میں اس بات کی خبر ہے کہ نکاح کرنا آدھے دین کی حفاظت کا سبب ہے، جس پر اللہ پاک سے ڈرنے کا مدار ہے۔ (الکاشف عن حقائق السنن علی مشکوۃ المصابیح، ج 07، ص 2266، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کیونکہ فسادِ دین کی بڑی وجہیں دو ہیں، شرمگاہ اور پیٹ کے متعلق بے احتیاطیاں جسے خدا نکاح کی توفیق دے دے تو اس کی شرمگاہ کی حفاظت ہوگئی، اب چاہئے کہ اپنے پیٹ کو حرام غذا سے بچائے۔ امام غزالی فرماتے ہیں کہ شرمگاہ اور پیٹ ہی شیطان کا ہیڈ کوارٹر ہے، جب یہاں سے اسے نکال دیا تو ان شاء اللہ دوسرے اعضاء سے بھی نکل جائے گا۔ (مرآۃ المناجیح، ج 5، ص 10، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Nor-13665
تاریخ اجراء: 09 رجب المرجب 1446ھ / 10 جنوری 2025ء