قربانی کے جانور کا نام رکھنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قربانی کے جانوروں کے نام رکھنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ آج کل لوگ قربانی کے جانوروں کے مختلف نام رکھ لیتے ہیں۔ کیا جانوروں کے نام رکھنا شرعاً جائز ہے؟
جواب
جی ہاں! جانور قربانی کے ہوں یا غیر قربانی کے، ان کے نام رکھنا، جائز ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے جانوروں، خصوصاً سواریوں کے نام رکھنا ثابت ہے، البتہ اس میں یہ خیال رکھا جائے کہ جانور کا نام ایسا مقدس نہ ہو کہ بے ادبی کی طرف ذہن جائے اور اسی طرح اداکاروں اور فلمی ایکٹرز کے نام پر بھی جانوروں کا نام نہ رکھا جائے۔
متعدد احادیث مبارکہ سے جانوروں کے نام ثابت ہیں۔ جیسا کہ بخاری شریف میں روایت ہے: كان للنبي صلى اللہ عليه و سلم ناقة تسمى العضباء“ ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ (صحیح البخاری، ج 3، ص 1054، رقم الحدیث 2717، دار الیمامہ دمشق)
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف سواریوں کے ناموں کے متعلق تفسیر روح البیان میں ہے: و كان له صلى اللہ عليه و سلم سبعة أفراس: الاول الكسب و الثاني المر تجز و الثالث اللحيف و الرابع اللزاز و الخامس الورد و السادس الطرف و السابع السبحة ۔ ۔ ۔ و كان له صلى اللہ عليه و سلم بغال ست: منها بغلة شهباء يقال لها دلدل ۔ ۔ ۔ و منها بغلة يقال لها فضة و منها الايلية. ۔ ۔ ۔ و كان له صلى اللہ عليه و سلم من الحمر اثنان: يعفور و عفير ۔ ۔ ۔ و فى كتاب التعريف و الاعلام ان اسم حماره عليه الصلاة و السلام عفير و يقال له يعفور، روى ان يعفورا وجده صلى اللہ عليه و سلم بخيبر و انه تكلم فقال اسمى زياد بن شهاب
ترجمہ: اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سات گھوڑے تھے: 1۔ الکسب 2۔ المرتجز 3۔ اللحیف 4۔ اللزاز 5۔ الورد 6۔ الطرف 7۔ السبحہ۔ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھ خچریں تھیں: ان میں سے ایک شہباء خچر تھی، جسے دلدل کہا جاتا تھا۔ اور ایک خچر کو فضہ کہا جاتا تھا۔ اور ایک ایلیہ تھی ۔ ۔ ۔ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس دو دراز گوش تھے، یعفور اور عفیر ۔ ۔ ۔ اور کتاب التعریف و الاعلام میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دراز گوش کا نام عفیر تھا اور اسے یعفور بھی کہا جاتا ہے۔ روایت کیا گیا ہے کہ خیبر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یعفور نامی ایک دراز گوش حاضر ہوا اور اس نے کلام کیا اور کہا: میرا نام زیاد بن شہاب ہے۔ (روح البیان، ج 5، ص 10 ۔ 11، دار الفکر بیروت، ملتقطاً)
سواریوں کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھ والی اونٹنیوں کے بھی نام ثابت ہیں۔ جیسا کہ الشرح الزرقانی علی المواھب میں ہے: أما خيله عليه الصلاة و السلام: فالسكب يقال: فرس سكب، أي: كثير الجري و المرتجزو الظرب و اللحيف و اللزاز و سبحة و ذو اللمة و ذو العقال و السرحان و الطرف و المرتجل و المرواح و ملاوح و المندوب ذكره بعضهم في خيله صلى اللہ عليه و سلم، و النجيب و اليعبوب و اليعسوب۔ ۔ ۔ و كان له عليه الصلاة و السلام من البغال: دلدل و فضة۔ ۔ ۔ و كان له عليه الصلاة و السلام من الحمير: عفير۔ ۔ ۔ و يعفور۔ ۔ ۔ و كان له عليه الصلاة و السلام من اللقاح: القصواء۔ ۔ ۔ و العضباء و الجدعاء، و لم يكن بهما عضب و لا جدع، و إنما سميتا بذلك۔ ۔ ۔ و قيل: العضباء و الجدعاء واحدة۔ ۔ ۔ و كانت له عليه الصلاة و السلام خمسة و أربعون لقحة: أطلال و أطراف و بردة و بركة و البغوم و الحناء و زمزم و الرياء و السعدية و السقيا و السمراء و الشقراء و عجرة و العريس و غوثة و قيل: غيثة و قمر و مروة و مهرة و ورشة و اليسيرة.
ترجمہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑوں میں سے ایک السکب ہے اور سَکْب اس گھوڑے کو کہتے ہیں جو بہت تیز دوڑنے والا، المرتجز، الظرب، اللحیف، اللزاز، سبحہ، ذو اللمہ، ذو العقال، السرحان، الطرف، المرتجل، المرواح، ملاوح، المندوب، بعض لوگوں نے اسے بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے گھوڑوں میں شمار کیا ہے، النجیب، الیعبوب اور الیعسوب۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خچروں میں سے دلدل اور فضہ تھیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گدھوں میں سے عفیر اور یعفور تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ دینے والی اونٹنیوں میں القصواء، العضباء اور الجدعاء تھیں، حالانکہ ان میں کسی قسم کا کوئی کٹ وغیرہ نہ تھا، بلکہ انہیں اسی نام سے پکارا جاتا تھا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ العضباء اور الجدعاء ایک ہی ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پینتالیس دودھ دینے والی اونٹنیاں تھیں: اطلال، اطراف، بردہ، برکہ، البغوم، الحناء، زمزم، الریاء، السعدیہ، السقیا، السمراء، الشقراء، عجرہ، العریس، غوثہ، اور کہا جاتا ہے غیثہ، قمر، مروہ، مہرہ، ورشہ اور الیسیرہ(وغیرہ)۔ (شرح الزرقانی علی المواھب، ج 5، ص 98 تا 111، دار الکتب العلمیہ بیروت، لبنان، ملتقطاً)
حضورصلی اللہ علیہ و سلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ نے اپنی چیزوں کے نام رکھے ہوتے تھے۔ چنانچہ المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے ”عن ابن عباس، قال:كان لرسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم سيف ۔ ۔ ۔ و كان يسمى ذا الفقار، و كانت له قوس يسمى السداد۔ ۔ ۔ و كانت له درع ۔ ۔ ۔ يسمى ذات الفضول، و كانت له حربة تسمى النبعاء۔ ۔ ۔ و كان له فرس أدهم يسمى السكب، وكان له سرج يسمى الداج“ ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک تلوار تھی جسے ذو الفقار کہا جاتا تھا، اور آپ کی ایک کمان تھی جسے السداد کہا جاتا تھا، اور آپ کی ایک زرہ تھی جسے ذات الفضول کہا جاتا تھا، اور آپ کا ایک نیزہ تھا جسے النبعاء کہا جاتا تھا، اور آپ کا ایک سیاہ گھوڑا تھا جسے السکب کہا جاتا تھا، اور آپ کی ایک زین تھی جسے الداج کہا جاتا تھا۔ (المعجم الکبیر، ج 11، ص 111، مطبوعہ قاھرہ، ملتقطاً)
فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے: جب خیبر فتح ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک دراز گوش سیاہ رنگ دیکھا، اس سے کلام فرمایا، وہ جانور بھی تکلم میں آیا، ارشاد ہوا: تیرا کیا نام ہے؟ عرض کی: یزید بیٹا شہاب کا ۔ ۔ ۔ ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام یعفور رکھا۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 15، ص 703، رضا فاؤنڈیشن، لاہور، ملتقطاً)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0151
تاریخ اجراء: 24 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 10 جون 2026ء