logo logo
AI Search

کن جانوروں کی قربانی جائز ہے؟ قربانی کے جانور کی شرائط و احکام

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کن جانوروں کی قربانی ہو سکتی ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے قربانی کے لیے ایک بکری خریدی ہے، جس کی عمر بھی ايك سال سے زیادہ ہے، لیکن میرے گھر والوں کا کہنا ہے کہ قربانی تو بکرے کی ہوتی ہے، بکری کی نہیں، آپ شرعی حوالے سے ارشاد فرمائیں کہ بکری کی قربانی ہوسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

بکری کی قربانی بالکل جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے قربانی کے جانوروں کی تین اقسام بیان فرمائی ہیں، (1) بکری۔ (2) گائے۔ (3 ) اونٹ۔

فقہِ حنفی کی مشہور و معروف کتاب ہدایہ شریف میں ہے: "و الا ضحیۃ من الابل و البقر و الغنم، لانھا عرفت شرعا و لم تنقل التضحیۃ بغیرھا من النبی علیہ الصلوۃ و السلام و لا من الصحابۃ رضی اللہ عنھم" ترجمہ: اُضحیہ (یعنی قربانی کے جانوروں میں سے) اونٹ، گائے اور بکری ہیں، کیونکہ شرعاً یہی معروف ہیں اور ان جانوروں کے علاوہ کسی کی قربانی نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں۔ (ھدایہ، جلد 4، صفحہ 408، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: قربانی کے جانور تین قسم کے ہیں (1) اونٹ، (2) گائے، (3) بکری، ہر قسم میں اس کی جتنی نوعیں ہیں، سب داخل ہیں، نر اور مادہ، خصی اور غیرِ خصی، سب کا ایک حکم ہے یعنی سب کی قربانی ہوسکتی ہے۔ بھینس گائے میں شمار ہے، اس کی بھی قربانی ہو سکتی ہے، بھیڑ اور دنبہ، بکری میں داخل ہیں، ان کی بھی قربانی ہو سکتی ہے۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 339، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-139
تاریخ اجراء: 27 ذو القعدۃ الحرام 1435ھ / 23 ستمبر 2014ء