logo logo
AI Search

باپ کے کام میں معاون ہونے کیوجہ سے بیٹوں پر قربانی ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بیٹے باپ کے کام میں معاون ہیں تو کیا ان پر بھی قربانی واجب ہوگی؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے پاس دس ایکڑ زمین ہے اور اس کے دو بیٹے ہیں جو والد کے ماتحت رہتے ہیں، اور والد کے ساتھ کھیتی باڑی میں ہاتھ بٹاتے ہیں، زمین سے آنے والی ساری آمدنی والد کے پاس ہوتی ہے، بیٹوں کو ضرورت کے مطابق خرچہ دیا جاتا ہے، باپ نے نہ تو ان کو جائیداد کا مالک بنایا ہے اور نہ ہی ان کے اپنے پاس نصاب کی مقدار کوئی دوسرا مال یا زمین ہے تو کیا ان پر قربانی واجب ہوگی؟

سائل: مولانا نعیم فیض عطاری (جوہر ٹاون لاہور)

جواب

اگر واقعی ان کے اپنے پاس نصاب کی مقدار ذاتی مال نہیں ہے تو ان پر قربانی واجب نہیں کہ قربانی کے وجوب کیلئے صاحب نصاب ہونا شرط ہے۔ رہا وہ مال جو انہوں نے کھیتی باڑی سے کمایا وہ تو چاہے جتنا ہو اس سے یہ بیٹے صاحب نصاب نہ ہونگے کہ وہ ان کا ہے ہی نہیں، وہ ان کے والد کا ہے کیونکہ جب بیٹے زراعت وغیرہ کسی پیشہ میں والد کے ساتھ بطور معاون کام کرتے ہوں تو ان سب کی محنت سے جو مال حاصل ہو وہ سب والد کی ملک ہوتا ہے، بیٹے اس کے مالک نہیں ہوتے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-6092-1
تاریخ اجراء: 22 محرم الحرام 1438ھ / 24 اکتوبر 2016ء