logo logo
AI Search

عقیقہ کے دو حصے الگ جانور میں ڈالنے کا حکم کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عقیقہ کے دو حصے الگ الگ جانور میں ڈالنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

لڑکے کا عقیقہ کرنے کی صورت میں اس کی طرف سے ایک حصہ ایک گائے میں اور دوسرا حصہ دوسری گائے میں ڈالا جائے، تو کیا اس طرح کرنا درست  ہے؟

جواب

جی ہاں! دیگر شرعی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے لڑکے کے عقیقے کا ایک حصہ ایک گائے میں اور دوسرا حصہ دوسری گائے میں رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

یاد رہے کہ عقیقہ کی ادائیگی کے لئےبڑے جانور میں حصہ ڈالا ہو تو عقیقہ صحیح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس میں جتنے مسلمان افراد شریک ہوں، تمام کا مقصود قربت ہو، اگر کسی ایک کا ارادہ بھی قربت کا نہ ہو ، تو عقیقہ ادا نہیں ہوگا۔

نیز یہ بھی ذہن میں رہے کہ بڑے جانور میں لڑکے کے عقیقے کا حصہ رکھنے میں افضل یہ ہے کہ عقیقے کے لیے دو حصے رکھے جائیں، لیکن اگر کسی نے لڑکے کے عقیقے کے لیے ایک حصہ رکھا تب بھی عقیقہ ہو جائے گا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:مولانا فرحان احمد عطاری مدنی

فتوی نمبر:Web-2341

تاریخ اجراء:20ذوالحجۃالحرام1446ھ/17جون2025ء