اللّٰہ کی راہ کیلئے پالے ہوئے جانور کی قربانی کرنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ کی راہ میں دینے کے لیے پالے ہوئے جانور کی قربانی کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اللہ کی راہ میں دینے کے لیے ایک جانور پالا۔ اس کے بعد اُس نے اپنا ارادہ بدل لیا اور اب وہ چاہتا ہے کہ اُسی جانور کو قربانی کے لیے مخصوص کر لے، تو کیا شرعی اعتبار سے اُس کے لیے ایسا کرنا درست ہے؟ نوٹ: شخصِ مذکور نے محض نیت کی تھی، منت نہیں مانی تھی اور نہ ہی منت کے الفاظ کہے تھے۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ جانور کو قربانی کے لیے مخصوص کرنے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں، لہٰذا اِسے قربانی کے لیے ذبح کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس میں قربانی کی دیگر شرائط بھی موجود ہوں، کیونکہ شخصِ مذکور کے محض نیت یا ارادہ کر لینے کی بنا پر اُس جانور کو راہِ خدا میں دینا شرعاً لازم نہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ اس کی حیثیت ایک وعدے اور اچھی نیت کی ہے، البتہ اگر وہ شخص اپنی نیت کو پورا کرتے ہوئے اُسی جانور کو راہِ خدا میں صدقہ کردے، تو یہ نہایت بہتر اور باعثِ اجر عمل ہے کہ اچھی نیتوں اور وعدوں کو پورا کر دینا چاہیے اور قربانی واجب ہونے کی صورت میں اس کے لیے قربانی کے لائق کوئی دوسرا جانور خرید لے۔
محض نیت یا ارادہ کر لینے کی بنا پر کوئی بھی نفلی عبادت ذمہ پر لازم نہیں ہوتی، بلکہ منت لازم ہونے کے مخصوص الفاظ ہیں، جب کوئی شخص ان الفاظ کا تلفظ کرے گا، تو دیگر شرائط پائی جانے کی صورت میں منت لازم ہوگی، جیسا کہ ملک العلماءعلامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:
ركن النذر هو الصيغة الدالة عليه و هو قوله: للہ عز شأنه علي كذا، أو علي كذا، أو هذا هدی، أو صدقة، أو مالي صدقة، أو ما أملك صدقة، و نحو ذلك
یعنی منت کا رکن وہ صیغہ (جملہ) ہے جو اس پر دلالت کرے، جیسا کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اللہ عزوجل کے لیے مجھ پر یہ چیز لازم ہے یا مجھ پر فلاں چیز لازم ہے یا یہ چیز ہدیہ یا صدقہ ہے یا میرے لیے صدقہ نکالنا لازم ہے یا جو میری مِلک میں ہے وہ صدقہ ہے، اسی کی مثل دیگر الفاظ سے منت لازم ہوتی ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب النذر، جلد 05، صفحہ 81، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بیروت)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) سے سوال ہوا کہ کسی نے بکری یا مرغی موجودہ کی نسبت مخصوص کر کے کہا کہ میں اس بکری یا مرغی کی نیاز کروں گا، پھر کسی وجہ سے وہ مفقود ہوگئیں، تو بجائے اس کے دوسری بکری مرغی یا گائے وغیرہ کی اسی قدر گوشت سے نیاز ہوگی یانہیں؟ تو جواباً ارشاد فرمایا: اگر یہ نیاز نہ کسی شرط پر معلق تھی، مثلاً میرا یہ کام ہوجائے، تو اس جانور کی نذر کروں گا، نہ کوئی ایجاب تھا، مثلاً اللہ کےلئے مجھ پر یہ نیاز کرنی لازم ہے جب تو یہ نذر شرعی ہو نہیں سکتی (لہٰذ ایسی صورت میں اس کا پورا کرنا ہی لازم نہیں)۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 13، صفحہ 589، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: اس لفظ سے کہ (یہ گائے) اللہ کی نذر کریں گے نذر نہ ہوئی محض وعدہ ہوا، مگر اللہ عزوجل سے جووعدہ کیا اس سے پھرنا بھی ہرگز نہ چاہیے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 13، صفحہ 581، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9736
تاریخ اجراء: 25 رجب المرجب 1447ھ / 15 جنوری 2026ء