قربانی کے جانور میں رسولی ہو تو کیا حکم ہے ؟
اگر اس رسولی نے جانور کے کسی عضو کی منفعت کو ضائع نہیں کیا تو اس کی قربانی جائز ہو گی، اور اگر کسی عضو کی منفعت کو ضائع کر دے تو اس کی قربانی جائز نہیں ہو گی۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
”كل عيب يزيل المنفعة على الكمال، أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع “
یعنی وہ عیب جو منفعت کومکمل طورپر ختم کردے یا اس کی خوبصورتی کو کامل طورپر ختم کردے، قربانی سے مانع ہوگا، اور جو عیب ایسا نہ ہو وہ قربانی سےبھی مانع نہیں ہوگا۔ (فتاوی عالمگیری، ج5، ص299، مطبوعہ پشاور )
تبیین الحقائق میں ہے:
”والجرباء إن كانت سمينة، ولم يتلف جلدها جاز، لأنه لا يخل بالمقصود“
یعنی خارش والاجانور اگر صحت مند ہو، اور اس کی جلد خراب نہ ہوتو اس کی قربانی جائز ہے، کیونکہ خارش مقصودمیں نقصان پیدا نہیں کرتی۔ (تبیین الحقائق، ج6، ص5، مطبوعہ ملتان)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ماجد رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2327
تاریخ اجراء:30ذو القعدۃالحرام1446ھ/28مئی2025ء