logo logo
AI Search

ایڈوانس اجرت قربانی کے نصاب میں شامل ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ایڈوانس اجرت میں دی ہوئی رقم کی وجہ سے قربانی لازم ہوگی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ایک ٹھیکیدار بکر سے دس محرم الحرام کے بعد مکان تعمیر کرنے کا ٹھیکہ کیا، دونوں کے درمیان کام اور اُجرت طے ہوگئی، زید نے چھ لاکھ روپے بکر ٹھیکیدار کو بطور ایڈوانس بھی دے دئیے، اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ چھ لاکھ روپے زید کے قربانی کے نصاب میں شامل کریں گے یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں یہ چھ لاکھ روپے زید کے قربانی کے نصاب میں شامل نہیں کریں گے، کیونکہ عقدِ اجارہ میں بطورِ ایڈوانس دی جانے والی رقم دینے والے کی مِلک نہیں رہتی بلکہ لینے والے کی مِلک ہوجاتی ہے اور وہ اس رقم میں ہر طرح کا مالکانہ تصرف کر سکتا ہے، تو جب یہ رقم دینے والی کی مِلک نہیں رہی تو وہ اس کے قربانی کے نصاب میں بھی شامل نہیں ہوگی، البتہ یہ رقم لینے والے کے قربانی کے نصاب میں شامل ہوگی۔ اس کی تائید فقہائے کرام کے بیان کردہ اس مسئلہ سے بھی ہوتی ہے کہ اگر کسی شخص نے عقدِ اجارہ میں ایڈوانس اُجرت دے دی، تو اس رقم کی زکوٰۃ دینے والے پر نہیں بلکہ لینے والے پر ہوگی۔

عقدِ اجارہ میں ایڈوانس اجرت ادا کردی گئی تو اجیراس رقم کا مالک ہوجاتا ہے، چنانچہ علامہ مَرْغِینانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593ھ / 1196ء) لکھتے ہیں: ”الأجرة لا تجب بالعقد و تستحق بأحد معان ثلاثة: اما بشرط التعجيل، أو بالتعجيل من غير شرط، أو باستيفاء المعقود عليه و إذا استوفى المنفعة يثبت الملك في الأجر لتحقق التسوية و كذا إذا شرط التعجيل أو عجل؛ لأن المساواة تثبت حقا له و قد أبطلہ“ ترجمہ: محض عقدِ اجارہ کرنے سے اجرت لازم نہیں ہوتی، (اجیر) اجرت کا مستحق تین اسباب میں سے کسی ایک کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (1) یا تو اجرت ایڈوانس دینے کی شرط لگا لی جائے۔ (2) یا بغیر شرط لگائے (مستاجر نےخود ہی) ایڈوانس اجرت دےدی۔ (3) یا جس چیز کا ایگریمنٹ ہوا ہے وہ پوری ہوجائے، تو جب منفعت مکمل ہوجائے، تو برابری کے پائے جانے کی وجہ سے اجرت میں (اجیر کی) ملکیت بھی ثابت ہوجاتی ہے۔ اسی طرح جب ایڈوانس اجرت دینے کی شرط لگائی، یا (مستاجر نے خود ہی) ایڈوانس اجرت دے دی، (تو بھی اجرت میں اجیر کی مِلکیت ثابت ہوجائے گی)، کیونکہ جو مساوات مستاجر کے لیے بطورِ حق ثابت ہوئی تھی، اس کو اس نے خود ہی باطل کر دیا ہے۔ (الھدایہ، کتاب الاجارات، باب الاجر متی يستحق، جلد 3، صفحہ 231، دار احیاء التراث العربی)

ایڈوانس دی گئی اجرت میں لینے والا شخص ہر طرح کا مالکانہ تصرف کر سکتا ہے، چنانچہ ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں: ”و ملك الآجر البدل حتى تجوز له هبته، و التصدق به، و الإبراء عنه، و الشراء، و الرهن، و الكفالة، و كل تصرف يملك البائع في الثمن في باب البيع“ ترجمہ: اور چیز کرائے پر دینے والا شخص اس بدل (اجرت) کا مالک بن جائے گا، یہاں تک کہ وہ رقم ہبہ کرنا، صدقہ کرنا، معاف کرنا، اس سے کوئی چیز خریدنا، گروی رکھنا، کفالت (وغیرہ) ہر وہ تصرف کر سکتا ہے، جو خرید و فروخت کے معاملہ میں چیز بیچنے والا رقم میں تصرف کر سکتا ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الاجارہ، جلد 4، صفحہ 204، دار الکتب العلمیہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: اجارہ میں اُجرت محض عقد سے مِلک میں داخل نہیں ہوتی یعنی عقد کرتے ہی اُجرت کا مطالبہ درست نہیں یعنی فوراً اُجرت دینا واجب نہیں اُجرت ملک میں آنے کی چند صورتیں ہیں: (1) اُس (مُستَاجِر) نے پہلے ہی سے عقد کرتے ہی اُجرت دیدی دوسرا (اجیر)اس کا مالک ہوگیا یعنی واپس لینے کا اُس کو حق نہیں ہے۔ (2) یا پیشگی لینا شرط کرلیا ہو، اب اُجرت کا مطالبہ پہلے ہی سے درست ہے۔ (3) یا منفعت کو حاصل کرلیا۔ (بھارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 109، 110، مکتبۃ المدینہ)

عقدِ اجارہ میں ایڈوانس اُجرت دے دی، تواس رقم کی زکوٰۃ لینے والے پر ہوگی، چنانچہ محقق علی الاطلاق، امام کمال الدین ابنِ ھُمَّام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 861ھ / 1456ء) لکھتےہیں: ”أما زكاة الأجرة المعجلة عن سنين فی الاجارة الطويلة التی يفعلها بعض الناس عقودا فتجب على الآجر لانہ ملكها بالقبض“ ترجمہ: بہرحال طویل اجارہ کرنے میں کئی سالوں کا جو کرایہ ایڈوانس دیا جائے، جیسا کہ بعض لوگ اس طرح کے ایگریمنٹس کرتے ہیں، تو اس رقم کی زکوٰۃ (چیز کے مالک) جس نے وہ چیز کرائے پر دی ہے، اس پر لازم ہوگی، کیونکہ رقم پر قبضہ کرنے کے ساتھ وہ اس کا مالک بن گیا۔ (فتح القدیر، کتاب الزکوٰۃ، جلد 2، صفحہ 167، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0273
تاریخ اجراء: 27 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 15 مئی 2026ء