ذبح کے وقت دل میں تکبیر پڑھنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
ذبح کے وقت دل میں تکبیرپڑھنے کی صورت میں گوشت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر اس شخص نے مرغی کو ذبح کرتے ہوئے جان بوجھ کر اللہ تعالی کانام نہ لیا، تو وہ مرغی حرام ہو گئی، یونہی اگر صرف دل میں اللہ پاک کانام لیا، تو بھی مرغی حرام ہو گئی، کہ کم ازکم اتنی آوازہوناضروری ہے کہ سماعت سے کوئی مانع نہ ہو، تو اپنے آپ کوآوازآسکے۔ البتہ! اگر اس نے جان بوجھ کر اللہ پاک کا نام نہیں چھوڑا، بلکہ وہ اللہ پاک کا نام لینا بھول گیا تھا، تو مرغی حلال ہے۔ لیکن سوال کی صورت سے ظاہریہ ہے کہ اس نے دل میں پڑھنے کو کافی سمجھا ہے، یعنی وہ تکبیرپڑھنابھولانہیں تھا، بلکہ اسے یاد تھا، لیکن اس نے جان بوجھ کرصرف دل میں پڑھی ہے، لہذا اگر واقعی یہی صورت تھی، تو مرغی حرام ہوگئی، اس کا گوشت کھانا حلال نہیں۔ فتاوى عالمگيری میں ہے و لا تحل ذبيحة تارك التسمية عمدا، و إن تركها ناسيا تحل ترجمہ: جان بوجھ کر تسمیہ چھوڑنے والے کا ذبیحہ حلال نہیں، البتہ! اگر بھولے سے چھوٹ گئی تو حلال ہے۔ (فتاوى عالمگيری، جلد 5، صفحہ 288، مطبوعہ: کوئٹہ)
مزید عالمگیری میں ہی ہے تصحيح الحروف أمر لا بد منه فإن صحح الحروف بلسانه و لم يسمع نفسه لا يجوز و به أخذ عامة المشايخ ۔ ۔ ۔ و هو الصحيح ۔ ۔ ۔ و على هذا نحو التسمية على الذبيحة ترجمہ: حروف کو صحیح مخارج کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص زبان سے حروف تو درست ادا کرے، لیکن خود اپنے کانوں سے اپنی آواز نہ سن سکے، تو یہ جائز نہیں۔ اسی قول کو جمہور مشائخ نے اختیار کیا ہے اور یہی صحیح قول ہے۔ اسی حکم پر ذبح کرتے وقت جانور پہ تسمیہ (بسم اللہ کہنا) بھی ہے (وہاں بھی صرف زبان ہلانا کافی نہیں، بلکہ اتنی آواز سے تسمیہ کہنا ضروری ہے کہ رکاوٹ نہ ہو ہونےکی صورت میں ذابح خود سن لے)۔(فتاوى عالمگيری، جلد 1، صفحہ 69، مطبوعہ: کوئٹہ)
صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ذبح سے جانور حلال ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں ۔ ۔ ۔ (۳) اللہ عزوجل کے نام کے ساتھ ذبح کرنا۔ ذبح کرنے کے وقت اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے کوئی نام ذکر کرے، جانور حلال ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ (۴)خود ذبح کرنے والا اللہ عز وجل کا نام اپنی زبان سے لے، اگر یہ خود خاموش رہا، دوسروں نے نام لیا اور اسے یاد بھی تھا، بھولا نہ تھا، تو جانور حرام ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 03، حصہ 15، صفحہ 313، 314، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں: ذبح کرنے میں قصداً (یعنی جان بوجھ کر) بسم اللہ نہ کہی، جانور حرام ہے اور اگر بھول کر ایسا ہوا، جیسا کہ بعض مرتبہ شکار کے ذبح میں جلدی ہوتی ہے اور جلدی میں بسم اللہ کہنا بھول جاتا ہے، اس صورت میں جانور حلال ہے۔ (بہارِ شریعت، حصہ 15، جلد 03، صفحہ 316، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ایک اور مقام پر صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: آہستہ پڑھنے میں بھی اتنا ہونا ضرور ہے کہ خود سنے، اگر حروف کی تصحیح تو کی مگر اِس قدر آہستہ کہ خود نہ سنا اور کوئی مانع (یعنی رکاوٹ) مثلاً شور و غُل یا ثقلِ سماعت (اونچا سننے کی بیماری) بھی نہیں، تو نماز نہ ہوئی۔ یوہیں جس جگہ کچھ پڑھنا یا کہنا مقرر کیا گیا ہے، اس سے یہی مقصد ہے کہ کم سے کم اتنا ہو کہ خود سن سکے، مثلاً طلاق دینے، آزاد کرنے، جانور ذبح کرنے میں۔ (بہار شریعت، حصہ 3، ج 1، ص 511، 512، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5236
تاریخ اجراء: 05 صفر المظفر 1448ھ / 20 جولائی 2026ء