مرحوم کی طرف سے کی گئی قربانی کے گوشت پر فاتحہ دینا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مرحوم کی طرف سے کی گئی قربانی کے گوشت پر فاتحہ دے کر لوگوں کا کھلانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ایک رشتہ دار کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے گھر والے ان کے ایصال ثواب کے لیے اپنے ذاتی پیسوں سے قربانی کر رہے ہیں، جبکہ انہوں نے قربانی کے لیے کوئی وصیت نہیں کی تھی، اب وہ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا ان کے گھر والے اس قربانی کے گوشت پر ختم دلوا کر لوگوں کو ایصال ثواب کے طور پر یہ گوشت کھلا سکتے ہیں ؟
جواب
میت کے ایصال ثواب کے لیے قربانی کی جائے، کہ جس کی میت نے وصیت نہیں کی تھی، تو اس کے گوشت پر ختم دلوا کر اسے میت کے ایصال ثواب کے طور پر لوگوں کو کھلانے یا تقسیم کرنے کی اجازت ہے، کیونکہ ایسی قربانی کے گوشت کا حکم عام قربانی کے گوشت کی طرح ہے، کہ چاہیں تو اس کے تین حصے کر لیں، یا سارا تقسیم کر دیں، یا پکا کر کھلا دیں، یا سارا گھر رکھ لیں وغیرہ، کہ یہ قربانی کرنے والوں کی ملک ہے۔ رد المحتار میں ہے "من ضحی عن المیت یصنع کما یصنع فی اضحیۃ نفسہ من التصدق والاکل والاجر للمیت والملک للذابح۔ قال الصدر: والمختار انہ ان بامر المیت لا یاکل منھا والا یاکل۔ بزازیۃ" ترجمہ: جس نے میت کی طرف سے قربانی کی تووہ اس کے متعلق ویسا کر سکتا ہے جیسے اپنی قربانی کے متعلق کر سکتا ہے یعنی صدقہ کرنا اور خود کھانا اور اس میں ثواب میت کے لیے ہے اور ملکیت ذبح کرنے والے کی ہے۔صدر شہید نے فرمایا: اور مختار یہ ہے کہ اگر یہ قربانی میت کے حکم پر کی تو اس میں سے نہ کھائے ورنہ کھا سکتا ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الاضحیۃ، ج 09، ص 540، مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے "میت کی طرف سے قربانی کی تو اوس کے گوشت کا بھی وہی حکم ہے کہ خود کھائے دوست احباب کو دے فقیروں کو دے یہ ضرور نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے کیوں کہ گوشت اس کی مِلک ہے یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور اگر میت نے کہہ دیا ہے کہ میری طرف سے قربانی کر دینا تو اس میں سے نہ کھائے بلکہ کل گوشت صدقہ کر دے۔" (بھار شریعت، ج 03، حصہ 15، ص 345، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-10769
تاریخ اجراء: 15 ذو الحجۃ 1442ھ/26 جولائی 2021ء