logo logo
AI Search

ٹوٹے سینگ والے بکرے کی قربانی جائز ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

جس جانور کا سینگ ٹوٹا ہو، اس کی قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

قربانی کے جانور کے سینگ کا اگر کچھ حصہ ٹوٹ جائے تو اس کی قربا نی جائز ہے، البتہ اگر سینگ جڑ سے ٹوٹ جائے اور اس کا زخم بھی بھرا نہ ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ لہذا جس بکرے کے دونوں سینگ آدھے آدھے ٹوٹے ہوئے ہوں، اور اس میں کوئی اور عیب بھی نہ ہو تو اس کی قربانی ہو جائے گی، البتہ مستحب یہ ہے کہ قربانی کا جانور اتنے عیب سے بھی خالی ہو۔

چنانچہ در مختار اور اس کی شرح رد المحتار میں ہے: (و یضحی بالجماء) ھی التی لاقرن لھا خلقۃ و کذاالعظماءالتی ذھب بعض قرنھا بالکسر فان بلغ الکسر الی المخ لم یجز۔ ۔ ۔ و المستحب ان یکون سلیما عن العیوب الظاھرۃ‘‘ ترجمہ: جس جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہوں اس کی قربانی کرسکتا ہے اسی طرح وہ جانور جس کے سینگ کا کچھ حصہ ٹوٹ چکا ہو (اس کی قربانی بھی جائزہے) اور اگر وہ جڑ تک ٹوٹ چکا ہے تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ (مزید فرمایا) اور مستحب یہ ہے کہ قربانی کا جانور ظاہری عیوب سے خالی ہو۔ (رد المحتار شرح در مختار، جلد 9، صفحہ 535، مطبوعہ کوئٹہ)

اسی طرح عالمگیری میں ہے: و یجوز بالجماء التی لا قرن لھا و کذا مکسورۃ القرن۔‘‘ ترجمہ: جس جانور کے (پیدائشی) سینگ نہ ہوں اس کی قربانی جائز ہے اسی طرح جس جانور کے سینگ کا کچھ حصہ ٹوٹا ہوا ہو (اس کی قربانی بھی جائز ہے)۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 5، صفحہ297، مطبوعہ کوئٹہ)

اعلی حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: سینگ ٹوٹنا اس وقت قربانی سے مانع ہوتاہے جبکہ سر کے اندر جڑ تک ٹوٹے۔ اگر اوپر کا حصہ ٹوٹ جائے تو مانع نہیں۔ ۔ ۔ او رپھر اگر ایسا ہی ٹوٹا تھا کہ مانع ہوتا، مگر اب زخم بھر گیا، عیب جاتا رہا تو حرج نہیں لان المانع قد زال و ھذا ظاھر (کیونکہ مانع جاتا رہا، اور یہ ظاہر ہے۔ ت) (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 260، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے: قربانی کے جانورکو عیب سے خالی ہونا چاہیے اور تھوڑا سا عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہوگی اور زیادہ عیب ہو تو ہوگی ہی نہیں۔ جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں اس کی قربانی جائز ہے اور اگر سینگ تھے مگر ٹوٹ گیا اور مینگ (جڑ) تک ٹوٹا ہے تو ناجائز ہے اس سے کم ٹوٹا ہے تو جائز ہے۔ (بھار شریعت جلد 3 حصہ 15 صفحہ، 340 مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری 
فتویٰ نمبر: FMD-4859
تاریخ اجراء: 06 ذیقعدہ 1447ھ / 24 اپریل 2026ء